ادباردو سرگرمیاں

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں توسیعی خطبات کا انعقاد

عربی فارسی اور اردو کے درمیان رشتوں کی اہمیت مسلم ہے۔

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام آج دو الگ الگ موضوعات پر توسیعی خطبات کا انعقاد شعبہ کے سمینار ہال میں کیا گیا۔ پہلا خطبہ شعبۂ فارسی کے استادپروفیسر عراق رضا زیدی نے ’فارسی غزل کے اردو غزل پر اثرات‘ کے عنوان پر خطبہ پیش کیا۔ خطبے کے دوران اردو غزل پر فارسی غزل کے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں اردو غزل پر فارسی غزل کے بہت نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انھوں نے  حافظ، رومی، خسرو اور میر و غالب اور اقبال کے کلام کو بطور نمونہ پیش بھی کیا۔

اس خطبے کے کنوینر ڈاکٹر خالد جاوید تھے۔ مہمان مقرر کا تعارف ڈاکٹر خالد مبشر نے پیش کیا۔ اس کے فوراً بعد دوسرے خطبے کا انعقاد عمل میں آیا جس کے مقرر پروفیسر حبیب اللہ خاں، شعبۂ عربی، جامعہ ملیہ اسلامیہ تھے۔انھوں نے ’عربی میں اردو زبان و ادب کے ترجمے کی روایت‘ پر خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے ترجمہ کے اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ دراصل ایک زبان کا ترجمہ نہیں ہے بلکہ ایک پوری تہذیب کے منتقل کرنے کا نام ہے۔ اس کے علاوہ مقرر نے ہند و عرب کے تعلقات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس کی تاریخی و ثقافتی پس منظر کو بہت ہی واضح انداز میں بیان کیا۔ دوسرے خطبے کے کنوینر شعبے کے استاد ڈاکٹر ندیم احمد تھے۔ انھوں نے مہمان مقرر کا تعارف پیش کرتے ہوئے ترجمے کے اہم نکات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ دونوں توسیعی خطبات کی صدارت فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز کے ڈین پروفیسر وہاج الدین علوی نے کی۔ انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے خطبے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی موضوع پر کم وقت میں بنیادی معلومات سے واقفیت ہوجاتی ہے۔ دونوں توسیعی خطبات سے قبل صدر شعبہ پروفیسر شہپر رسول نے دونوں مہمان مقرر کا صمیم قلب سے استقبال کیا اور کہا کہ ہم آئندہ دوسری زبانوں کے ماہرین کو بھی مدعو کریں گے، تاکہ ہمارے طلبا ان سے مستفیض ہوسکیں۔ خطبے کے دوران ڈاکٹر مہ ناز عبید کی کتاب ’قاضی عبدالستار کی افسانہ نگاری‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

خطبے کا آغاز عبدالرحمن کے تلاو ت کلام پاک سے ہوا۔ پہلے خطبے میں ڈاکٹر مشیر احمد اور دوسرے خطبے میں پروفیسر شہزاد انجم نے مہمانوں کے ساتھ تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقعے پر پروفیسر اسحاق احمد، پروفیسر عبید الرحمن ہاشمی، ڈاکٹرمہ ناز عبید، ڈاکٹر رحمن مصور، ڈاکٹر اورنگ زیب، ڈاکٹر زہرہ خاتون، ڈاکٹر محمد محفوظ، ڈاکٹر مغیث الدین، ڈاکٹر سعود عالم کے علاوہ شعبے کے اساتذہ پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرور الہدیٰ، ڈاکٹر تنویرحسین، ڈاکٹر ابوالکلام عارف، ڈاکٹر سلطانہ واحدی، ڈاکٹر محمد آدم،ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر نوشین حسن شامل تھے۔ علاوہ ازیں کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالر اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close