ادبتحقیق و تنقیدشخصیات

ساحر ہوشیار پوری

غم صحرا نہ ملا درد کا دریا نہ ملا

محمد صابر حسین ندوی

شاعروں میں ساحر لدھیانوی صاحب کوجو شہرت نصیب ہوئی ان کے بالمقابل ان کے ہمنام ساحر ہوشیار پوری کو اتنی ہی گمنامی ملی، شہرت دی بھی تو ان دیاروں نے جہاں سے ادب لٹریچر کے نام پر بیہودگی کا دستر خوان لگایا جاتا ہے، حالانکہ موصوف اپنی قادر الکلامی، نصاعت بیان، نیرنگ فکر اور محبت کی دو بدو منزلوں میں ایسی مہارت رکھتے ہیں؛ کہ بڑے بڑے شعرا بھی داد دیں، آپ کی پیدائش ۱۹۱۳ ؁ء میں ہوئی اور ۱۲ ؍ اگست ۱۹۹۴ ؁ء کو داغ مفارق دے گئے، آپ کا تعلق صوبہ پنجاب کے ہوشیار پور سے تھا، ویکیڈیڈیا کے مطابق ان کا اصلی نام ’’رام پرکاش ‘‘تھا، جنہوں نے اردو کو اپنی محبت و سوز کا مرکز بنایا، اور اسی کے دیار میں پھولوں کی ایک حسین سیج لگائی؛ کہ بہت سے اردو داں سے بازی لے گئے، جل ترنگ، سحر غزل، سحر نغمہ، سحر حرف، سحر خیال، اور نقوش داغ جیسے مجموعہ کلام نے انہیں ابدی حیات کا قبہ پہنا دیا، وہ ادبی لٹریچر اور غزل کے میدان کے شہ سوار ثابت ہوئے، اور آئندہ نسل کوہ وہ دولت بے بہا دی ؛ کہ آج بھی اس کے سازوگداز میں حریر و پرنیاں کا لطف لیا جاسکتا ہے۔

ساحر ہوشیار پوری ایک ایسا شاعر جس نے محبت کو اک نئی زبان دی، اظہار الفت و شناسائی اور دل کی لگن کو اک نیا موڑ اور کیفیت سرور و مستی کا نیا جام دیا، وہ رومانی نظر اور سلگتے دل کے افسانے کا حال کچھ ایسے بیان کرتےہیں؛ کہ اس کی زبان کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے، زمانہ مافی الضمیر کے اظہار کیلئے ایک گوشت کے معمولی ٹکڑے کا محتاج ہے؛جبکہ انہوں نے انسانی زندگی کو اس زبان کی طرف رہنمائی کی، جس کی طرف دل کی رومانیت اور نگاہ کی خماری کا میلان تھا، جو نظروں سے دور اور دشمنوں سے پرے ہو کر دل کے تار کو ایک دوسرے دل کے تار سے جوڑتا ہے، اور گرد ونواح میں دشمان محبت کو خاک اڑانے پر مجبور کردیتا ہے، ایک ایسی زبان جس نے ہر عاشق اور ہر دل کے شہزادے کی زبان بننے شرف پالیا، جس کے صدقہ دنیا کی رومانیت کا ایک نیا باب کھلا اور اسے وہ عروج نصیب ہوا ؛کہ ظاہری زبان بھی اس پر رشک کرے! شاعر کی اس تخلیق پر کان نہیں؛ بلکہ دل دھرئے اور گوشہ قلب سے سنئے !اور غور کیجئے کہ شاعر نے زمانے پر کیا احسان کیا ہے:

کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے 

 یہ حقیقت تو نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے 

وہ نہ آئے تو ستاتی ہے خلش سی دل کو 

 وہ جو آئے تو خلش اور جواں ہوتی ہے 

روح کو شاد کرے دل کو جو پر نور کرے 

 ہر نظارے میں یہ تنویر کہاں ہوتی ہے 

ضبط سیلاب محبت کو کہاں تک روکے

  دل میں جو بات ہو آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے 

زندگی ایک سلگتی سی چتا ہے ساحرؔ 

 شعلہ بنتی ہے نہ یہ بجھ کے دھواں ہوتی ہے

ساحر صاحب جب زمانے کے ظلم و ستم پر طبع آزمائی کرتے ہیں، تو اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں، وہ صحراوں میں درد کا دریا تلاش کرتے ہیں، لیکن خالی ہاتھ۔ نوبت یہ آجاتی ہے کہ وہ مرنا بھی چاہتےہیں، درد و کراہ میں اپنی ہی جان لے لینا چاہتےہیں؛ لیکن کوئی وسیلہ نہیں۔ وہ اپنا سایہ کھوچکے ہیں، وہ صنم خانوں میں خداوں کی جستجو تو کر بیٹھے؛لیکن انسانوں میںکسی صاحب انسان کو نہ پا سکے۔ وہ تشنہ لب ہو کر ایسا جام تلاش کرتے ہیں، جو ان کے دل کی پیاس بجھا دے۔ انہیں کی زبانی ان کا حال سنئے! اور خود کو ایک صحرا نورد سمجھ کر داد دیجئے! اور لطف اٹھائیے!

غم کا صحرا نہ ملا درد کا دریا نہ ملا 

 ہم نے مرنا بھی جو چاہا تو وسیلہ نہ ملا 

مدتوں بعد جو آئینے میں جھانکا ہم نے 

 اتنے چہرے تھے وہاں اپنا ہی چہرہ نہ ملا 

قتل کر کے وہ غنیموں کو جو واپس آئے

  اپنے ہی گھر میں انہیں کوئی شناسا نہ ملا 

ہم بھی جا نکلے تھے سورج کے نگر میں اک دن 

 وہ اندھیرا تھا وہاں اپنا بھی سایہ نہ ملا 

تشنہ لب یوں تو زمانے میں کبھی ہم نہ رہے 

 پیاس جو دل کی بجھا دیتا وہ دریا نہ ملا 

مل گئے ہم کو صنم خانوں میں کتنے ہی خدا 

 ڈھونڈنے پر کوئی بندہ ہی خدا کا نہ ملا 

آپ کے شہر میں پیڑوں کا نہیں کوئی شمار 

 دو گھڑی رکنے کو لیکن کہیں سایہ نہ ملا 

سبز پتوں سے ملا ہم کو بہاروں کا سراغ 

 شاخ نازک پہ مگر کوئی شگوفہ نہ ملا 

مستحق ہم تری رحمت کے نہ ہونے پائے

  تیری دنیا میں کوئی عذر خطا کا نہ ملا 

خود نمائی کے بھی اس دور میں ہم کو ساحرؔ 

 کوئی قاتل نہ ملا کوئی مسیحا نہ ملا

پھر ہر در کی خاک چھاننے کے بعد، دھواں میں تصویر بنانے کے بعد، جنوں میں آرزوئے شعلہ جگانے کے بعد، آرزووں اور تمناوں میں حسرتوں کی ایک داستان جمانے کے بعد، شاعر ایک خاص پڑاو پر پہنچتا ہے، اس کی کشتی ایک ایسے لنگر سے جا لگتی ہے؛کہ اس کا تصور صرف شاعر ی ہی کی دنیا میں ممکن ہے، دیکھئے آخر وہ کنارہ اور ساحل کیا ہے، اور دل مضطر کی دوا کیا پائی ہے:

