ادباردو سرگرمیاں

سی سی ایس یو میں شعری نشست اور کتابوں کی نمائش کا انعقاد

درحقیقت چھوٹی چھوٹی شعری نشستیں ادب کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہیں: پرو فیسر اسلم جمشید پوری

آج کی شام شعبۂ اردو کے لیے یاد گار ہے۔ ساہتیہ اکا دمی، نئی دہلی کے اشتراک سے منعقد یہ اردو ہندی شعری نشست میرٹھ کے ادبی پرستاروں کے لیے کسی بیش قیمتی تحفے سے کم نہیں ہے۔ در حقیقت ایسی چھوٹی چھوٹی شعری نشستیں ادب کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان سے نہ صرف زبان کا ارتقا ہو تا ہے بلکہ ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کے مواقع بھی فراہم ہوتے ہیں۔ یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری کے جو شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی کے اشتراک سے منعقدہ شعری نشست میں بطور صدر مشاعرہ کی حیثیت سے اپنا صدارتی خطبہ پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرٹھ کی سر زمین بھی ادب کا ایک بڑامرکز ہے اور یہ اسما عیل میرٹھی کا شہر ہے۔ اس کے ذرے ذرے میں ادب کی شعا ئیں بکھری رہتی ہیں۔

اس سے قبل پرو گرام کا آ غاز سا ہتیہ اکا دمی کے او ایس ڈی ڈا کٹر دیویندر کمار دیویش نے استقبالیہ کلمات سے کیا اور انہوں نے معاونت کے لیے شعبۂ اردو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ساہتیہ اکا د می کی سر گرمیوں پر رو شنی ڈا لتے ہوئے کہا کہ آج ساہتیہ اکا دمی کی پہنچ گائوں گائوں تک ہو چکی ہے اور ہر طبقہ اس سے فیض یاب ہو رہا ہے۔ آج کی یہ اردو ہندی شعری نشست بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس نشست میں تین شعرا اردو اور تین شعرا ہندی کے اپنا کلام پیش کریں گے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈا کٹر شاداب علیم نے ادا کی۔

اس مو قع پر ساہتیہ اکادمی کے ذریعے شائع شدہ کتابوں کی نمائش لگائی گئی جس میں خریداروں کو خاص رعایت دی گئی۔

شعری نشست میں پڑھاگیا مخصوص کلام قارئین کے پیش نظر ہے:

سبھی پھولوں میں کلیاں بولتی ہیں

سمندر میں بھی ندیاں بولتی ہیں

میں لمحہ ہوں مجھے محسوس کرنا

مرے شعروں میں صدیاں بولتی ہیں

کرشن کمار بیدل

دعا سلام کا رستہ نکالنا ہوگا

ضدوں کے پھولوں پہ تیزاب ڈالنا ہوگا

ہمارے اور تمہارے یہی ہیں دو دشمن

تمہیں زبان ہمیں دل سنبھالنا ہوگا

ادنیٰ عشق آ بادی

ہم اپنے بزرگوں کی دعا اوڑھ کے نکلے

جب دوھوپ میں نکلے تو گھٹا اوڑھ کے نکلے

دیکھے تو کوئی میرے چراغوں کی ذہانت

میدان میں نکلے تو ہوا اوڑھ کے نکلے

فخری میرٹھی

جس پاگل پر سارے رستے ہنستے تھے چلنے والے

 اس پاگل نے ہی رکھے ہیں کنکر پتھر ایک طرف

دو نوں میں سنگھرش چھڑا ہے حشر نہ جانے کیا ہوگا

 ایک طرف ہیں سارے مذہب سویت کبوتر ایک طرف

رام گو پال بھارتیہ

پتھر بھی تجھے دیکھ پگھل جائے گا

بھنورے کا کوئی گیت مچل جائے گا

تو بھول کر بھی انگڑائی مت لینا

سنتوں کا بھی ایمان بدل جائے گا

منوج کمار منوج

چلو اٹھو اب مانو جننی

یدی کوکھ میں تیرے کنیا ہے

ہاتھ نہیں نرمنڈ کاٹو

چھونے کی یدی کوشش ہو

سواتی شرما

اس مو قع پرقاضی ظہیر عالم (مظفر نگر)وید پرکاش بٹک، ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی، ڈا کٹر جمال احمد صدیقی، ڈا کٹر اسلم صدیقی، ڈا کٹر تعظیم جہاں، ڈا کٹر عفت ذکیہ، ڈا کٹر سیدہ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، ڈا کٹر ودیا ساگر، انجینئر رفعت جمالی، پر بھات را ئے، ار وند شرما، بھا رت بھو شن شرما، انل شر ما، ہیمنت گویل، اننیا شرما، مہک اروڑہ، میور کمارتسلیم جہاں، مفتی نعیم، حا جی عمران صدیقی، آ فاق احمد خاں، ایڈ وکیٹ سرتاج احمد، ماجد میرٹھی، دیپک، طاہر علی جوہر، محمد سہیل خان، مدیحہ اسلم، شناور اسلم، شاداب ویٹوی، شبستاں خاں، طلبہ و طالبات اور عمائدین شہر خاصی تعداد میں موجود رہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close