ادبشخصیات

راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری

راجندر سنگھ بیدی نے یکم ستمبر 1915 کو لاہور میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد کا نام سردار ہیرا سنگھ تھا۔ بیدی نے اپنا افسانوی سفر ’’بھولا‘‘ سے شروع کیا، جو 1936ء میں شائع ہوکر مقبول عام ہوا، ا ور اب جب کہ بیدی کا افسانوی سرمایہ ’دانہ و دوام‘ (1936)’گرہن‘ (1944)’کوکھ جلی‘ (1949)’اپنے دکھ مجھے دے دو‘ (1965)’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘ (1974)اور’ مکتی بودھ‘ (1983)جیسے افسانوی مجموعے کے ذریعہ کل 66 افسانے ہمارے سامنے آچکے ہیں تو ہم انھیں دیکھ کر اس بات کو شدّت سے محسوس کرتے ہیں کہ بیدی نے اپنے افسانوں سے اردو افسانوی ادب کو ہی صرف قابل قدر ہی نہیں بنایا، بلکہ اس صنف ادب کواپنے فکر و فن سے اس قابل بھی بنایا کہ ہم مغرب کی ترقی یافتہ زبانوں کے افسانوں کی صف میں اردو افسانے کو رکھ سکیں۔

افسانہ در حقیقت اظہار خیال کے ایک مخصوص فن کا نام ہے، اس کی تشکیل و ترتیب میں موضوع، مواد اور فکر و خیال کے ساتھ فنّی حسن کا ہونا لازمی ہے اور ان سارے عناصر کو بیدیؔ نے اپنے افسانے میں فنکارانہ طور پر پیش کیا ہے۔ موضوع اور فن دونوں بیدی کی تخلیقات میں جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس امر کا اعتراف خود راجندر سنگھ بیدی نے اپنے افسانوی مجموعہ ’’ گرہن ‘‘کے پیش لفظ میں اس طرح کیا ہے:

’’مجھے تخیّل فن پر یقین ہے۔ جب کوئی واقعہ مشاہدے میں آتا ہے، تو میں من و عن بیان کردینے کی کوشش نہیں کرتا۔ بلکہ حقیقت اور تخیّل کے امتزاج سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اسے احاطۂ تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ‘‘

اس ضمن میں میرا خیال یہ ہے کہ برسوں قبل کے اس اظہار پر بیدیؔ برابر عمل پیرا رہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر ادیب اپنے احساس کو موضوع بناتا ہے اور اسے فن کی بھٹی میں تپا کر جو چیز پیدا کرتا ہے وہی شعوری ادراک کہلاتا ہے۔ یہ ادراک فن کار اپنی تخلیقات میں منفرد ڈھنگ سے پیش کرتا ہے، اور یہی وہ صفت فن ہے جس کی بنا پر کسی بھی فن کار کااس کی تخلیقات سے موازنہ مشکل کام ہے۔ اس لئے بعض حضرات کا یہ خیال کہ بیدی، کرشن چندر سے بڑا فن کار ہے یا کرشن چندر بیدی سے بڑا افسانہ نگار ہے، بالکل غلط ہے۔ موضوع اور فن کے تعلق سے ہر فن کار کا اپنا اپنا نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ جسے وہ رموز زندگی کے مطالعے و مشاہدے کے بعد اپنی تخلیقات میں پیش کرتا ہے۔ ساتھ ہی زندگی کی سخت دھوپ اور نامساعد حالات میں جو تجربات اسے حاصل ہوتے ہیں ان کے اثرات بھی فن کار کے فن پر پڑنا لازمی امر ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اپنے ایک مقالہ ’’بیدی کے فن کے استعاراتی اور اساطیر کی جڑیں ‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ……
’’ بیدی کا اسلوب پیچیدہ اور گمبھیر ہے ان کے استعارے اکہرے یا دوہرے نہیں، پہلو دار ہوتے ہیں۔ ان کے مرکزی کردار اکثرو بیشتر Multidimensionalہوتے ہیں جن کا ایک رخ آفاقی اور دوسرا آفاقی و ازلی۔ Archetypalہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی تعمیر کاری میں وقت اور مقام کی روایتی منطق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ان کے نفسیات میں انسان کی صدیوں کے سوچنے کے عمل کی پرچھائی پڑتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ایسے میں وقت کا موجودہ لمحہ صدیوں کے تسلسل میں تحلیل ہوجاتا ہے اور چھوٹا سا گھر پوری کائنات بن کر سامنے آتا ہے۔ بیدی جس عورت اور مرد کا ذکر کرتے ہیں وہ صرف آج کی عورت اور آج کا مرد نہیں، بلکہ اس میں وہ عورت اور مرد شامل ہے جو لاکھوں سال سے اس زمین کے دکھ جھیل رہے ہیں اور اس کی نعمتوں سے لذت یاب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ‘‘

اگر بیدی کے تمام افسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کے افسانے کا موضوع بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ جذباتی، نفسیاتی، معاشرتی اور سماجی گتھیوں کو بیدی الگ الگ اپنے انداز سے سلجھاتے ہیں۔ کردار کی انفرادیت میں گہری جذباتیت سموکر ایک نئے اور تیکھے انداز میں جس طرح وہ پیش کرتے ہیں، وہ صرف اور صرف بیدی کا حصّہ ہے۔ افسانے میں فلسفیانہ انداز وہ بلا ضرورت نہیں استعمال کرتے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ موضوع ہی ان کا محور ہوتا ہے، جس کے گرد ان کے افسانے فنکارانہ انداز میں رقص کرتے ہیں۔

وہ بڈھا، گرہن، غلامی، معاون اور میں، ہم دوش،وٹامن، چھوکری کی لوٹ، صرف ایک سگریٹ، متھن، تعطل، جوگیا، یوکلپٹس، دیوالہ، بکنی، ٹرمینس سے پرے، سونفیا، کلیانی، آئینے کے سامنے، لاجونتی، باری کا بخار، لمبی لڑکی، ببل،گرم کوٹ، پان شاپ، تلادان، من کی من میں، چشم بددور، اپنے دکھ مجھے دے دو، جنازہ کہاں ہے، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے، وغیرہ افسانوں کا، موضوع کے لحاظ سے ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، کوئی ربط نہیں کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ سب کا مواد، ہیئت اور موضوع بالکل مختلف اور منفرد ہے۔

افسانہ ’’متھن ‘‘ کے سلسلے میں لوگوں نے بیدی کو فحش افسانہ نگار قرار دیا تھا۔ حالانکہ اس میں بیدی نے ہمارے سماج کی ایک تلخ حقیقت کو افسانوی پیرایۂ میں پیش کیا ہے۔ یہ افسانہ حقیقتاً ایک آرٹسٹ کی زندگی کے دردو کرب کو پوری طرح اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

’’جنازہ کہاں ہے‘‘ ایک شاہکار نفسیاتی افسانہ ہے۔ اس میں مزدوروں کی غم سے نڈھال مایوس اور تھکن سے چور زندگی کی المناکی کوبڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مزدور جب، مزدوری کراپنے کام سے لوٹتے ہیں تو ان کے چہرے پر اتنا دردو کرب اور تھکن ہوتی ہے کہ ایک حسّاس انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ مزدور کسی جنازے کو سپرد خاک کرنے جا رہے ہیں۔

طوائفوں کے موضوع پر بے شمار افسانے لکھے گئے ہیں۔ لیکن بیدی نے اپنے افسانہ ’’کلیانی‘‘ میں جو چیز عام روش سے ہٹ کر دکھائی ہے، وہ ہے طوائفوں کی شرم و حیا اور ممتا و پیار کا جذبہ۔

افسانہ’’تعطل‘‘ میں کشمیریوں کی زندگی کے المیہ کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، جہا ں خوبصورت پس منظر رکھنے کے باوجود وہاں کے لوگوں کی غربت نے انہیں بالکل نچلی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

متوسط طبقے کی معاشی زبوں حالی اور تنگ دستی سے خاندان میں پیدا ہونے والی حسرتوں کو افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ میں بڑی فنکاری سے بیدی نے افسانوی شکل میں سمویا ہے۔ اس افسانے میں انسانی حسرتوں اور مایوسیوں کے ساتھ ساتھ امید و یاس کے بنتے مٹتے گھروندے کی حقیقی ترجمانی کی گئی ہے۔ اس افسانہ کو پڑھنے کے بعد بے اختیار مشہور روسی افسانہ "The Coat”یاد آتا ہے۔

