ادبدیگر نثری اصناف

 شہریار کے شعری مجموعے: ایک تعارف

محمد عارف (ایم۔اے، اردو) 

  شہریار ترقی پسند اور جدیدیت کے ساتھ ساتھ مابعد جدیدیت میں اردو شاعری کا ایک درخشندہ ستارہ ہیں ان کی شاعری اپنے وقت کی معکوسیت ہے اور حالات کی تلخیوں کی روداد ہے اگر چشمہ تعصبیت کو پس پردہ رکھ کر اور نظم کی ہیئت میں نئے تجربوں ،معانی و بیان کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی روش کو بدعت گمان نا کیا جائے تو شہر یار کی شاعری  ہمارے لیے فکر و نظر کا بہت کچھ سامان با ہم پہنچاتی ہے پچھلے چند سالوں کی تجزیہ کاری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہریار کی شاعری اس کی واضح مثال بن سکتی ہے بقول وحید اختر "ان کی نظمیں نہ معمے ہیں نہ پہیلیاں ،چٹکلے ہیں نہ لطیفے بلکہ ایسے لخت ہائے جگر ہیں جن میں ہمارے عہد کا ادبی مزاج بھی ملتا ہے اور آج کے انسان کے دل کا خون بھی”۔۔علی سردار جعفری نے اپنے رسالہ ‘گفتگو’ کے پہلے شمارے میں انہی عناصر کی توجہ کرتے ہوئے شہر یار کی درجہ ذیل نظم کو نمایاں طور پر شائع کیا تھا۔۔۔

وہ  جو  آسماں  پہ  ستارہ   ہے
اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو
اسے اپنے ہونٹوں سے  چوم  لو
اسے   اپنے   ہاتھوں سے  توڑ لو
کہ  اسی  پہ  حملہ  ہے  رات  کا

    شہریار نے اپنی شاعری میں ہر پہلو کو جگہ دی ہے اگر چہ لہجہ تلخیت کی طرف مائل ہے پر شہریار ہمیشہ سے ادب کی سماجی معنویت پر زور دیتے رہے ہیں  وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ شاعری اور ادب میں ایک سماجی شعور ہوتا ہے اور ادب کی تفہیم صرف ادب کے اصولوں سے ممکن نہیں ۔۔ سب سے پہلے شہریار پر ایک تعارفی مضمون خلیل الرحمن اعظمی نے لکھا جو ‘فنون’ لاہور کے غزل نمبر میں شائع ہوا خلیل الرحمن اعظمی لکھتے ہیں کہ "شہریار نے عام طور پر مختصر نظمیں لکھیں ہیں ۔مختصر نظم بظاہر آسان سی چیز معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ خطرناک کوئی صنف نہیں ہے۔۔ ہندوستان و پاکستان میں اس وقت کئی ایک شاعر اس ٹکنیک میں اپنے کا شغف کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ان کی بیشتر نظمیں اس مفہوم سے عاری ہیں پر شہر یار نے اس کا مثبت استعمال کیا ہے”۔۔ (فنون لاہور ص 527 اکتوبر 1964)

   انہوں نے اردو ادب،شعر و حکمت وغیرہ رسالوں کی ارادت بھی کی ہے گو وہ ایک اچھے ادیب بھی ہیں  1936ء میں بریلی یوپی میں پیدا ہوئے اور 2012ء علی گڑھ میں انتقال ہوا۔۔

 نام : کنور اخلاق محمد خاں تھا پر شاد تمکنت نے ان کے ‘قصباتی’ نام پر اعتراض کیا جس کی وجہ سے انہوں نے خلیل الرحمن اعظمی کے مشورے پر اپنا شعری نام شہریار رکھ لیا۔۔

 یہاں میرا مقصد بس شہریار کے شعری مجموعوں کا ایک مختصر تعارف پیش کرنا ہے جنہوں نے شہریار کو اردو شاعری میں لا زوال شہرت کی نوازشات کی رخشندگی سے درخشندگی بخشی ہے اور افق شاعری میں چیز ہیچ ندارد سے چیز بیش قمیت دارد بنایا ہے

پہلا شعری مجموعہ (اسم اعظم 1965ء)

شہریار کا پہلا شعری ‘اسم اعظم’ کے نام سے 1965 میں شائع ہوا جس کا انتساب شہریار نے خلیل الرحمن اعظمی کی طرف کیا ہے "عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں ” اور جب خلیل الرحمن اعظمی کی کتاب ‘اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک’ پہلی بار 1957 میں شائع ہوئی تو انہوں نے اس کا انتساب شہریار کے نام کیا۔ یہ معاملہ انتساب ایسے ہی نہیں بلکہ آپسی والہانہ محبت کی وجہ سے تھا جو خلیل الرحمن اعظمی کو شہریار سے تھی۔

  اسم اعظم اور نیا عہد نامہ شعری مجموعہ از خلیل الرحمن اعظمی تقریبا دونوں ایک ساتھ شائع ہوئے راہی معصوم رضا نے ان دونوں مجموعوں کے ناموں کے بارے میں یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ ایک نے اپنے کلام کو ‘اسم اعظم’ کا رتبہ دے دیا اور دوسرے نے اپنے مجموعے کو ‘انجیل مقدس’ کا نام دے دیا۔۔

   نیا عہد نامہ پر سردار جعفری کا تبصرہ ہے جب کہ اسم اعظم پر ندا فاضلی نے تبصرہ لکھا ہے، ندا فاضلی کہتے ہیں کہ "اسم اعظم ایک نئے اور اچھے شاعر کے تجربات و احساسات کا پہلا خوب صورت روپ ہے۔ اس میں زندگی کے اوپری پردوں کے پیچھے ہونے والے ڈرامے کی راز داری کی لے تو مدھم ہے ہے لیکن تاثر کی دھیمی دھیمی آنچ اور فکر و خیال کی تازگی ہر جگہ نمایاں ہے۔۔ اسم اعظم پر تعارف  وحید اختر نے لکھا ہے جس میں انہوں نے موصوف (شہریار) کو ایسے شاعروں میں شمار کیا  تھا جنہیں اپنے وقت کی آواز کہا جا سکتا ہے۔۔ وحید اختر لکھتے ہیں کہ "شہر یار ان ہی شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے اس صدی کی چھٹی دہائی میں آہستہ آہستہ اس نئے طرز احساس،طرز فکر،انداز بیان اور لہجے کو اپنانے کی کوشش کی اور آٹھ دس برس کی مدت میں ان کا شمار ایسے شاعروں میں ہونے لگا جنہیں وقت کی آواز کہا جا سکتا ہے۔ان کی آواز خود بھی چوٹ کھائے ہوئے ہے اسی لیے دوسرے دلوں پر بھی چوٹ لگاتی ہے” ایک جگہ وحید اختر لکھتے ہیں کہ ” اس مجموعے (اسم اعظم) کی یہ نظمیں ضرور پڑھنی چاہیے جن کے عنوان ‘مستقبل،موت،پیغام،عرفان،سوال،التجا،قرب قیامت،ہم سفر،جرم وسزا،پرچھائیاں ،انوکھی پیشکش،نیا کھیل’۔ ان نظموں میں زندگی سے محبت کا احساس بھی ہے انسانوں کے مسائل اور ان کی ذات سے آگہی بھی،اور ایک بہتر سماج اور بہتر دنیا کی آرزو بھی”۔۔

  اسم اعظم کی پہلی نظم ‘خواب’ ہے

نغمگی آرزو کی بکھری ہے
رات شرما رہی ہے اپنے سے
ہونٹ  امید  کے   پھڑکتے  ہیں
پاوں حسرت کے لڑ کھڑاتے ہیں
خواب تعبیر کے شکستہ دل
آج پھر جوڑنے کو آئے ہیں

دوسرا شعری مجموعہ (ساتواں در 1969ء)

شہریار کا دوسرا شعری مجموعہ 1969ء میں شمس الرحمن فاروقی کے ‘شب خون’ کتاب گھر آلہ آباد نے شائع کیا۔۔ یہاں تک پہنچتے ہوئے شہریار دو عشقوں میں گرفتار ہو چکے تھے ایک عشق شاعری کا تھا اور دوسرا عشق ملیح آبادی نجمہ محمود کا تھا۔۔ اس مجموعے کی اشاعت بڑی دل پذیر اور دلچسپ حکایت پر مبنی ہے کہ  1968 میں محبت کے امتحان کا وقت قریب آیا اور جیب کے پیسے صرف اس بات کی اجازت دیتے تھے کہ یا تو نجمہ محمود کو نکاح میں لایا جائے یا پھر اپنا ‘شعری مجموعہ ساتواں در’ شائع کرکے لوگوں کے لیے اچھی اور عمدہ شاعری پڑھنے کا در کھولا جائے پر قسمت نے ساتھ دیا اور مایہ ناز نقاد شمس الرحمن فاروقی نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری لے لی۔۔ اور شہریار نجمہ محمود کو نجمہ شہریار بنا کر علی گڑھ لائے۔۔ کہتے ہیں کہ اگر اردو دنیا میں کوئی بھی شادی ‘ادبی’ ہو سکتی ہے تو وہ شہریار کی ہوئی۔۔

  شہریار نے اس مجموعے کا انتساب صدیق احمد صدیقی کے طرف کیا ہے اور کتاب کے آخری تیس صفحات ‘حرف تازہ’ عنوان سے نجمہ شہریار کے نام کیے ہیں ۔اس کتاب پر اتر پردیش کی اردو اکاڈمی نے ایک انعام بھی دیا۔۔

تیسرا شعری مجموعہ (ہجر کے موسم 1978ء)

  1978 میں شہریار کا تیسرا شعری مجموعہ ‘ہجر کے موسم’ نام سے اشاعت پذیر ہوا۔جس کا انتساب شہریار نے نجمہ شہریار کی طرف کیا ہے۔ اس شعر کے ساتھ؛-

آنکھوں میں تری دیکھ رہا ہوں میں اپنی مشکل
یہ  کوئی  واہمہ   ،   یہ  کوئی  خواب  تو نہیں

   اس کا دیباچہ ڈاکٹر خلیق انجم نے لکھا تھا،جس میں خلیق انجم لکھتے ہیں کہ "شہریار کے لب و لہجہ پر زندگی کی نا ہمواریوں ،ناکامیوں اور یاسیت کی تلخی اور درشتی کی گہری پرچھائیاں ہیں ۔۔ ان کے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی طنزیہ مسکراہٹ بھی اس لب و لہجہ میں شامل ہے جس کی وجہ سے تلخی میں اور شدت پیدا ہو گئی ہے، لیکن یہ تلخی ان حدود کو پار نہیں کرتی جہاں فنکار پر قنوطی یا یاسیت پسند ہونے کا الزام عائد ہوتا ہے”۔۔

 1974 سے 1981 تک  Indian Council for Cultural Relations نے چار جلدوں میں ہندوستان کی 14 زبانوں کی موجودہ شاعری کے انتخاب کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔۔ اردو شاعری کا انتخاب گوپی چند نارنگ نے کیا جو چوتھی جلد میں شامل ہے اور اس میں شہریار کی 6 نظموں کا ترجمہ بھی شامل ہے اس میں گوپی چند نارنگ کا ایک مبسوط مقالہ  بھی درج ہے جس میں وہ شہریار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ” شہر یار اس کی فکر نہیں نہیں ہے کہ ان کے شعر میں پیغام یا فیصلے ہوں ، وہ اس روحانی کرب اور نفسیاتی کشمکش کا اظہار کرتے ہیں جس سے آج کا زخمی آدمی دو چار ہے”۔۔

 1975 میں شہریار نے ‘شعر و حکمت’ کے اداریے میں لکھا تھا کہ "پچھلے دس سال ہمارے ادب کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں ، ہم ادب کے فنی یا کھلے لفظوں میں ادب کے غیر مقصدیت اور غیر افادی پہلو پر زور دیتے رہے ہیں ۔ ہمارا یہ انداز نظر ایک ادبی صورت حال کا ناگریز رد عمل تھا، اور کسی نا کسی صورت میں انتہا پسندی کا شکار ہو جاتا ہے”۔۔ سردار جعفری سمجھ گیے کہ ‘ادبی صورت حال’ کا اشارہ ترقی پسند تحریک کی طرف تھا، انہوں نے اپنے رسالے ‘گفتگو’ میں شہریار اور ان کے قبیلے کے شاعروں اور ادیبوں کے خلاف سخت تنقیدی الفاظ میں ایک اداریہ میں لکھا "میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ شہر یار کے دل میں ایک اچھا شاعر خوابیدہ ہے، غیر مقصدیت اسے بیدار نہیں ہونے دیتی۔۔ اتنے سخت الفاظ کے باوجود شہریار نے کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں آئی بلکہ گیان پیٹھ ایوارڈ کے لیے انہوں نے سردار جعفری کا ہی نام انتخاب کیا کیونکہ ان کی نظر میں اس وقت سردار جعفری کے علاوہ کوئی اس کا مستحق نہیں تھا۔۔

چوتھا شعری مجموعہ (خواب کا دربند ہے 1985)

  1985 میں شہریار کا چوتھا شعری مجموعہ ‘خواب کا دربند ہے’ پروفیسر آل احمد سرور کے مختصر تبصرے کے ساتھ شائع ہوا۔ اور اس کا انتساب وجے کمار بجاج کی طرف تھا آل احمد سرور تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "شہریار برابر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور اردو شاعری کو ان سے ابھی بہت توقعات ہیں ۔خدا کرے وہ تکرار اور تکان سے محفوظ رہیں "۔۔ 1987 میں ان کو اس شعری مجموعہ پر ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ ملا۔۔ اور 2008 میں گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔۔ اس مجموعے کے کاپی رائٹ ان کی بیوی نجمہ شہریار کے نام ہے،کتاب کے آخر میں شہریار نے اپنی بیوی کا ان الفاظ میں شکریہ ادا کیا "میں اپنی بیوی نجمہ شہریار کا (شکریہ) جو اس مجموعے میں شامل اکثر چیزوں کی پہلی سامع ہیں "۔۔ 1992 میں اس شعری مجموعے کا انگریزی ترجمہ The Gateway to Dream is Closed کے نام سے ہوا اور ساہتیہ اکاڈمی نے Slected Poetry of SHAHRYAR نام سے شائع کیا۔۔۔

پانچواں شعری مجموعہ (نیند کی کرچیں 1995)

   پانچواں شعری مجموعہ ‘نیند کی کرچیں ‘ شمس الرحمن فاروقی کے دیباچے کے ساتھ چھپا۔ اس کا انتساب وجے کمار بجاج اور شہریار کے دودرے بیٹے فریدون شہریار کے نام معنون ہے اور کاپی رائٹ سائمہ شہریار کے نام ہے۔۔۔
شہریار کے یہ وہ اہم شعری مجموعے ہیں جو قبولیت خواص و عوام کا مرکز ہیں جن کی نظمیں ترقی پسندی،جدیدیت اور ما بعد جدیدیت تعلق رکھتی ہیں اور ہر نظم کی اپنی ایک الگ پہچان ہے کہ ان میں کہیں لہجے کی تخلی،سماجی عکاسی،تو کہیں حلوت بیانی، شیریں مقالی اور سماجی افہام و تفہیم کی روداد دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی اردو اور دیوناگری شعری مجموعے ہیں جو علی یونیورسٹی سے رٹائر ہونے کے بعد لکھے گیے

میرے حصے کی زمیں (دیوناگری میں کلیات 1998)

  امتیاز احمد کا دیباچہ  ہے اور اس کا انتساب گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور مغنی تبسم کے نام ہے۔۔

میرے حصے کی زمیں حصہ اول (غزلوں کا کلیات 1999)

 ابو الکلام قاسمی کا دیباچہ ہے اور انتساب وجے کمار بجاج کے نام۔۔

حاصل سیر جہاں (کلیات 2001)

شہریار کا اپنا آدھے صفحے کا دیباچہ اور انتساب وجے کمار بجاج کے نام۔۔

دھند کی روشنی (انتخاب کلام شہریار 2003)

خود اپنا دو صفحات کا دیباچہ ہے اور انتساب کسی کے نام نہیں ۔۔

شام ہونے والی ہے (نیا اور چھٹا مجموعہ 2004)

خود اپنا ایک صفحے کا دیباچہ اور انتساب وجے کمار بجاج کے نام۔۔

حاصل سیر جہاں (کلیات)

 حاصل سیر جہاں میں شہریار کا 2001 تک کا مکمل کلام موجود ہے جو علی گڑھ شائع ہوا۔۔

سورج کو نکلتا دیکھوں (2008)

 سورج کو نکلتا دیکھوں ‘ کلیات میں شہریار کے پانچ شعری مجموعے شامل ہیں اس کلیات کا نام شہریار نے اپنے ہی شعر سے مستعار لیا ہے۔۔

ایک ہی دھن ہے کہ اس رات کو ڈھلتا دیکھوں
اپنی  ان  آنکھوں سے سورج کو نکلتا دیکھوں

  1972ء میں خلیل الرحمن اعظمی نے منیب الرحمن اور وحید اختر کے تعاون سے "نئی نظم کا سفر” نام سے جدید نظم کا ایک بے لاگ انتخاب شائع کیا۔۔اس میں شہریار کی نظم ‘نیا امرت’ (اسم اعظم) اور اپنی یاد میں (ساتواں در) وغیرہ نظمیں شامل کیں ۔۔

  گوپی چند نارنگ کے انتخاب (1981) میں شہریار ان نظموں کے تراجم شامل ہیں ۔۔

ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک (اسم اعطم)

فریب در فریب (اسم اعظم)

اسٹل لائف (ساتواں در)

نیا عذاب نیا دن (اسم اعظم)

دھند لکا  (ساتواں در)

رات،دن اور پھر رات (ساتواں در)

   رخشندہ جلیل نے 2004 میں شہریار کی نظموں کے ایک اچھے انتخاب کا انگریزی میں ترجمہ  Through the Closed Doorway نام سے کیا ہے۔۔

   آخر میں اپنی بات خلیق انجم کے اس اقتباس سے ختم کرون گا جو ‘ہجر کے موسم’ کے پیش لفظ سے ماخوذ ہے کہ "گزشتہ بیس برس میں شاعری میں جن ناموں نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا ہے،ان میں شہریار کا نام بھی شامل ہے، وہ اردو کے ان چند شاعروں میں ہیں جن کی شاعری کو قدیم اور جدید کا حسین ترین امتزاج کہا جا سکتا ہے”۔۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close