ادبشخصیات

سیماب اکبر آبادی: ہمہ جہت شاعر

سیماب اکبر آبادی نے تا عمر شاعری کی خدمت کی او ر اپنے بعد اپنے شاگردوں کی ایک جماعت بھی چھوڑی جو ان کے مقصد حیات کو آگے بڑھاتے رہے۔

صالحہ صدیقی

اردو ادب کی ایک طویل تاریخ رہی ہے جو کم و بیش پانچ سو سال پر منحصر ہے۔ اردو نے’’بولی ‘‘ سے ’’زبان ‘‘تک کا اور پھر ’’زبان ‘‘ سے’’ ادب ‘‘تک کا سفر بہت تیزی سے طے کیا، اور تب تک اس میں ادبی تحقیقات کے بعض اسالیب نمودار ہو چکے تھے۔ اس طرح نظم و نثر کے متعدد نمونے ہمیں ابتدأ سے ہی ملنے شروع ہو گئے تھے۔ اور جب کچھ عرصہ کے بعد ادب میں جانچ پرکھ کا اور اس کے قدر و قیمت کا تعین کا رحجا ن فروغ پانے لگا تو گویا تخلیق کے بعد ’’تحقیق و تنقید ‘‘ کے مراحل بھی طے ہونے لگے۔ خواہ اس زبان کے فروغ میں سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، مذہبی، تعلیمی جو بھی محرکات رہے ہو مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ ’’اردوزبان و ادب ‘‘ کو ہی ہوا۔ اردو ادب میں تبدیلیوں کے ساتھ اس میں نئی اصناف بھی شامل ہوتی رہی ہے۔ فکشن نے بھی داستان سے ناول اور پھر افسانہ تک کا سفر طے کیا۔ اور آج اردو ادب میں اس کا اہم مقام ہے۔

19صدی کے ہجوم شعرا ٔ میں اپنی الگ شناخت بنانے والے ’’سیماب اکبرآبادی‘‘ کی شخصیت اردو ادب میں بحیثیت شاعرکسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی تصانیف کی اشاعت نے خود ہی یہ فریضہ انجام دیا ہے۔ ان کی تصانیف نہ صرف عصری شاعری کی عکاس ہے بلکہ قاری کے فکری ذہن کے دریچوں کو بھی کھولتی ہے۔ سیماب اکبر آبادی کی شاعری کا جائزہ ’’بحیثیت انقلابی شاعر‘‘کے  لینے سے قبل ان کی سوانح پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ کسی بھی مصنف یا تخلیق کا ر کو عام انسان سے تخلیق کار بننے میں اس کی ذاتی زندگی، عہد و ماحول، اس کے معاشرے کے حالات و واقعات کے اثرات اہم رول ادا کرتے ہے۔

سیماب اکبرآبادی کا پورا نام سید عاشق حسین تھا، جب کہــ’’ سیماب ‘‘ تخلص اختیا ر کرتے تھے۔ وہ 1880میں اکبرآباد (آگرہ ) محلہ نائی منڈی ککو گلی املی والے مکان میں پیدا ہوئے۔ اپنی ولادت کے تعلق سے اپنے ہجری سنہ ولادت کی نشاندہی اپنے ایک شعر ’’کا ر امروز‘‘ ص 253میں یوں کی ہے ؎

ستا سی سال  بعد میرؔ  ہے  تخلیق غالب کی

یہی وقفہ ہے میری او ر غالب کی ولادت میں

سیماب کے والد مولوی محمد حسین صدیقی اجمیر شریف میں ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘ پریس کی شاخ کے انچارج تھے۔ سیماب نے ابتدا ٔ میں  مولانا جمال الدین سرحدی ‘ مولانارشید احمد گنگوہی، مولانا قمرالدین اور مولانا عبد الغفور جیسے قابل فارسی و عربی ادب کے اساتذہ سے دینی علوم  اور منطق کی تکمیل کی۔ انگریزی تعلیم کے لیے برانچ اسکول میں داخلہ لیا، پھر کالج بھی گئے لیکن والد کے انتقال کے  بعد یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ شعر و شاعری کا ذوق انھیں ابتدا ٔ ہی سے تھا، اس لیے ذوق کے حلقہ ٔتلامذہ میں شامل ہوگئے۔ ان کا کلام صوفی نظام المشائخ، سالک، ہمدرد، اور صبح بنارس میں شائع ہوتا رہا۔ غزل، نظم، اور منظوم ترجمہ میں سیماب کو کمال حاصل تھا۔

