ادبغزل

شگفتہ غزل

افتخار راغبؔ

بزمِ ادب میں چیخنے گانے سے ہم رہے

رکھ کر بھی مال دھوم مچانے سے ہم رہے

اس درجہ تھک گئے ہیں کہ بیگم نہ پوچھیے

باہر کسی کے پانو دبانے سے ہم رہے

موسم ہے اتنا سرد کہ پانی ہوا ہے برف

ہر ہفتہ اے حکیم نہانے سے ہم رہے

اک روز قبل روٹھ کے میکے چلی گئیں

اُن کو منا کے عید منانے سے ہم رہے

سالے سے کوئی نوک نہ سالی سے کوئی جھونک

سسرال میں اگرچہ زمانے سے ہم رہے

 سب کچھ ہے دستیاب سسر جی کا ہو بھلا

محنت سے چار پیسے کمانے سے ہم رہے

ہر گھر میں چوکی دار ضرورت سے تھے سوا

ان کی گلی میں اور بہانے سے ہم رہے

 چوری کی شاعری پہ ہمیں مل رہی ہے داد

اپنا اب ایک شعر سنانے سے ہم رہے

ڈر ہے کہ کوئی چور نہ کہنے لگے ہمیں

ان کی گلی میں آنکھ چرانے سے ہم رہے

بیگم سے نوک جھونک میں پھٹ ہی گئی قمیص

اس عمر میں تو دوسری لانے سے ہم رہے

بے وزن شاعری کی یوں راغب پڑی ہے لت

مصرع جو گر گیا تو اٹھانے سے ہم رہے

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close