راہ خدا میں ہے جو شہادت حسین کی

احمد علی برقیؔ اعظمی

ہے زندگی کی ایک علامت حسین کی

’’ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ‘‘

ہے فرض اہلِ دل پہ اطاعت حسین کی

جب تک رہیں گے برسرِ پیکار خیر و شر

زندہ رہے گی یونہی روایت حسین کی

گُل کر سکے گا اس کو نہ طوفانِ گردباد

روشن رہے گی شمعِ ہدایت حسین کی

کیوں اقتدا نہ ان کی کریں اُن کے مقتدی

تاریخ ساز ہے جو امامت حسین کی

تھے سربسجدہ رزم میں جب سر قلم ہوا

واللہ کیا تھی شانِ عبادت حسین کی

سنت پہ کاربند تھے شیر خدا کی وہ

تاریخ میں ہے درج شہادت حسین کی

جب جب یزید ِ وقت اُٹھاتا رہے گا سر

ہر دور میں رہے گی ضرورت حسین کی

جو زندگی میں اس کو سمجھتے ہیں فرضِ عین

کرتے رہیں گے یونہی وہ  مِدحت حسین کی

شیرازۂ حیات کا برقیؔ کے ہے وہ جُز

ہے نقش لوحِ دل پہ محبت حسین کی



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے