ادب

رپورتاژ

محسن خان

سرزمین دکن حیدرآبادکا ہمیشہ سے ہی اردوا دب کے فروغ میں نمایاں کردار رہا ہے ۔ ابتداء سے دکن کے حکمرانوں نے اردو ادب اور ادبی شخصیات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ آصف سابع میر عثمان علی خان کواردو سے خوب دلچسپی تھیں۔انہوں نے اردودنیا کے مشہور ومعروف ادبی شخصیتوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں اعلی ملازمتوں پر فائز کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور دائرۃ المعارف کے قیام کا مقصد لوگوں میں علم کی اہمیت کوعام کرنا اور تحقیقی کام انجام دیناتھا۔ جس کے لئے دنیابھر سے مشہور لوگوں کویہاں لاکر ادبی کام تفویض کیا گیا ۔ آج کے اس جدید دور میں ارد و زبان کے فروغ کاتذکرہ ہوتو حیدرآباد دکن کا نام بڑی شان سے لیاجاتا ہے۔ آزادی ہند کے چند سال بعد ایک سازش کے تحت عثمانیہ یونیورسٹی کے ذریعہ تعلیم اردو کو ختم کردیاگیا۔ یہاں کی زمین کی تاثیر اور اہل اردوکی اردو سے بے پناہ محبت نے مرکزی حکومت کو مجبور کیا کہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے مولاناآزاد نیشنل ارد و یونیورسٹی کا قیام حیدرآباد میں ہی عمل لائے۔ جس طرح آصف سابع میر عثمان علی خان کے دور میں عثمانیہ یونیورسٹی میں طب اوردیگر عصری علوم کیلئے اردو ذریعہ تعلیم رہا تھااسی طرز پرمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں بھی پالی ٹکنیک‘صحافت اور کمپیوٹرسائنس ودیگر عصری علوم کی تعلیم اردو میں دی جارہی ہے تاکہ اردو کوعصری تقاضوں سے جوڑا جاسکے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم مجاہد‘صاحب طرز انشاء پرداز‘ ایک بلندپایہ صحافی‘ایک زمانہ شناس قائد اور ایک دوراندیش مفکر تھے۔ انہوں نے صحافت کے ذریعہ ہندوستانی عوام کے دلوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کیا۔ الہلال اورالبلاغ کے ذریعہ آپ انگریز حکومت کے خلاف آگ اگلتے تھے۔ جس سے انگریز حکمراں گھبراگئے اور آپ کے دونوں اخبارات پر پابندی لگادی اورآپ کوجیل بھیج دیاگیا۔ مولانا نے بارہ سال کی عمر سے ہی صحافت میں اپنا قدم جمادیاتھا۔ نیرنگ عالم‘ الصباح اور لسان الصدق نامی پرچے نکالے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ماہنامہ الندوہ اور وکیل نامی پرچہ کی ادارت بھی سنبھالی ۔آپ نے ہفتہ وار پیغام نامی پرچہ بھی نکالا۔غرض ارد وصحافت کا استعمال کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان کوآزادکروانے میں اہم رول ادا کیا۔ مولانا آزاد کی خدمات کوپیش نظر رکھتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ ارد وزبان کے تعاون سے مولانا ابوالکلام آزاد میموریل سوسائٹی نے آپ کوخراج پیش کرنے کے مقصد سے گیارہ نومبر 2016بروز جمعہ صبح 10بجے دن آپ کی یوم پیدائش کی مناسبت سے ایک سمینار بعنوان’’ مولانا ابوالکلام آزاد کا اردو صحافت میں حصہ‘‘ منعقدکیا۔جس میں صحافت ‘ اد ب اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیتوں کو مدعوکیاگیا۔ اس کے علاوہ مولانا آزاد کی خدمات اور ارد وصحافت میں ان کے کردار سے واقف کروانے کے لئے اسکولی طلبہ کے لئے تحریری مقابلہ بھی منعقدکیئے گئے تھے۔ تحریری مقابلے میں حصہ لینے والے مختلف اسکولوں کے بچوں کی کثیرتعداد بھی اس موقع پرشریک تھی۔ پروگرام کی صدارت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت وترسیل عامہ کے پروفیسر مصطفی علی سروری صاحب نے انجام دی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا آزاد نے جس طرح اردو صحافت کے ذریعہ لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کیا اور ہندوستانی عوام میں اپنے اخبارات اورتحریروں کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف ذہن تیار کیا اس سے ہم کوسبق حاصل کرناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ صحافی کا ایک مقصد ہونا چاہئے‘ صرف پیسہ کمانے اور نام کمانے کے لئے ہمیں کام نہیں کرنا چاہئے بلکہ قوم اور ملت کی فلاح کے لئے ہمیں آگے آنا چاہئے۔ اگرہم مولانا آزاد کے جذبہ کی طرح صحافت میں کام کریں گے توآج مسلم قوم کوجومسائل کا سامنا ہے اُس کا ہم اپنی تحریروں کے ذریعہ منہ توڑ جوا ب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اسکولی طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ مولانا آزاد اردو کے ساتھ ساتھ فارسی‘ عربی اور انگریزی زبان پرعبور رکھتے تھے۔ اس لئے ہمیں بھی انگریزی ‘ارد وکے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کوبھی اچھی طرح جانناچاہئے۔ پروفیسر سروری صاحب نے کہاکہ عربی زبان کوہمیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کو سمجھنے بھی چاہئے اور اس زبان کومکمل طورپر جانناچاہئے۔ محمدالیاس طاہر نے مولانا آزاد کی صحافتی خدمات کے ساتھ ان کی شاعرانہ صلاحیتوں پربھی روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ وہ بچپن سے ہی پایہ کے شاعرتھے اور مختلف اخبارات میں آپ کے مضامین پا بندی سے شائع ہوتے تھے۔ انہوں نے پڑھنے لکھنے کواپنا اوڑھنا بچھونا بنالیاتھا اور سنجیدگی سے وہ مطالعہ کرتے تھے۔ ایڈوکیٹ محمد عتیق پاشاہ نے کہاکہ مولانا آزاد نے جس طرح اردو صحافت میں کام کیا ‘نوجوان نسل کوبھی ان سے سبق لیتے ہوئے صحافت کے ذریعہ اپنی قوم کی خدمت انجام دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے باوقار ایوارڈ’’بھارت رتن ‘‘ سے بھی مولانا آزاد کو نوازاگیا۔ آپ سیکولر شخصیت تھے ۔سمینار سے خطا ب کرتے ہوئے مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے شعبہ ترجمہ کے اسکالر محسن خان نے کہاکہ اردوصحافت کا جب بھی نام لیاجائے گا سب سے پہلے مولانا آزاد کا نام لیاجائے گا۔ الہلال اورالبلاغ کے ذریعہ آپ نے ایسا ماحول پیدا کردیاتھا کہ انگریزی حکومت آپ کے نام سے خو ف کھاگئی اور ان اخبارات پرپابندی لگادی اور آپ کوجیل بھیج دیا۔ محسن خان نے کہاکہ مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی ‘آپ کے خوابوں کوپورا کرنے کے مشن پرقائم کی گئی ہے اور نوجوان نسل کو عصری تعلیم اردوزبان میں دی جارہی ہے اور مسلم طلباء و طالبات کی کثیرتعداد اس یونیورسٹی سے فائدہ اٹھارہی ہے اور تعلیم حاصل کرتے ہوئے ملازمتیں حاصل کررہی ہے ۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب نے بھی اردو میڈیم طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے کئی کورسیس متعارف کروارہے ہیں جس سے مسلم قوم میں تعلیم کا اورآگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہورہا ہے۔محسن خان نے سوسائٹی کے صدر اعجازقریشی صاحب کے مولانا آزاد سے لگاؤ کی بات کرتے ہوئے کہاکہ قریشی صاحب نے ’’مولانا آزاد ایک عظیم شخصیت ‘‘کے نام سے کتاب بھی لکھی جسے طلبہ کوپڑھنا چاہئے۔یہ کتاب بہت آسان اور سادہ لفظوں میں مولانا کی مکمل زندگی کااحاطہ کرتی ہے۔ اس موقع پرعبدالقدوس لیکچرار ویمنس کالج حسینی علم نے سوسائٹی کے صدر اعجاز علی قریشی کی کوششوں کوخوب سراہا اور کہاکہ مختلف شخصیتوں سے واقف کروانے اور طلبہ کواعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کرنے اور ان میں تحریری اور تقریری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے قریشی صاحب مختلف پروگرام منعقدکرتے آرہے ہیں اور اردو کے خاموش سپاہی کی طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔سمینار سے رین بازار پولیس انسپکٹر باپوچوان نے بھی خطاب کیا اورکہاکہ طلبہ کو چاہئے کہ وہ دوران تعلیم صرف پڑھائی پرتوجہ دیں اور جس طرح مولانا آزاد نے تعلیم حاصل کرتے ہوئے ‘اپنی تعلیم کے ذریعہ قوم وملت کی خدمت انجام دی ۔ ہمیں بھی یہی کام کرناچاہئے اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنا چاہئے۔ آخرمیں مولانا ابوالکلام آزاد میموریل سوسائٹی کے صدرجنا ب اعجاز علی قریشی نے کہاکہ سوسائٹی چالیس سال سے مولانا آزاد کے یوم پیدائش پر سمینار اورمشاعرے کا اہتمام کرتی آرہی ہے تاکہ نوجوان نسل کوآپ کی شخصیت اور کارناموں سے واقف کروایاجائے اور تحریری اور تقریری مقابلوں کے ذریعہ نوجوان نسل کو مولانا آزاد کی خدمات سے واقف کروایا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اپنی پوشیدہ صلاحیتو ں کو ظاہر کریں اور آگے بڑھیں اور سوسائٹی آگے بھی اس طرح کے ادبی پروگرام منعقدکرتی رہے گی۔ اس موقع پر تحریری اور تقریری مقابلوں میں نمایاں مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے گئے اور تمام طلبہ جنہوں نے مقابلوں میں حصہ لیا سرٹیفیکٹ تقسیم کئے گئے۔ سمینار کے ایک حصہ کے طورپر مشاعرہ کابھی اہتمام کیاگیا جس میں ظفر ؔ فاروقی‘ نوجوان شاعر ڈاکٹرمعین افروزؔ ‘سید سمیع اللہ ‘ سید یوسف ‘سہیل اور دوسروں نے کلام سنایا اور خو ب داد حاصل کی۔

مزید دکھائیں

محسن خان

Mohsin Khan ریسرچ اسکالر شعبہ ترجمہ مانو Mobile : 09397994441

متعلقہ

Back to top button
Close