دو سو سالہ جشن سرسید کی مناسبت سے منظوم خراج عقیدت

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ  اعظمی

قوم کے رہنما تھے سرسید

فخر دانشوراں تھے سرسید

خود میں اک انجمن تھی اُن کی ذات

شمعِ اردو زباں تھے سرسید

جس سے ہے ضوفشاں جہانِ ادب

ایسی اک کہکشاں تھے سرسید

پھونک کر روحِ زندگی اس میں

جسمِ ملت کی جاں تھے سرسید

وہ علی گڈھ ہو یا کہ غازیپور

ان کی روحِ رواں تھے سرسید

ہے رواں اُن کا ’’ چشمۂ رحمت ‘‘

ایک مدت جہاں تھے سرسید

اب بھی ہے جو رواں دواں ہرسو

ایسا اک کارواں تھے سرسید

اُن کو مانیں نہ مانیں بھارت رتن

شانِ ہندوستاں تھے سرسید

ویسے ہی ضوفشاں ہیں وہ برقیؔ

جس طرح ضوفشاں تھے سرسید



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے