روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج: افتخار راغبؔ

فوزیہ ربابؔ

اے دل گر اس کے حُسن پہ کرنی ہے گفتگو

حدِّ جمالیات سے آگے کی سوچنا

 بالعموم بہت کم شعر ایسے ہوتے ہیں جو پڑھتے ہی قاری کے ذہن پر نقش ہو جائیں اور ضرب المثل بننے کی خصوصیت رکھتے ہوں ۔ اس بھیڑ میں چند شعراء ہی ایسے ہیں جنھوں نے اپنی محنت لگن اور دیانتداری سے وادیِ سخن میں اپنا جداگانہ مقام پیدا کیا ہے۔ انھیں میں ایک افتخار راغبؔ صاحب ہیں جن کے زیادہ تر اشعار تاثر اور تاثیر سے لبریز ہیں :

دھیان اپنی جگہ نہیں راغبؔ

لکھ دیا کس کا نام اپنی جگہ

اس نے یوں آج شب بخیر کہا

صبح تک خیریت نہیں میری

جی تو کرتا ہے اپنے لب سی لوں

تم کو کہہ کر کبھی خدا حافظ

مرے خدا مجھے اپنی امان میں رکھنا

پھر اس نے ہاتھ بڑھایا ہے دوستی کے لیے

 افتخار راغبؔ صاحب کی شاعری روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج ہے۔ یعنی ان کے یہاں ملیح روایات کی پاسداری بھی ہے اور جدّت کی شیرینی بھی، نازک احساسات و جذبات بھی ہیں تلخی و ترشی بھی، حزن و یاس کی کیفیت بھی ہے مگر فرحت و شادمانی کا جذبہ اس پر غالب ہے۔ غالبؔ سی پرکاری و زبان و بیان کے دروبست میں تخلیقی شان ہے تو میرؔ کی سادگی و سلاست حزن و یاس کے ساتھ اثر انگیزی بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ کہتے ہیں اچھے شعر کی خوبی یہ ہے کہ اسے پڑھ کر بے ساختہ  آہ  یا  واہ  نکل جائے۔ یہ کیفیت راغبؔ صاحب کی شاعری میں بہت نمایاں طور پرموجود ہے مگر غور کرنے پر معنی و مفہوم کے نئے در  وا  ہوتے جاتے ہیں :

ساری دنیا کو ہرانے والی

ایک درویش سے ہاری دنیا

خوش بیاں تجھ سے زیادہ کون ہے

چپ یہاں تجھ سے زیادہ کون ہے

کیا کہوں راغبؔ ترے بارے میں اب

خوش گماں تجھ سے زیادہ کون ہے

خواہشِ ناتمام سے تکلیف

دل کو ہے دل کے کام سے تکلیف

ـماتم پُرسی مت کر اے منھ زور ہَوا

کتنے پتّے ٹوٹے اب تعداد نہ گِن

افتخار راغبؔ کی شاعری حیات و کائنات کا مربوط و منضبط فلسفہ بیان کرتی ہے۔ ان کی شاعری ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے ان کا عزم ِمصمم نیز مستقل مزاجی ان کی شاعری میں بھی خوب نظر آتی ہے۔ حکیمانہ افکار کو فلسفیانہ انداز میں بیان کرنے کے گرُ سے افتخار راغبؔ بخوبی واقف ہیں :

روک دے پرواز میری، کاٹ دے صیّاد پر

توٗ مجھے مجبور کر سکتا نہیں فریاد پر

ہم کو بس اک ذات سے امّید ہے اور کچھ نہیں

آپ کو تکیہ ہے اپنی طاقت و تعداد پر

امن کی ہر ہاتھ میں قندیل ہو

روشنی میں روشنی تحلیل ہو

مجھے تھا رہنا سدا اپنی بات پر قائم

میں سنگِ میل ہوا گردِ کارواں نہ ہوا

مشکلیں لاکھ راہِ شوق میں ہوں

شوقِ منزل سنبھال کر رکھنا

ہم ہیں قائم اصول پر اپنے

گردشِ صبح و شام اپنی جگہ

علم والوں کو علم ہے راغبؔ

دولتِ جہل آگہی سے ملے

مچھلی کیسے رہتی ہے پانی کے بِن

حال سے میرے خوب ہیں وہ واقف لیکن

          یہاں ایک لفظ ’’لیکن‘‘ سے شعر میں جو تاثیر اور کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کو بس محسوس کیا جا سکتا ہے بیان نہیں ۔

 راغبؔ صاحب کی شاعری میں عمدہ تراکیب، خوبصورت استعاراتی زبان، بے ساختگی کے ساتھ ساتھ مشکل و منفرد ردیفوں میں بھی بڑے عمدہ اشعار ملتے ہیں ۔ ان کی پوری شاعری پر نظر ڈالی جائے تو نئی زمینوں کی بہتات نظر آتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو فقرہ یا لفظ ان کو پسند آجائے اسے ردیف بنا کر شاہ کار غزل کہنے پر ان کو دسترس حاصل ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے پر عام طور سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افتخار راغب ؔچھوٹی بحر کے بڑے شاعر ہیں لیکن اس کتاب میں بڑی بحروں میں جو غزلیں نظر نواز ہوئیں ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بڑی بحروں پر بھی آپ کو عبور حاصل ہے :

کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

میری شرحِ خواہش و جذبات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

اے غزل بے قرار رہتا ہوں صرف تجھ پر نثار رہتا ہوں

تجھ پہ راغبؔ مری طبیعت ہے چین آئے تو کس طرح آئے

چھپ چھپ کر دل کیوں روتا ہے کیا عالم وحشت ہوتا ہے

رہ رہ کر جی گھبرائے گا، تب بات سمجھ میں آئے گی

اچھا لگتا ہے تم کو اگر کھیلنا میرے جذبات سے

کچھ نہ بولوں گا میں عمر بھر کھیلنا میرے جذبات سے

گجرات کی طرح ہوں میں ، مجھ کو بھی غم گسار دو

کس کو بتائوں کس طرح گزرا تھا دو ہزار دو

اُس نے کہا تھا ایک شب ’’تم نے مجھے بدل دیا‘‘

کیسے کہوں میں اُس سے اب تم نے مجھے بدل دیا

 افتخار راغبؔ کی شاعری میں میریت کا عنصر نمایاں ہے۔ سادگی، سلاست، مضامین کا تنوع غرض یہ کہ تاثر اور تاثیر سے مملو آپ کی بیشتر غزلیں شاہ کار تخلیق ہیں ۔آپ کی شاعری جذباتِ زندگی و عصرِ حاضر کی عکّاسی کرتی ہے۔ نیز سادگی و اصلاحِ زبان و بیان کے تو کیا کہنے۔ یہ عنصر میں نے موجودہ دور کے شعراء میں بہت کم پایا ہے:

یوں ہی رہنے لگی ہے وحشت سی

کوئی آفت نہیں محبت سی

آ محبت سے آ سکون سے رہ

دل ہے مسکن ترا سکون سے رہ

سبز پتّو ڈرو ہوائوں سے

میں تو ٹوٹا ہوا ہوں میرا کیا

لیجیے اور امتحان مرا

اور ہونا ہے کامیاب مجھے

لے کے نکلے ہو دور بین کہاں

اُن کے جیسا کوئی حسین کہاں

 ایک خاص بات جو میں نے آپ کی شاعری میں محسوس کی وہ یہ کہ آپ کی شاعری میں حساسیت تو بدرجہ اتم موجود ہے مگر اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ احساس اور جنون کے درمیان جو ایک غیر مرئی لکیر ہے اس سے آپ خوب شناسا ہیں :

تمھاری مسکراہٹ کھینچتی ہے

تبسّم کی لکیریں جسم و جاں میں

دل کے دو حرفوں جیسے ہی ایک ہیں ہم

اک متحرک ہر لمحہ اور اک ساکن

پوچھا گیا تمھارے تعلق سے کچھ اگر

تم ہاں اُسے سمجھنا میں بولوں اگر نہیں

میں افتخار راغبؔ صاحب کے تینوں مجموعہ ہائے غزلیات ’’لفظوں میں احساس‘‘ ، ’’خیال چہرہ‘‘ اور ’’غزل درخت‘‘ پڑھ چکی ہوں اور چوتھا مجموعہ "یعنی تو” کے مسودے کا بھی  میں نے بغور مطالعہ کر لیا ہے۔ لہٰذا یقین کامل ہے کہ راغبؔ صاحب جس قسم کی شاعری کررہے ہیں یہ ادب کا بیش قیمتی اثاثہ ثابت ہوگی۔آپ کی بیشتر غزلیں اور اشعار دل کو چھو گئے۔ اب کیا کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں کہ وقت کم ہے اور گفتگو طویل ہوتی جارہی ہے ۔ راغبؔ صاحب کو صمیم ِقلب سے مبارکباد پیش کرتی ہوں اور آخر میں اب ملاحظہ فرمائیں وہ غزل جو اس مکمل کتاب کی وجہ ِتخلیق بنی ہے جسے پڑھتے ہی بالیقین آپ بھی مسحور ہو جائیں گے۔ آپ غزل کا لطف لیجیے اور مجھے دیجیے اجازت کہ پھر ملیں گے اگر خدا لایا:

پیکرِ مہر و وفا روحِ غزل یعنی توٗ

مِل گیا عشق کو اِک حُسن محل یعنی توٗ

شہرِ خوباں میں کہاں سہل تھا دل پر قابوٗ

مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل یعنی توٗ

غمِ دل ہو غمِ جاناں کہ غمِ دوراں ہو

سب مسائل کا مِرے ایک ہی حل یعنی توٗ

گنگناتے ہی جسے روح مچل اُٹھتی ہے

میرے لب پر ہے ہمیشہ وہ غزل یعنی توٗ

دفعتاً چھیڑ کے خود تارِ ربابِ الفت

میرے اندر کوئی جاتا ہے مچل یعنی توٗ

ڈھونڈ کر لائوں کوئی تجھ سا کہاں سے آخر

ایک ہی شخص ہے بس تیرا بدل یعنی توٗ

پیاس کی زد میں محبت کا شجر یعنی میں

جس پہ برسا نہ کبھی پریٖت کا جل یعنی توٗ

قلبِ راغبؔ میں عجب شان سے ہے جلوہ فگن

دلربائی کا حسیں تاج محل یعنی توٗ



⋆ فوزیہ ربابؔ

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے