ادبغزل

راہ تکتی ہے تری، میری نظر شام کے بعد

احمد کمال حشمی

راہ تکتی ہے تری، میری نظر شام کے بعد
اور ہوجاتی ہے پھر چشم یہ تر شام کے بعد

اجنبی لگتے ہیں دیواربھی در بھی چھت بھی
میرا گھر لگتا نہیں ہے مرا گھر شام کے بعد

اک سفر ختم سرِ شام ہوا کرتا ہے
اور ہوتا ہے شروع ایک سفر شام کے بعد

تُو کہیں کل کی طرح آج نہیں آیا تو؟
لگنے لگتا ہے مرے دل کو یہ ڈر شام کے بعد

شام کے بعد جدھر جاتے تہے ہم دونوں کبھی
اب اکیلے نہیں جاتا ہوں اُدھر شام کے بعد

صبح ہوتے ہی میں جی اٹھتا ہوں یہ بات الگ
یہ مگر سچ ہے کہ میں جاتا ہوں مر شام کے بعد

ہم سے مت پوچھ، سبب ہم نہ بتا پائیں گے
کیوں نکل جاتے ہیں ہم چھوڑ کے گھر شام کے بعد

ابھی کچھ دیر رکوں اور کہ گھر جاؤں کماؔل
سوچتا ہوں میں سرِ راہ گزر شام کے بعد

مزید دکھائیں

احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی مغربی بنگال کے مشہور و معروف شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اربابِ نظر سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ’سفر مقدر ہے‘، ’ردعمل‘، ’آدھی غزلیں‘، ’چاند ستارے جگنو پھول‘ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال اور بہار اردو اکادمیوں سمیت مختلف ادبی اداروں سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ احمد کمال حشمی ادب کی بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں، مختلف ادبی اداروں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اس کے علاوہ نئے ادیبوں اور شاعروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کروانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف حکومت مغربی بنگال کے محکمہ اراضی میں افسر ہیں اور ان دنوں کولکاتا میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close