ادبتحقیق و تنقید

’روح سخن کا ترجمان‘ برقیؔ اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقی کی شاعری پر ایک تاثراتی اظہاریہ

  انجم عثمانی

فنون لطیفہ میں شاعری کے امتیاز کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس میں زبان کے تخلیقی استعمال کی گنجائش لا محدود ہیں۔ زبان میں گرچہ لفظ اپنے محدود لغوی معنی میں موجود ہوتے ہیں مگر تخلیقی اظہار کی وسعت حدوں سے پر معانی کے ان گوہروں کی تلاشی کرلیتی ہے جن کی چمک سے فن کے جذبے میں موجزن حرارتوں کے لمس سے لطف اندوز ہونے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں اور اکثر لفظ متعینہ حدود سے آزاد ہوکر مختلف الجہات معانی کی سرحدوں کو چھونے لگتے ہیں۔ اس طرح بظاہر ایک عام سا لفظ شعر میں ڈھل کر ایک جہاں معانی کو سمیٹ لیتا ہے۔ اور فکر و نظر، جذبہ وخیال اور لفظ و معنی کے درمیان ایک ایسا ربط پیدا ہوتا چلا جاتا ہے کہ جذبہ و آہنگ ایک ایسے تاثر میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس طرح فن پارے سے گذر کر بھی آپ فن اور فن کے حوالے سے فنکار کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ پیشکش کے طریقے کے یہی کامیابی فنکار کی مقبولیت کا بنیادی سبب ہے، مگر؛ اس مقام تک پہنچنے کے لیے جن وہبی صلاحیتوں کے ساتھ کسبی صلابتوں کی ضرورت ہوتی وہ بہت کم یاب ہیں۔ اسی لیے کلام موزوں کی فروانی اور مجموعہ ہائے کلام کی طغیانی کے اس دور میں ’’شاعری‘‘ جس روپ اور جس مقدار میں مل جائے غنیمت ہے۔

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ ان کمیاب و کامیاب شاعروں میں ہیں جن کی مقبولیت کا سبب فن کی سچائی اور تخلیقیت کی وہ سطح ہے جہاں تخلیق اور تخلیق کار اس طر ح ہم آہنگ ہوجاتے ہیں کہ تخلیق اپنے خالق کا آئینہ اور تخلیق کار اپنی تخلیق کا عکس بن جاتا ہے   ؎

طبیعت ہے برقیؔ کی جدت پسند

کسی نے نہیں جو کیا کرچلے

۔ ۔ ۔ 

ہیں مرے اشعار عصری کرب کے آئینہ دار

قلب مضطر ہے مرا سوز دروں سے بے قرار

۔ ۔ ۔ 

آپ پر ہوں گے اثر انداز جو بے اختیار

میری غزلوں میں ملیں گے شعر ایسے بے شمار

۔ ۔ ۔ 

شعار اپنا رہا ہے ہمیشہ حق گوئی

کیا ہے سینۂ باطل کو تیغ حق نے چاک

حفظِ مراتب کا ہوں قائل سب سے ہے میری راہ ورسم

دیوانوں میں دیوانہ فرزانوں میں فرزانہ بھی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ کی شاعری کے دیگر اوصاف کے علاوہ ایک متاثر کن وصف ان کے اشعار کا بے حد ذاتی ہوتے ہوئے بھی غیر ذاتی ہونا ہے۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ اکثر ذاتی درد و داغ کی داستان ہے اس لیے اس میں تجربے کی سچائی اور جذبے کی وہ گرمی موجود ہے جو فرد کے نجی اوصاف کی مرہون منت ہوتی ہے۔ فنکاری یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی تجربے میں قاری وسامع کو اس طرح شریک رکھ پاتے ہیں کہ وہ درد، احساس اور جذبہ اس کو اپنا سا محسوس ہوتا ہے  ؎

بہت لطیف ہے فنکار و فن کا یہ رشتہ

مجھے عزیزہے دونوں کا ایک سا ہونا

برقیؔ صاحب کی نظر صرف  ان مضامین پر ہی نہیں ہے جو کثرت استعمال سے سہل الحصول ہو گئے ہیں بلکہ ان کی نظر ان مسائل پر بھی ہے جنھیں موجودہ دور کی صارفیت اور غیر ضروری طور پر معاشرے کی صالح اقدام کے زوال کا سبب قرار دیا جاتا ہے  ؎

شیرازہ منتشر ہے ملت کا عہد نو میں

کچھ شیخ  کے ہیں پیچھے اور کچھ ہیں خاں کے پیچھے

۔ ۔ ۔ 

ان کا ظاہر اور باطن دیکھ کر ایسا لگا

پارسائی جیسے ہو شاید ریا کاری کا نام

۔ ۔ ۔ 

ریشہ دوانیاں یہ سبھی اہل زر کی ہیں

ہے رنگ آج اس لیے زر کا لہو لہو

۔ ۔ ۔ 

سمٹ کر رہ گئی ہے کیوں یہ دولت چند ہاتھوں میں

جو ہو سب کے لیے وجہہ سعادت کیوں نہیں آتی

۔ ۔ ۔

حق پرستی ہمیں راس آئے نہ آئے لیکن

ساتھ باطل کے کبھی ہم نہیں ہونے والے

۔ ۔ ۔ 

کارواں وقت کا سر گرم سفر ہے برقیؔ

خواب غفلت سے اٹھیں کہہ دو یہ سونے والے

۔ ۔ ۔

غنچے چمن میں آج ہیں یہ سر بریدہ کیوں

گل پیرہن ہیں باغ میں دامن دریدہ کیوں

جمہوریت میں سب کے مساوی حقوق ہیں

میں کیوں ستم زدہ ہوں وہ ہیں برگزیدہ کیوں

۔ ۔ ۔

برقیؔ صاحب کو گرچہ بیشتر شعری اصناف پر دسترس حاصل ہے مگر ان کی سوچوں کی پرتیں  غزل میں زیادہ کھلتی ہیں اس لیے کہ ان کی شخصی شرافت، مزاج کی نفاست اور بیان کی صداقت غزل کی باطنی تہذیب سے قریب معلوم ہوتی ہے۔

غزل میں فکر کی صلابت اور جذبہ کی حلاوت کا مختصر متناسب امتزاج قائم رکھنا آسان نہیں ہے۔ برقیؔ صاحب نے یہ مراحل شخصی تہہ داریوں اور تخلیقی باریکیوں کے ساتھ کامیابی سے طے کیے ہیں ورنہ عام طور پر فن لطیف اور خاص طور پر شاعری میں ’’دانشوری‘‘ کے اتنے سراب زدہ مواقع آتے ہیں کہ اگر دل دردمند، ظرف تربیت یافتہ، جذبہ سچا، زبان اور متعلقات زبان پر عبور اور آنکھیں خواب آشنا نہ ہوں تو نہ شعر کے’’کلام موزوں ‘‘ بننے میں دیر لگتی ہے اور نہ آدمی کے نام نہاد نقاد بننے میں۔

مشکل تخلیقی مراحل اور نازک سے نازک خیال کو شعری سطح پر برقی ؔصاحب نے جس طرں نبھایا ہے وہ لائق تحسین ہے ؎

تیرگی سے نہیں کوئی شکوہ

ایک وحشت ہے روشنی سے مجھے

۔ ۔ ۔ 

کونین میں ہیں صرف وہی رحمت عالم

رحمن ہی کر سکتا ہے رحمت کا احاطہ

۔ ۔ ۔

دنیائے رنگ  وبو کا یہ کیسا نظام ہے

گل ساتھ ساتھ رہتے ہیں ہر وقت خار کے

۔ ۔ ۔ 

یہ ترک تعلق کا نتیجہ ہے کہ جس سے

اب شوق ملاقات ادھر بھی ہے ادھر بھی

۔ ۔ ۔ 

اردو شاعری کی مختلف اصناف میں غزل کووہی حیثیت حاصل ہے جو شریانوں میں خون کو، دل میں دھڑکنوں کو، جسم میں روح کو اور تعلق میں جذبے کو حاصل ہے۔ اردو کے ابتدائی دور سے موجود دور تک شاید ہی کوئی ہو جو اس کی کشش سے بچ سکا ہو۔ جن لوگوں نے بظاہر مصلحتاً اس کی مخالفت بھی کی وہ بھی در پردہ اس کے اسیر رہے مگر یہ اسیری کہیں کہیں عشق کے درجہ کو پہنچ گئی ہے۔ جس کا تفصیلی اظہار بھی ہوا ہے۔ عشق ِ غزل کے اسی تفصیلی اظہار کی ایک معتبر شکل ڈاکٹر احمد علی برقی کی غزل بھی ہے۔ ؎

احساس کا وسیلۂ اظہار ہے غزل

آئینہ دار ندرت افکار ہے غزل

اردو زبان دل ہے غزل اس کی جان ہے

نوع بشر کی مونس و غمخوار ہے غزل

اردو ادب کو جس پہ ہمیشہ رہے گا ناز

اظہار فکر و فن کا وہ معیار ہے غزل

 برقیؔ کے فکر و فن کا مرقع اسی میں ہے

برقؔ اعظمی سے مطلع انوار ہے غزل

مختلف قسم کی غزلوں میں برقی ؔصاحب کی سخن پروری اپنے رنگ میں منفرد ہے مگر چھوٹی بحر کی غزلوں میں یہ رنگ بہت نکھر کر سامنے آتا ہے اور کہیں سہل ممتنع کا وہ لطف بھی اجاگر ہوتا ہے جو بسا اوقات ذوق سلیم کو مہمیز بھی کرتا ہے  ؎

ایک مدت سے ہے جو لا ینحل

وہ سوال و جواب ہیں آنکھیں

۔ ۔ ۔

گفتگو ان کی ایسی ہے جیسے

پھول کر تا ہو بات پھولوں کی

۔ ۔ ۔

 بہت سنگ دل ہے یہ میں جانتا ہوں

 مجھے دیکھ کر مسکرائے گی دنیا

۔ ۔ ۔ 

سرمہ چشم ہے اس کے لئے بینائی کا

اس سے کہہ دو وہ مری گرد سفر لے آئے

۔ ۔ ۔

ہمیں ایک دوسرے پر اگر اعتبار ہوتا

مجھے اس سے پیار ہوتا، اسے مجھ سے پیار ہوتا

۔ ۔ ۔

دل کی ویرانی بھی دیکھی ہے کیا

یہ پریشانی کبھی دیکھی ہے کیا

آئینہ میں شکل اپنی دیکھ کر

ایسی حیرانی کبھی دیکھی ہے کیا

 کچھ برس پہلے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کاشعری مجموعہ’’روح سخن‘‘ سامنے آیا تھا جس پر شعر و ادب کی اہم شخصیات نے اظہار خیال کیا ہے اور سب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ برقیؔ صاحب غزل کی دنیا کا ایک اہم نام ہیں (تفصیل کے لیے برقیؔ صاحب کے مجموعے کی ابتدا میں شامل مضامین کا مطالعہ فرمائیں )۔