غم دل رخ سے عیاں ہو یہ ضروری تو نہیں

  عشق رسوائے جہاں ہو یہ ضروری تو نہیں 

لب پہ ہر وقت فغاں ہو یہ ضروری تو نہیں 

 ہم نوا دل کی زباں ہو یہ ضروری تو نہیں 

جان تنہا پہ گزر جائیں ہزاروں صدمے 

 آنکھ سے اشک رواں ہو یہ ضروری تو نہیں 

مل ہی جائے گی کہیں ڈھونڈھنے والے کو بہار

  ہر گلستاں میں خزاں ہو یہ ضروری تو نہیں 

ہم جسے اپنی زباں سے بھی نہ کہنے پائیں 

 وہ محبت کا بیاں ہو یہ ضروری تو نہیں 

ان کی آنکھوں میں چھلک آئے ہیں آنسو جس سے

  وہ مرے دل کا دھواں ہو یہ ضروری تو نہیں 

ضبط بھی ہوتا ہے انداز جنوں میں شامل 

 آرزو شعلہ بہ جاں ہو یہ ضروری تو نہیں 

آرزوؤں کی بھی اک بھیڑ ہے شہر دل میں

  حسرتوں کا ہی نشاں ہو یہ ضروری تو نہیں 

سوچ کر وادئ الفت میں قدم رکھ ساحرؔ 

 صرف دل ہی کا زیاں ہو یہ ضروری تو نہیں

ساحر ہوشیارپوری نے ریگ وذرات ہی کا سامنا نہیں کیا ؛بلکہ زمانہ حاضر کی ستم ظرفیاں بھی ان کے نشتر زبان سے خالی نہیں، وہ کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں، ذرا پڑھئے اور سر دھنتے ہوئےپڑھئے! اور دیکھئے شاعر نے کیا راگ چھیڑا ہے، اس نے کس مضراب پر انگلی رکھ دی ہے، وہ زمانے کی کس کم ظرفی اور کس بے اعتنائی کا رونا رو رہا ہے، وہ۔ کیوں کر بہار کو بھی خزان تصور کئے ہوئے ہوا یے اور وہ کہتا اور دیکھئے کیا کہتا ہے:

ہم کو مستی و خواری آئی  تم کو دنیا داری آئی 

دل جوئی دل داری آئی  تم کو بھی یہ عیاری آئی 

پھول کو ہم نے جب بھی چھوا ہے  ہاتھ میں اک چنگاری آئی 

ساقی گم خالی مے خانہ  کیسی یہ باد بہاری آئی 

حسن وہی ہے حسن کہ جس کو  سادگی و پرکاری آئی 

مشکل جب آسان ہوئی تو  الفت میں دشواری آئی 

مقتل میں اک شور بپا ہے  آئی میری باری آئی 

حسن کی ہر معصوم نظر سے  دل پر ضرب کاری آئی 

صبح سے دل مسرور ہے ساحرؔ  رات یہ ہم پر بھاری  آئی

شاعرپھر وہی بھولا بسراعاشق زمانے کو عشق کابھولا ہوا سبق بھی پڑھاتا ہے، اور اس کی تعریف ایسی بدیع مثالوں اور لطیف بیانیوں سے دیتا ہے ؛ کہ عشق کی اک نئی حقیقت آشکارا ہوتی ہے، دل کا اک نیا راز کھلتا ہے، عشق اور عاشق کی طاقت کے آگے موت کی بے بسی، پروانے کا شمع پر فدا ہوجانا اور اپنی جان کو ہنستے کھیلتے ہوئے اس کی تپش پر فنا کردینا و غیرہ ان سب کے درمیان عاشق کا دل کہیں نہ کہیں رسوائی کی گہری کھائی اور میخانے کی بادہ کشی، جام و جم کا گلاس اور مدہوشی کا نیا ساز بھی گنگناتاہے، اور اپنی کیفیت کو کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ گویا دل کھینچ لے اور کسی قیدی و اسیری میںپابہ جولاں کر کے ہمیشہ ہمیش کیلئے کسی راہ ہجرہ کا مسافر کردے، شاعر کے اس سوز کو اور درد بیان کو پڑھئے !اور نگاہ عشق کو جلا بخشئے! دل کا چراغ عشق روشن کیجئے اور دیکھئے !کہ اس نہا خانہ میں کیا کچھ بسا ہوا ہے، جسے آباد کرنے اور چراغاں کرنے کی ضرورت ہے:

