ادبغزل

ساغر محبت اب کہاں نوش کریں 

میخانہ یہاں ویرانہ بنا ہے

  حبیب بدر

ساغر محبت اب کہاں نوش کریں
میخانہ یہاں ویرانہ بنا ہے

تصویر نظروں سے جاتی ہی نہیں ہے
دل میں بت کافر کا آئینہ خانہ بنا ہے

جو کبھی دل کی دھڑکن ہوا کرتا تھا
وہ تو بس اب بیگانہ بنا ہے

چلو عزم مصمم لئے اس طرف اے بدر
توڑ دینا ہے جو ایک بت خانہ بنا ہے

بھروسہ کرتے ہو اس بت پہ اے بدر؟
جسکا عمل اب ظالمانہ بنا ہے

مزید دکھائیں

حبیب بدر ندوی

ایم اے شعبہ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close