انگریزی سے شناسائی کے سبب وہ شعرو ادب کے جدید حجانات سے بھی کسی نہ کسی حد تک آگہی رکھتے تھے۔ لہٰذا سیماب کی شاعری کا رخ بدل گیا۔ ابتدائی شاعری ان کی دیگر شعرأکی طرح عشق و عاشقی کی طرز پر لکھی گئی ہے لیکن آگے چل کر ان کی شاعری کا رخ بدل گیا۔ وہ شعر کی مقصدیت پر زو ر دینے لگے۔ انھوں نے اپنی آخری سانس تک شعر و ادب کی خدمت انجام دیں۔ ان کی وفات 1951 میں کراچی میں ہوئی۔ اگر ہم سیماب اکبر آبادی کی شاعری میں انقلاب کی بات کریں تو ان کی شاعری میں جو انقلاب آیا اس سلسلے میں وہ خود رقم طراز ہیں کہ :

’’ اوائل مشق سخن تک مجھے قدیم تغزل سے دلچسپی تھی لیکن زمانے کے ساتھ علم و معلومات کا دائرہ جس قدر وسیع ہوتا گیا رنگ قدیم سے لگاو ٔ کم ہوتا گیا۔ اب شاعری میں بلند خیالات او ر بلند انسانی جذبات کی ترجمانی کا حامی ہوں۔ میں شاعری میں فلسفہ اور حقائق و معارف کے نکات پسند کرتا ہوں۔ میں اس شاعری کا منکر ہوں جس کا موضوع صرف عورت اور اس کے متعلقات ہوں، جو مرد پرستی کی نفسیات پر مشتمل ہوں ………….میں نظم کو غزل پر ترجیح دیتا ہوں۔ ‘‘

سیماب اکبر آبادی اردو شاعری میں اصلاح کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے اپنے خیالات کی اشاعت کے لیے کئی با ر انجمن بھی بنائی، قصر ادب کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد نو آموز شعرأ کے کلام کی اصلاح اور ان کی تربیت تھا۔ ان کے شاگردوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ مختلف مقامات پر مشاعروں کے اہتمام کا بھی خیال رہتا تھا۔ ان کی رائے تھی کہ جہاں مشاعرہ ہو وہاں صدارت کے لیے عالم کو مدعو کیا جائے، جو شاعری کے مسائل پراظہار خیال کرے اور اس کی اصلاح و ترقی کے لیے تجویزیں پیش کرے خود انھوں نے بہت سے مشاعروں کی صدارت کی اوران میں خطبات پیش کیے جو منظر عام پر بھی آچکے ہیں۔ ان میں وقت کے جدید تقاضوں کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا ہے، او ر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ بدلنے کی رائے دی گئی ہیں۔ انھوں نے کئی شعری مجموعے اپنی یادگار چھو ڑے جن میں کلیم عجم، سدرتہ المنتہی، اور لوح محفوظ ان کی غزلیہ شاعر ی کے مجموعے ہیں۔ ان کی نظمیہ شاعری میں شامل ہیں ریاض الاظہر، عزیز الخطب، جامع الخطب، ارشاد احمد، فریاد، جنت کے خطوط وغیرہ آپ نے بچوں کے لیے بھی نظمیں لکھی۔ آپ کے نظموں کا پہلا مجموعہ کا ر امروز1934، دوسرا مجموعہ ساز و آہنگ 1941، تیسرا مجموعہ شعر انقلاب 1947 میں منظر عام پر آیا۔ سیماب اکبر آبادی نے بہت سی نظمیں کہیں ان میں سیاست، وطنیت، معاشرتی حالات اور معاملات سبھی کچھ شامل ہیں۔ جس کے سبب ان کے یہاں موضوعات کی وسعت دکھائی دیتی ہیں۔ سیماب اکبر آبادی نے اقبال اور دیگر شاعروں کی طرح مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنی نظموں کا موضوع بنایا اس سلسلے میں ان کی نظم ’’گوتم بدھ ‘‘ اور ’’سری کرشن ‘‘ انتہائی اہم ہیں اشعار ملاحظہ فرمائیں :

نظم ’’گوتم بدھ ‘‘

حسن جب افسردہ پھولوں کی طرح پامال تھا

جب محبت کا غلط دنیا میں استعمال تھا

بے خودی کے نام پر جب دور جام بادہ تھا

جب تجلی حقیقت سے ہر اک دل سادہ تھا

زیست کا اور موت کا ادراک دنیا کو نہ تھا

ظلم کا احساس جب بے باک دنیا کو نہ تھا

بند آنکھیں کر کے اس دنیا کے مکروہات

تونے حاصل کی ضیائے دل، تجلیات سے

برف زاروں کو ترے انفاس نے کرما دیا

تیرے استغنا نے تخت سلطنت ٹھکرادیا

یاد تیری آج بھی ہندستاں میں تازہ ہے

چین، جاپان ااور تبت تک ترا آوازہ ہے

روشنی جس کی نہ  ہوگی ماند وہ مشعل ہے تو

سر زمین ہند کا عرفانیٔ اول ہے تو

نظم ’’سری کرشن ‘‘

ہوا طلوع ستاروں کی دلکشی لے کر

سرور آنکھ میں نظروں میں زندگی لے کر

خودی کے ہوش اڑانے بصد نیاز آیا

نئے پیالوں میں صہبائے بے خودی لے کر

فضائے دہر میں گاتا پھرا وہ پریت کے گیت

نشاط خیز و سکوں ریز بانسری لے کر

جہان قلب سراپا گداز بن ہی گیا

ہر اک ذرہ محبت کا ساز بن ہی گیا

ہر ایک ذرے کو دل دے کے بے قرار کیا

جو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتا

جہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا

سیماب اکبر آبادی نے بچوں کے لئے بھی ان کی نفسیات کو ذہن میں رکھ کر نظمیں لکھیں، جسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ معصوم بچوں کی معصوم ذہنیت کو کتنی اچھی طرح سمجھتے تھے، سیدھے سادے آسان لفظوں میں پانی کی طرح بہتی بچوں کی نظم ’’برسات ‘‘ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :

نظم ’’ برسات ‘‘

برکھا آئی، بادل آئے

اوڑھے کالے کمبل آئے

ٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں

کالی کالی چھائیں گھٹائیں

گرمی نے ڈیرا اٹھوایا

دھوپ پہ سایہ غالب آیا

بادل سے امرت جل برسا

امرت جل کیسا کومل برسا

ہوگئی زندہ مردہ کھیتی

سیماب اکبر آبادی اپنی غزلوں کی دنیا کے بادشاہ نظر آتے ہیں۔ جہاں ان کی وسعت نظر اور وسعت فہم کا قائل ہو نا پڑتاہے۔ سیدھے سادے انداز میں لکھی معنی خیز غزلیں ذہن کو جھنجوڑنے کا کام کرتی ہے۔ ان کی غزلیں ان کی شخصیت کا آئینہ ہے جس میں ان کے خیالات، احساسات، تجربات، مشاہدات اور زمانی و مکانی تبدیلیوں و تقاضوں کو بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہیں۔ نمونہ کلام ملاحظہ فر مائیں :

محبت میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے  انساں پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر

٭

اب کیوں ہمارے سامنے آتے ہو بے حجاب

جب  خو گر  تجّلی   مستور   کر    دیا

٭

بدل گئیں وہ نگاہیں یہ حادثہ تھا اخیر

پھر اس کے بعد کوئی انقلاب ہو نہ سکا

سیماب کی انفرادیت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اردو غزل کے مروجہ موضوعات یعنی حسن و عشق اور ومانیت سے گریز کر کے بقول ڈاکٹر شہپر رسول ’’فلسفہ، حقائق و معرفت اور عشق حقیقی پر اپنی توجہ مرکوز کر تے ہیں، ‘‘(بحوالہ، اردو شاعری میں پیکر تراشی ) اشعار ملاحظہ فرمائیں :

انجام ہر اک شئے کا بجز خاک نہیں ہے

کیا ہے جو یہ عالم خس وخاشاک نہیں ہے

آنکھوں سے ہر اک پردۂ موہوم ہٹادے

اتنی نگہ شوق ابھی چالاک نہیں ہے

٭

بدن سے روح رخصت ہورہی ہے

مکمل قید غربت ہو رہی ہے

میں خود ترک تعلق پر ہوں مجبور

کچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے

٭

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے

یہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے

مدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہے

ہو کوئی نو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے

سیماب اکبر آبادی نے تا عمر شاعری کی خدمت کی او ر اپنے بعد اپنے شاگردوں کی ایک جماعت بھی چھوڑی جو ان کے مقصد حیات کو آگے بڑھاتے رہے۔ وہ شاعری کو لطف اندوزی یا وقت گزاری کا سامان نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس میں زندگی کا مقصد حیات بھی تلاش کرتے تھے۔ بلا شبہ وہ ایک ممتاز شاعر تھے جن کو آج تک پڑھنے اور ان کی شاعری کو سمجھنے کا سلسلہ جاری و ساری ہیں، ا ن کے طویل شعری سفر کو چند صفحات میں بیان کرنا ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہاں ان کی شاعری کی مختلف جہات کا ایک مجموعی مطالعہ پیش کیا گیا تاکہ ان کی شاعری کی دنیا سے آگہی حاصل ہو سکے، ان کی شاعری بھی ایسی ہے کہ پڑھنے والے کو اپنی داستان معلوم ہوتی ہے۔ اس بات کا احساس شاید سیماب اکبر آبادی کو بھی تھا، وہ خود کہتے ہیں :

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے

جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا

خلائیں چھو ڑ دیں ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں

مزید دکھائیں

صالحہ صدیقی

ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

متعلقہ

Back to top button
Close