عشق کیا چیز ہے یہ پوچھیے پروانے سے

  زندگی جس کو میسر ہوئی جل جانے سے 

موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو

  موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے 

ہو گیا ڈھیر وہیں آہ بھی نکلی نہ کوئی 

 جانے کیا بات کہی شمع نے پروانے سے 

حسن بے عشق کہیں رہ نہیں سکتا زندہ

  بجھ گئی شمع بھی پروانے کے جل جانے سے 

کھائے جاتی ہے ندامت مجھے اس غفلت کی 

 ہوش میں آ کے چلا آیا ہوں میخانے سے 

کر دیا گردش ایام نے رسوا ساحرؔ 

 مجھ کو شکوہ ہے یگانے سے نہ بیگانے

یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہر ایک پھول کے ساتھ کانٹابھی ہوتا ہی ہے، گلوں میں خار پوشیدہ ہوتے ہی ہیں، عشق مینںدل کا ٹوٹ جانا اور جان جاناں کی بہار میں صحرائی کا آجانا اور پھر سے دل کی دنیا ویران ہو کر پیاس و شدت سے گھٹ گھٹ کر دم توڑنے لگنا یا اپنا ہی جام چھلک کر پھیل جانا، دل کی انگیٹھی کا سر پڑ جانا، شمع قلب پر کسی کا مٹی ڈال دینا بھی عام بات ہے، یہی عاشقوں کا نصیب اور یہی پھول کا حسن و مقدربھی ہے، یہی محبت کی دلدوز کہانی اور یہی سوز جگر کا مداوا بھی ہے، یہی وہ حقیقت ہے جسے عاشقی کا لطف لینا ہو اور سمندر عشق میں غرق ہونا ہو تو اسے دامن گیر کر لے، غم و فراق سے دوستی اور وصال سے بے نوائی کی عادت ڈال لے، ہر پھول کی تقدیر میں کھلنا اور کلی کا چٹخنا، ہر کرن کا چڑتا ہوا سورج بن جانا ممکن نہیں، بادلوں کے دبیز پردے، اندھیروں کا بسیرا اور کانٹوں کا راستہ بھی موجود ہے، راہ وفا میں صراط مستقیم کی امید کرنا نادانی اور بہت حد تک جہالت ہے، اسی لئے تو ساحر ہوشیار پوری صاحب کہتے ہیں:

ہر ایک پھول کے دامن میں خار کیسا ہے 

 بتائے کون کہ رنگ بہار کیسا ہے 

وہ سامنے تھے تو دل کو سکوں نہ تھا حاصل

  چلے گئے ہیں تو اب بے قرار کیسا ہے 

یقین تھا کہ نہ آئے گا مجھ سے ملنے کوئی 

 تو پھر یہ دل کو مرے انتظار کیسا ہے 

اگر کسی نے تمہارا بھی دل نہیں توڑا 

 تو آنسوؤں کا رواں آبشار کیسا ہے 

مجھے خبر ہے کہ ہے بے وفا بھی ظالم بھی

  مگر وفا کا تری اعتبار کیسا ہے 

ترے مکان کی دیوار پر جو ہے چسپاں

  تلاش کس کی ہے یہ اشتہار کیسا ہے 

یہ کس کے خون سے ہے دامن چمن رنگیں 

 یہ سرخ پھول سر شاخ دار کیسا ہے 

اب ان کی برق نظر کو دکھاؤ آئینہ

  وہ پوچھتے ہیں دل بے قرار کیسا ہے 

مری خبر تو کسی کو نہیں مگر اخترؔ 

 زمانہ اپنے لئے ہوشیار کیسا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close