حقیقت یہ ہے کہ شاعری کی دنیا میں برقیؔ صاحب اپنا بلند مقام بنا چکے ہیں اور ان کا شاعرانہ رنگ انفرادیت اور تخلیقت کی اس منزل پر آپہنچا ہے۔ جہاں شاعر بجا طور پر حسبِ اسلوب کہلانے میں حق بجانب ہوتا ہے۔ برقیؔ صاحب کے ہاں یہ اسلوب فنکارانہ ریاضت، فطری طور پر ان کے شاعرانہ مزاج اور اس صالح تربیت سے ترتیب پاتا ہے جو برقیؔ صاحب کو خوش نصیبی سے ورثہ میں ملا اور جسے انہوں نے اپنی علمی صلاحیت سے مزید جلا بخشی۔ ان کی شخصی شرافت، ادبی نسبت فطری ذہانت اور تخلیقی صداقت نے ان کے  اشعارمیں ایک ایسی باطنی تاثیر سمودی ہے جسے ادبی سعادت سے تعبیر کیا جانا چا ہیے۔

احمد علی برقیؔ صاحب نے جس سلیقے سے مشاہدات، محسوسات، جذبات، حالات اور خیالات کا فنکارانہ اظہار کیا ہے وہ کلاسیکی ادبی روایت سے کماحقہہ و اقفیت، ذاتی شرافت، شعری و نسبی نجابت اور اس دل دردمند کے بغیر ممکن نہیں جس سے لفظ میں تاثر پیدا ہوتا ہے اور اثر پذیری میں ایک ماورائے لفظ کیفیت ہے جس سے ’’کلام موزوں ‘‘ اور شاعری میں امتیاز کیا جا سکتا ہے مگر فن کو زندگی اور زندگی کو فن بنانے کے لیے’’سخنورانہ مشاقی‘‘ سے زیادہ اس  صدری نسخے کی ضرورت پڑتی ہے جو کتابوں میں نہیں لکھا ہوتا دلوں میں و دیعت کیا جاتا ہے۔ چنانچہ تخلیق کار مخلوق ہونے کے باوصف بحدّ توفیق قوت خلق بھی رکھتا ہے۔ اس نسبت سے تخلیق کار محبت، مقبولیت اور پسندیدگی کا ہی نہیں احترام کا بھی مستحق ہے، خاص طور پر وہ تخلیق کار جو خالق حقیقی کی بخشی ہوئی خلا قانہ صلاحیت کو مثبت اقدار، ارفع خیالات اور صحت مند لطافت طبع کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس اعتبار سے انسانیت  کے ارتقا میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے ہی  بلند کردار اور اخلاق کے حامل شاعروں میں برقی صاحب کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے شاعری کو لذت ذہنی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اس سے تفکر، اخلاق، درد مندی اور اذہان کو علویت سے ہم کنار کرنے کاکام کیا ہے  ؎

امن عالم کی فضا ہموار ہونا چا ہیے

آدمی کو آدمی سے پیار ہونا چا ہیے

۔ ۔ ۔ 

بڑھ کے چومے گی قدم منزل مقصود ترا

شرط ہے اس کے لیے عزم سفر پیدا کر

ہے اگر راہ ترقی میں تری یہ حائل

عزم محکم ہے تو دیوارمیں در پیدا کر

۔ ۔ ۔

آپ کے ساتھ اگر کوئی کرے حسن سلوک

آپ بھی حسن عمل اس سے نبھانے لگ جائیں

ان کے جذبات و احساسات درد مندی اورخلوص سے عبارت ہیں اور اسی دردمندی سے انہوں لفظوں کے موتیوں کو مفاہیم کی سوغات سے نوازا ہے۔ سچے فن کی صحیح سمت کے سفر میں شعر وادب کی تاریخ کی راہ کے سنگ میل اسی طرح قائم ہوتے ہیں  ؎

میرا سرمایہ حیات ہے جو

وہ ہے میرے ضمیر کی آواز

۔ ۔ ۔ 

ایسا ہوگا میری اس تحریر میں سوز و گداز

موم ہوجائے گا پتھر کا جگر لکھ جائوں گا میں

اور

برقیؔ میرا پیغام ہے یہ اہل جہاں کو

قائم کریں ایثار ومحبت کی روایت 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close