’’وہ بڈھا ‘‘ بھی بیدی کے شاہکار افسانوں میں ایک ہے۔ اسے دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ زبان کے افسانے کی صف میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس افسانہ میں ہر وہ احساس اُجاگر نظر آتا ہے، جو آج کی زندگی کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس افسانہ میں بیدی نے واقعات کے ساتھ ساتھ اس طرح فنّی بالیدگی بخشی ہے کہ حقیقت کا پرتو جھلکتا ہے۔

’’اپنے دکھ مجھے دیدو‘‘ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو دو حصّے میں منقسم ہے۔ ایک جانب وہ بھابھی اور بہو ہے، تو دوسری طرف اسے ایک بیوی کا بھی فرض نبھانا ہے۔ اس کشمکش بھری کہانی کو بڑے خوبصورت اور حسین پیرائے میں بیدی نے پیش کیا ہے۔ اس افسانہ کو بیدی نے اپنی سوانح کے طور پر سامنے لایا ہے۔

افسانہ’’وٹامن‘‘ میں غربت اور افلاس سے دبی کچلی مزدور طبقے کی عورتیں، کس طرح اونچے اور بڑے طبقے کے افراد کی ہوس کا نشانہ بننے پر مجبور ہوتی ہیں، انہیں تمام تر فنّی لوازمات کے ساتھ افسانوی آفاقیت بخشی ہے۔ ’’ہم دوش ‘‘ میں مایوس انسان کے جذبات کی بھر پور عکاسی موجودہے۔

ہندو سماج میں عورت کی مظلومیت اور بے بسی کا موثر نقشہ ’’گرہن‘‘ میں نظر آتا ہے۔ افسانہ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘ مذہب کے ان ٹھیکہ داروں پر بھر پور طنز ہے جو مذہب کو اپنی میراث تصور کرتے ہیں۔ اس خیال کو بڑے نفسیاتی اور فنکارانہ طور پر بیدی نے اس افسانہ میں پیش کیا ہے۔

ان تمام مشہور و معروف افسانوں کے علاوہ دوسرے افسانوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیدی نے زندگی کے گہرے مشاہدے اور انسانی خواہشات و جذبات کے بے شمار ہلکے اور گہرے رنگوں سے اپنی کہانیوں کو سجایا و سنوارا ہے۔ ساتھ ہی انسانی شخصیت کے انفرادی مسائل اور اجتماعی زندگی کے بے شمار پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔

راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں جو عنصر بہت زیادہ نمایاں ہے، وہ غم اور جنسیات (Sex)ہے۔ ان عناصر کی پیچیدگیوں سے بھرے حالات کو بڑی چابکدستی سے بیدی، اپنے افسانوں میں پیش کرتے ہیں اور ان کی ایسی پیش کش میں سب سے بڑی خوبی یا وصف یہ ہوتا ہے کہ ایسی باتوں کا اظہار وہ کھلے لفظوں میں قطعی نہیں کرتے بلکہ اشارے و کنائے میں اپنے مخصوص لب و لہجہ اور اسلوب میں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ میرا کاروبار پہلے ہی سے مندا ہے، ا گر اندوؔ کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ ہی سے باہر ہوتو پھر کیا ہوگا ؟لیکن اندوؔ نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کواپنے ملائم ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے اور ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا___’’تم اپنے دکھ مجھے دیدو‘‘(اپنے دکھ مجھے دیدو)

مندرجہ بالا اقتباس سے مدن کا غم ظاہر ہوتا ہے۔ مدن اندوؔ کو اپنی چاہت سے بھی بہت زیادہ چاہتا ہے اور اپنا سب کچھ اُسے دینے کو تیار رہتا ہے، لیکن اس وقت جب اندوؔ مدن سے ایک چیز مانگتی ہے، تو اُسے اپنی مفلسی کا احساس شدت سے ہوتا ہے اور وہ سوچنے لگتا ہے اگر اندو نے کوئی قیمتی شئ طلب کرلی تو کیا ہوگا۔ یہ احساس حقیقتاً ایک بڑا المیہ بن کر سامنے آتا ہے، جو ہیرو کی تمنّاؤں اور آرزوؤں پر ضرب کاری لگا نے کے لئے کافی ہے۔

جنس بیدی کا بڑا اہم موضوع ہے۔ اس سلسلے میں دو اقتباس پیش ہیں۔ جن میں جنس کی تیز آنچ کو شدّت سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔

’’زمین کی یہ بیٹیاں مرد کو تو یوں سمجھتی ہیں جیسے بادل کا ٹکڑا ہے۔ جس کی طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ ‘‘

’’ ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بیت چکے تھے پہلی رات کے بارے میں ان کے شریر شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کی گونج تک ان کے کانوں میں باقی نہ رہی تھی۔ ‘‘(اپنے دکھ مجھے دیدو)

راجندر سنگھ بیدی کو کسی بھی ازم سے وابستہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ نہ تو ترقی پسند ہیں اور نہ جدیدیت کے علمبردار۔ ہاں ! ابتدا میں بیدی کسی حد تک ترقی پسند ضرور تھے، لیکن آہستہ آہستہ وہ اس قیدو بند سے بھی آزاد ہوگئے۔ وہ کسی بھی ازم، رجحان یا تحریک کا لبادہ اوڑھنا فن کی بد دیانتی تصور کرتے ہیں۔ بلکہ آزادانہ طور پر زندگی کے حقائق کو پیش کرنے کے قائل ہیں۔

ہاں،یہ ضرور ہے کہ بیدی ‘ پریم چند کے بعد اگر کسی سے متاثر ہیں تو وہ ڈی ایچ لارنس اور موپاساں وغیرہ ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی کہانیاں زندگی کے بہت قریب ہیں۔ چیخف کا اثر بھی انہوں نے بہت زیادہ قبول کیا ہے۔ اس کی وجہ خودبیدی بتاتے ہیں کہ :

’’ اس کے یہاں افسانہ کہنے کی کوشش کہیں نہیں دکھائی دیتی۔ وہ زندگی کی باتیں کرتاہے اور زندگی کا ایک ایک ٹکڑا یوں کرکے آپ کے سامنے رکھتا ہے۔ ‘‘

بیدی کے افسانوں میں بہت ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ چند خامیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور یہ خامیاں ہیں، ان کی زبان کا استعمال۔ بیدی اپنے افسانوں میں کہیں کہیں ایسی زبان استعمال کرجاتے ہیں، جن سے ہم قطعی ناواقف ہوتے ہیں۔ سخت پنجابیت بھی بعض جگہ ان کے افسانوں کی زبان کو مجروح کرتی ہے۔ ممکن ہے اس سلسلے میں بیدی کی یہ دلیل ہو کہ ماحول کے اعتبار سے زبان کا استعمال ضروری ہے، تو یہ امر قابل قبول ہے۔ لیکن کہیں کہیں وہ اپنے کردار سے ایسی باتیں بھی کہلواتے ہیں ‘ جیسے :

’’ کیا جندگی کا مجا نہیں ؟ اندو نے صدمہ زدہ لہجے میں کہا۔ ‘‘

’’ مرد عورت شادی کس لئے کرتے ہیں ……… پھر اندو کہتی ہے۔

’’میں پورا لٹیرا ہوں، تم نہیں جانتے ؟ سخی اور لٹیرا جو ایک ہاتھ سے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریب گربا کو دیتا ہے۔ ‘‘
اندو کچھ دیر چپ رہی اور پھر اپنا منہ پرے کرتے ہوئے بولی’’ اپنی لاج …… اپنی خوشی….. اس وقت تم بھی کہہ دیتے………‘‘(اپنے دکھ مجھے دیدو)

مندرجہ بالا جملے کی ادائیگی ’’اپنے دکھ مجھے دیدو‘‘ کی ہیروئن اندو کی زبان سے ہوتی ہے۔ اندو ’’شادی ‘‘اور ’’خوشی‘‘ اور ’’وقت‘‘ جیسے الفاظ ادا کرتی ہے اور پھر اس کی زبان سے ’’جندگی‘‘’’ مجا‘‘ اور ’’گریب گربا‘‘ جیسے الفاظ بھی نکلتے ہیں۔ حیرت ہے بیدی جیسے بڑے افسانہ نگار سے اتنی بڑی غلطیاں کیسے سرزد ہوئیں۔

ان چند خامیوں کو نظر انداز کردیا جائے تو مجموعی طور پر بیدی کے افسانوں کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ بیدی بقول سعادت حسن منٹو، لکھنے سے پہلے سوچتے ہیں اور لکھنے کے بعد سوچتے ہیں، جس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بیدی کے افسانوں میں فنّی پہلو داری، نفسیاتی گہرائی اور سماجی تقاضوں کی گہرائیاں ہوتی ہیں، اس لئے انہیں جتنی بار پڑھا جائے، معنویت، تحیر اور فکر و فن کے نئے نئے جہات سامنے آتے ہیں۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close