دنیا کا بوجھ سر پہ اٹھاتے ہیں رات دن

احمد علی برقیؔ اعظمی

مزدوری کرکے خون جلاتے ہیں رات دن
’’دنیا کا بوجھ سر پہ اٹھاتے ہیں رات دن‘‘

پڑھنا تھا گرچہ ہم کو کماتے ہیں رات دن
وہ سبز باغ ہم کو دکھاتے ہیں رات دن

ہم ٹھہرے پا برہنہ جو بچے کسان کے
خود بھوکے رہ کے سب کو کھلاتے ہیں رات دن

وہ دیکھ لیتے کاش ہماری بھی زندگی
اپنے لئے جو شور مچاتے ہیں رات دن

بچے ہیں باغباں کے کسی اور کے نہیں
گلشن میں گُل نئے جو کھلاتے ہیں رات دن

مالک بنایا ہم نے جنھیں تخت و تاج کا
وہ ہم پہ اپنا رعب جماتے ہیں رات دن

کل آئے گا ہمارا بھی آج ان کا وقت ہے
جو انگلیوں پہ ہم کو نچاتے ہیں رات دن

برقی کا کوئی راگ بھی سن لیتے کاش وہ
ڈفلی جو اپنی آپ بچاتے ہیں رات دن



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

ایک تبصرہ

  1. وشمہ خان وشمہ

    بے شک طرحی مشاعرے کے بادشاہ ہے۔ماشااللہ احمد برقی ساحب کے اشعار مین ہر رنگ پایا جاتا ہے
    آپ کی شاعری کا۔
    آپ کے کلام میں حسن اور دلکشی کے ساتھ ساتھ ادب کی چاشنی بھی ملتی ہے اور تکنیکی اعتبار سے بھی بہترین معیار ہوتا ہے بہت ہی شاندار دل کو چھو لینے والی غزلین جس کا ہر شعر کمال کا ہے۔آپ جب بھی لکھتے ہیں غضب کا لکھتے ہین سلامت رہین خوش رہین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے