ادبدیگر نثری اصناف

شاعری: ایک بلندپایہ صنف سخن

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

   شاعری فنون لطیفہ میں ایک بلند پایہ فن کی حیثیت رکھتی ہے؛ جس کی تعمیر وتشکیل میں ہر چند کہ مختلف عنا صر کار فرما نظر آتے ہیں ؛ لیکن یہ عناصر اس لطیف اندازمیں ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں کہ ان کو علاحدہ کرنا اس کی جمالیاتی زندگی کو بے رونق کردینے کے مترادف ہے ۔

شاعر کا یہ عمل پرندے کے اس عمل سے زیادہ مشابہ ہے ؛جس میں وہ اپنے آشیانےکیلئے تنکا تنکا اکھٹاکرتاہے اور پھر اپنی تخلیقی قوت کے ذریعہ ان کو با ہم پیوست کرتا چلا جاتا ہے ، تب کہیں جا کر وہ اپنے آشیانے کو وجود بخشتاہے ۔

شعر و شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے؛ شاعر کاطائرفکر جتنا بلندپروازہوگااورمضمون آفرینی میں جس قدرمبالغہ آرائی ہوگی ، اتنا ہی شعر خوبصورت ہو گا۔

علامہ ابن خلدون شعر کی تعریف و ماہیت یوں بیان کرتے ہیں : شعر ایک ایسا بلیغ کلام ہے، جس کامدار استعاروں اور اوصاف پرہے۔ اس کے اجزا ءوزن میں متفق ہوتے ہیں اور ایک روی رکھتے ہیں اور ہر جزو اپنے مقاصد و غرض کے لحاظ سے مستقل بالذات ہوتا ہے اور اس کا قبل و مابعد سے کوئی تعلق نہیں ہوتااوروہ مخصوص اسالیبِ عرب کے مطابق ہوتا ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون)

زمانہ جاہلیت اور شاعری:

عرب اپنی زبان دانی،طلاقت لسانی اور فصیح الکلامی کی بدولت مشہور رہے ہیں ، شاعری سے عربوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ، فطری ذوق اور معاشرتی حالات نے اس کو مزید نکھارا حتی کہ کہا جا سکتا ہے کہ شاعری عرب کے خون میں رچی بسی تھی، قبل از اسلام عرب میں شاعری کی کئی اصناف رائج تھیں ، منافرت، ہجو، قصیدہ، شباب، عشق ، ہجر و وصال غرض ہر طرح سے ہی شاعری عرب کا اوڑھنا بچھونا رہی ہے ،مختلف شعری مقابلہ ہوتے کلام کی فصاحت و بلاغت کو دیکھتے ہوئے افراد کے مراتب طے کئے جاتے، بہترین کلام کو خانہ کعبہ میں لٹکایا جاتا اور عزت و تکریم دی جاتی ، عام گفتگو میں نثر سے زیادہ شعر بیان کئے جاتے،حتی کہ عرب کے مشہور بازاروں میں مشاعرے منعقد ہوتے ۔۔۔۔مختصر یہ کہ زمانۂ جاہلیت میں شعروسخن کا بول بالا تھا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبل از اسلام کا شعری زخیرہ نثر سے کہیں زیادہ ہے . اگر یہ کہا جائے کہ نثری ادب نا ہونے کے برابر تھا تو غلط نہ ہوگا. غرض شاعری انکی زندگی تھی.

اسلام میں شاعری کی حیثیت:

 انبیاء کرامؑ کی بات تخیل پر نہیں بلکہ وحی اوریقین پر ہوتی ہے، اس لیے شعر و شاعری انبیاءؑ کے شایان شان اور مقام ومرتبہ کے مطابق نہیں ہے۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ شاعر کہتے تھے مگر قرآن کریم میں ہے وَمَاعَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ اور نہیں سکھایا ہم نے آپؐ کو شعر اور نہ ہی وہ آپؐ کے شایان شان ہے۔

ایک اور جگہ قرآن کریم میں ہے وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوُوْنَ اورشعراء کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں ، قرآن کریم نے شعر وشاعری کو رسالت کے اوصاف میں ذکر نہیں کیا؛لیکن مفکر اسلام علامہ زاہدالراشدی لکھتے ہیں :

شعر فی نفسہٖ حضورؐ نے استعمال بھی کیاہے اور اس کی تعریف بھی کی ہے، آپؐ نے شعر سنے بھی ہیں اور سنائے بھی ہیں ۔

نفی کا مطلب مطلقاً نفی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر ہونا حضورؐ کے شایان شان نہیں ۔ مطلقاً شعر کا وجود ایک ذریعہ ہے جو اظہار کے طور پر پہلے بھی موجود رہا ہے ، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ آنحضرتؐ نے شعر وشاعری کو اسلام کی دعوت و دفاع کے لیے استعمال کیا ہے، حضورؐ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن شعر کو حُدی، رجز اور غزل کے طور پر آپؐ کے سامنے پڑھا گیا ہے جس پر آپؐ داد بھی دیتے تھے۔ سمرۃ بن جندبؓ کی شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ حضورؐ کی مجلس میں اشعار پڑھے جاتے تھے اور آپؐ داد بھی دیتے تھے جبکہ ترانے (رجز) تو حضورؐ نے خود بھی پڑھے ہیں ۔

جناب نبی اکرمؐ کی قریشیوں کے ساتھ تین جنگیں ہوئیں ۔ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ احزاب۔ جب آنحضرتؐ احزاب کی جنگ سے فارغ ہوئے تو مسجد نبوی میں خطبہ ارشاد فرما یا کہ مسلمانو! اب قریشیوں کو حوصلہ نہیں ہو گا کہ وہ ہم پر حملہ کریں ، ان کا آخری زور لگ چکا ہے۔ سارا عرب بھی اکٹھا کر کے لے آئیں تو کچھ نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے ایک مہینہ محاصرہ رکھا لیکن قرآن کہتا ہے لَمْ یَنَا لُوْا خَیْرًا کہ کچھ بھی نہیں حاصل کر سکے اور پورا مہینہ ذلیل ہوئے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ اب یہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے، اب جب بھی حملہ کریں گے تو ہم خود کریں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

اور دوسری بات آپؐ نے یہ فرمائی کہ قریشیوں کو تمہارے خلاف اب تلوار کی جنگ کا حوصلہ نہیں ہو گا لیکن اب وہ زبان کی جنگ لڑیں گے، تمہارے خلاف پراپیگنڈا کریں گے، تمہاری مذمت اورکردار کشی کریں گے، شعر و شاعری کریں گے، تجارتی میلوں میں تمہارے خلاف نفرت پھیلائیں گے، اور تمہارے خلاف اعتراضات کا طوفان کھڑا کریں گے۔

آپؐ نے فرمایا کہ تلوار کی جنگ میں تم سب میرے ساتھ تھے، اس زبان جنگ میں کون کون میرے ساتھ ہو گا؟ اس پر تین آدمی کھڑے ہوئے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ۔ تینوں اپنے دور کے بڑے شاعر تھے اور تینوں انصاری تھے، تینوں نے ذمہ داری اٹھائی کہ شعر و شاعری کی جنگ ہم لڑیں گے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا، یا رسول اللہؐ ! میں اس زبان کے ساتھ کافروں کو چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا۔ حضرت حسان بن ثابتؓ حضورؐ کی مدح اور نعت بیان کرتے تھے اور کافر حضورؐ کی ہجومیں جو کلام کرتے تھے ان کا جواب دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ رجزیہ اور رزمیہ شعر کہتے تھے کہ اڑا دیں گے، کاٹ دیں گے، چیر پھاڑ دیں گے، تباہ کر دیں گے وغیرہ۔ جبکہ حضرت کعب بن مالکؓ توحید، اللہ کی صفات، اسلام کی خوبیاں ، اسلام کے احکام اور عبادات کی باتیں کرتے تھے اور کفر و شرک کی برائیاں بیان کرتے تھے۔

چنانچہ یہ جنگ بہت عمدگی سے لڑی گئی۔ اتنے مزے سے لڑی گئی کہ ایک سال حدیبیہ میں حضورؐ عمرہ نہیں ادا کر سکے تھے اور واپس آگئے تھے۔ آپؐ نے عمرہ قضا اگلے سال ان ہی صحابہؓ کے ساتھ کیا جو کہ پندرہ سو کے لگ بھگ تھے۔ احرام باندھے ہوئے تھے اور تلواریں میان میں تھیں ، جب مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہؐ کی اونٹنی کی مہار حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ باقی لوگ لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْک پڑھ رہے تھے جبکہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ رجز پڑھ رہے تھے کہ مار دیں گے، کاٹ دیں گے۔ کفار مکہ وہیں موجود تھے اور یہ سب ان کے درمیان سے جا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھ لیا کہ باقی سب لوگ تلبیہ پڑھ رہے ہیں اور یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے قریب آکر زبان سے نہیں بلکہ اشارے سے بات کی کیونکہ ساتھ اونٹ پر آپؐ سوار تھے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ سے اشارتاً کہا کہ خدا کے بندے کعبہ سامنے ہے اور تم اپنی شاعری میں لگے ہوئے ہو۔ جناب نبی کریمؐ نے حضرت عمرؓ کو دیکھ لیا اور کہا دعہ یا عمر عمر اسے پڑھنے دو، اس کے اشعار کافروں کے سینوں میں تمہارے تیروں سے زیادہ نشانے پر لگ رہے ہیں ۔

(ملخص :شعر و شاعری کی اہمیت و ضرورت)

اس ساری تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ ضرور کہا ہے کہ شعر و شاعری انبیاءؑ کے شایان شان نہیں ، لیکن شعر و شاعری کی مطلق نفی نہیں کی ہے۔ اس لیے کہ حضورؐ نے دعوت اور دفاعِ اسلام کے لیے اظہار کے ذرائع کے طور پر خطابت اور شعر دونوں کو استعمال کیا ہے۔

  یوں توگفتار، متکلم کے معیار ِفکر کی آئینہ دار ہوتی ہے، نثر کے بالمقابل نظم زیادہ پرکشش، جاذب نظر اور حساس ہوتی ہے ؛اسی لئےایک عظیم شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذاتی جذبات کو آفاقی قدروں کے ساتھ ملا کر اسے ارفع و اعلیٰ بنا دیتا ہے۔

اردوشاعری کا آغاز:

عرب و ایران اور ہندوستان کے تجارتی تعلقات ،مسلم بادشاہوں کی آمد اور پھر ان کی حکومتوں کے قیام کے بعد یہاں کے مقامی باشندوں اور مسلمانوں کے مشترکہ میل ملاپ ،سماجی،معاشرتی اور لسانی تقاضوں کے سبب ایک نئی زبان کا وجود ہوا ؛جسے ہندی،ہندوی،ہندوستانی،ریختہ،لشکری،کھڑی بولی کانام دیا گیا جوآگے چل کر اردو کہلائی ۔محمود غزنوی کے دور میں مسعود سلمان سے اردو شاعری کا آغاز ہوا جو امیرخسروؔ تک پہونچ کر کافی ترقی کرگئی۔خواجہ نظام الدین اولیا کے خلفا و مریدین ،مسلم صوفیائے کرام ،غیر مسلم  بھگتی تحریک کے مبلغین ،شمال و جنوب کے شاعروں اور ادیبوں کی مشترکہ جدو جہد سے اردو شاعری نے اپنادائرہ بہت جلد وسیع کرلیا ۔اردو شاعری کے آغاز اور اس کے ارتقائی عمل میں مسلم و غیر مسلم دونوں نے برابر برابر حصہ لیا ۔اور مسعود سعد سلمان اور خسروؔ نے جس درخت کی تخم ریزی کی تھی اس کی آبیاری میں مختلف شعراءنے اپنا خونِ جگر لگا کر اسے پروان چڑھایا یہ انھیں حضرات کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج جہاں جہاں اردو بولی ،پڑھی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں اردو شاعری موجود ہے۔

مختصر انداز میں اردو زبان و ادب کی شاعری کا ایک سرسری جائزہ لیاجائے تو غالب کی پیچیدہ خیالی ،میر کا حزن وملال ،جگر کی سرشاری ،ناسخ کی استادی ،داغ کی سادہ بیانی ،فانی کی قنوطیت وگریہ وزاری یہ سب مل کر غزل کا پیکر جمیل اختیار کرلیتے ہیں تو شاعری وجود میں آتی ہے۔

غزل کی شعریت ،تغزل ،اثر پذیری ،معنی آفرینی ،ایجاز واعجاز،داخلیت وخارجیت غرضیکہ ہر وہ خصوصیت وانفرادیت جو اس کوبقول پروفیسر رشید احمد صدیقی ’’اردو شاعری کی آبرو‘‘کامقام عطا کرتی ہے ۔

شاعری کسی بھی انسان کے لیے اپنے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی کا نام ہے کوئی بھی انسان ہو وہ ہر وقت کسی نہ کسی چیز یعنی قدرت کی تخلیق کردہ اشیاء کے مشاہدے میں یا اپنی ایجادات اور تخلیقات میں مصروف رہتا ہے اور سوچ میں گم رہتا ہے۔ ہر انسان اپنے نظریے سے سوچتا ہے؛لیکن حساس لوگ کا مشاہدہ بہت ہی گہرا ہوتا ہے شاعری کا تعلق بھی حساس لوگوں کے ساتھ زیادہ ہے۔

 اِن مشاہدات ، خیالات اور تجربات کے اظہار کا طریقہ سب کا الگ الگ ہے کچھ لوگ اس کو عام باتوں کی طرح گفتگو سے ظاہر کرتے ہیں کچھ لوگ اس کو لکھ کر یعنی نثر کی صورت میں بیان کرتے ہیں جس کو مضمون نویسی، ناول نگاری، افسانےاور کہانیوں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور کچھ لوگ مختلف فنون جیسے مجسمہ سازی، سنگ تراشی، نقش نگاری اور فنِ مصوری کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری ہوتا ہے۔

جو باتیں روز مرہ کی ہیں ان کی قدر کیا لیکن

پہن لیں جب لباسِ شعر ان کی دھوم ہو جائے

نظر لکھنوی

شاعری کی بہت سی اقسام ہیں ؛ صنفِ غزل قدیم اصنافِ سخن میں سے ایک ہے اور یہ ایک مخصوص اندازِ تحریر ہے جو شاعری کے ساتھ منسوب ہے جس کے اصولوں پہ فارسی اور پنجابی زبانوں میں شاعری لکھی جاتی ہے؛ شاعری کی مشہور اصناف میں حمد، نعت، مثنوی، مسدس، نظم، پابند نظم، آزاد نظم، قصیدہ، رباعی،مرثیہ، سلام ، گیت اور بیت بازی وغیرہ شامل ہیں ۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close