ادبغزل

شہر کے اتنے بتوں کی بندگی کیسے کریں

احمد علی برقی اعظمی

آپ کے نقشِ قدم کی پیروی کیسے کریں

بندہ پرور یہ بتائیں آپ ہی کیسے کریں

ہر کوئی خود کو سمجھتا ہے امیر شہر آج
’’ شہر کے اتنے بتوں کی بندگی کیسے کریں‘‘

زد پہ برق و باد کی ہر وقت ہے اپنا چمن
ہم بسر عہدِ رواں میں زندگی کیسے کریں

دندناتے پھر رہے ہیں دائیں بائیں شر پسند
آرزوئے امن و صلح و آشتی کیسے کریں

دوست دشمن میں ہے کرنا اب تو مشکل امتیاز
رونے سے فرصت نہیں ہے دل لگی کیسے کریں

اب نظر آتی نہیں کوئی کرن امید کی
دور گِرد و پیش کی یہ تیرگی کیسے کریں

اس میں ہے درکار برقی اعظمی خونِ جگر
تم ہی ایسے میں بتاؤ عاشقی کیسے کریں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close