ادبخصوصی

عالمی یوم مادری زبان اورحاشیہ پر پڑی زبان اردو

ہر زمانے اور ہر عہد میں،  ہر قوم کے درمیان اپنی مادری زبان کی اہمیت رہی ہے اور جس قوم نے اپنی مادری زبان کو اپنی زندگی کا اہم حصّہ بنایا،  اس قوم  نے ترقی کے منازل  طئے کئے ہیں ۔ ویسے کسی کا قول یہ بھی ہے کہ جس قوم کے وجود کو ختم کرنا ہو،  تو پہلے اس کی زبان ختم کر و۔ اس تناظر میں  آج یعنی 21  ؍فروری کو عالمی سطح پر منعقد کئے جانے والے یوم مادری زبان کا ہم ایک عمومی جائزہ لیں  تو ہم یہ پائینگے کہ دراصل اپنی زبان،اپنی تہذیب،اپنے تمدن،اور اپنی قدروں سے والہانہ لگاؤہی کسی بھی مہذب قوم کی علامت ہے اور بنگلہ زبان کے چاہنے والوں  نے اپنی مادری زبان سے  جنون کی حد تک عشق کرنے کی شاندارمثال قائم کی ہے۔ یہ ان کی اپنی مادری زبان سے والہانہ لگاؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ ان لوگوں  نے اقوام متحدہ کو اپنی مسلسل جد وجہدسے مجبور کر دیا کہ وہ ہر سال عالمی سطح پر یوم مادری زبان منعقد کرنے کا فیصلہ کرے۔

چنانچہ17 ؍نومبر1999 ء کو عالمی سطح پر یوم مادری زبان منائے جانے کے اعلان کے ساتھ ہی 2000  ء سے ہر سال  21فروری کو’ عالمی یوم مادری زبان‘ کے انعقاد کا اقوام متحدہ نے سلسلہ شروع کر دیا۔ جس پر پوری طرح سے عمل کیا جا رہاہے۔ ’عالمی یوم مادری زبان‘ کے سلسلے میں  کئی چونکانے والی معلومات ہمیں  اس طرح ملتی ہیں  کہ،  اردو زبان کو جب غیر منقسم پاکستان میں  قومی زبان تسلیم کیا گیا تو اس کے خلاف ( سابق ) مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں  زبردست احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت، مشرقی پاکستان میں ’ اردو ‘کی بجائے ’بنگلہ‘ زبان کو قومی زبان کا درجہ دے، لیکن حکومت پاکستان ان کے اس مطالبہ پر رضامند نہیں  ہوئی۔ جس کی مخالفت میں  احتجاج اور مظاہروں  نے وہاں  زبردست زور پکڑ لیا۔ ان بڑھتے احتجاج اور مظاہرے کو روکنے کے لئے حکومت وقت نے بہت سخت قدم اٹھائے، جگہ جگہ نہ صرف لاٹھی چارج کئے گئے بلکہ بعض جگہ، مشتعل ہجوم پر گولیاں  بھی چلائی گئیں ،  جس سے ڈھاکہ یونیورسٹی کے چار طلبہ کی موت واقع ہو گئی۔ ان طلبہ کی اموات نے احتجاج کرنے والوں  کو مذید مشتعل کر دیا اور ان لوگوں  نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی’ مادری زبان‘ کا حق لے کر رہینگے، اور حکومت پاکستان کے فیصلہ کے بر خلاف مشرقی پاکستان میں  29 ؍ فروری 1956 کو’ بنگلہ‘ زبان کو وہاں  کی قومی زبان بنائے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔ مادری زبان کی محبت کی یہ چنگاری ایسی پھیلی کہ پورا ملک آگ اور خون میں ڈوبنے گیا، احتجاج کی لو تیز سے تیز تر ہوتی گئی اورآخر کار1971 ء میں  صرف زبان کی بنیاد پر ملک منقسم ہو گیا۔

مجاہدین آزادی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوئے اور اپنے وجود کو بنگلہ دیش کے طور پر منوا  لینے کے ساتھ ساتھ مادری زبان کے لئے جان کی قربانی دینے والوں  کو ان لوگوں  نے فراموش نہیں  کیا  بلکہ ان کی یاد میں  ڈھاکہ میں  ایک شاندار یاد گار ’ شہید مینار‘  قائم کر ہر سال ان کی قر بانیوں  کو یا د رکھنے کے لئے  بڑے پیمانے پر ’ یوم شہادت ‘ منایا جانے لگا۔ اپنی مادری زبان ’بنگلہ‘کے تئیں  ان کایہ خلوص،  یہ جذبہ اور یہ محبت صرف اپنے ملک تک ہی محدود نہیں  رہا، بلکہ لندن اور سڈنی وغیرہ میں  بھی ’ شہید مینار ‘ کی تعمیر کرائی گئی اور ہر سال 21؍فروری کو ان یادگار میناروں  کے ذریعہ اپنی نئی نسل کو اپنی مادری زبان کے لئے ایثار و محبت کی یقین دہانی کراتے ہیں ۔

بنگلہ زبان کے چاہنے والوں  کی اپنی مادری زبان سے کس قدر والہانہ لگاؤ ہے، اس کا اندازہ ان کی آپس میں  کی جانے والی گفتگو، ان کا ادب،  ان کی صحافت،  ان کی تہذیب اور ان کی درسی و مذہبی کتابوں  کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ مادری زبان صرف بول چال کی زبان نہیں  ہوتی ہے بلکہ اس زبان میں اپنی تہذیب، تمدن، ثقافت،معاشرت اور قدروں  کی جڑیں  پیوست ہوتی ہیں ۔ جو شخصیت کی تعمیر و ترقی میں  بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جو لوگ اپنی مادری زبان کی اہمیت نہیں  سمجھتے اور نسل در نسل منتقل ہو رہی اپنی زبان کی امانت کی حفاظت نہیں  کر پاتے، ان کے سامنے، ایک ایسا وقت آتا ہے،  جب وہ اپنی قوم،  تہذیب،  ثقافت اور قدروں  کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی تعلیمات بھی دور اور  الگ  تھلگ پڑ جاتے ہیں  ا ور ان کی اور نہ ہی ان کے بچوں  کی کوئی شناخت بن پاتی ہے۔

 اس  سیاق و سباق میں  اب ہم ایک نظر اپنی مادری زبان’ اردو‘ کے منظر نامہ پر ڈالیں   تو ہمیں  سخت مایوسیوں  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ اس اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں  بلند بانگ دعٰوے ضرور کرتے ہیں ۔ لیکن جو تلخ حقائق ہیں ،  وہ اس کے ٹھیک برعکس ہیں ۔

 گزشتہ پندرہ برسوں  سے اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21  ؍فروری کو عالمی سطح پر’ یوم مادری زبان  ‘کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا جا رہا  ہے۔ اس موقع پر بہت سارے ممالک میں  اپنی اپنی مادری زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے طرح طرح کے لائحہ عمل تیار کئے جاتے ہیں ،  جن پر پورے سال بھر بہت سنجیدگی سے کا م کیا جاتا ہے،  لیکن افسوس اس دن یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی اس دستک کا ’ اردو والوں ‘ پر کوئی اثر نہیں  پڑتا۔ کوئی تحرک،  کوئی عمل نہیں ۔  جس کا نتیجہ کیا ہے، اسے بتانے کی ضرورت نہیں  کہ معاصر نسل اردو زبان سے لا تعلق ہو تی جا رہی ہے اور ان کی آنے والی نسل کی مادری زبان کیا ہوگی،   موجودہ منظر نامہ سے یہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

 آج’ اردو‘ زبان کا جو منظر نامہ ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے لئے زیادہ تفصیل میں  نہ جاتے ہوئے شیو پرساد سنہا ( سابق جج،  الٰہ باد ہائی کورٹ ) کے 30 ؍ مارچ 1968میں  منعقدہ بہار اردو کانفرنس کے موقع پر دیئے گئے ان کے، افتتاحیہ خطبہ کا ایک حصّہ پیش کرنا چاہتا ہوں ، جس میں  انھوں  نے فرمایا تھا کہ:  ’’  زبان کے سلسلے میں  راجند پرشاد،  عبد الحق معاہدہ آزادی سے پہلے 1938 میں  پٹنہ میں  ہوا تھا،  جس کی رو سے یہ قرار پایا تھا کہ اردو بخط فارسی اور ہندی بخط دیو ناگری ہندوستان کی زبان ہوگی۔ جس کو ہندوستانی  زبان کہا جائے گا۔ لیکن راجندر پرساد جی نے خود اس معاہدہ کو اس طرح توڑا کہ جب 1950  ء  میں ہندوستان کی زبان کا مسئلہ پارلیامنٹ میں  پیش ہوا تو ہندی کے حق میں  اور اس کے خلاف میں  برابر ووٹ آئے۔ لیکن پارلیامنٹ کے صدر کی حیثیت سے  راجند ر پرساد نے کاسٹنگ ووٹ کے ذریعہ ہندی کے حق میں  فیصلہ صادر فرمایا  ‘‘۔ المیہ یہ رہا کہ 77 کے مقابلے 77 ووٹ حاصل کرنے والی زبان ہندی کو قومی اور سرکاری درجہ دے دیا گیا اور اس کے فروغ  کے لئے سرکاری،  نیم سرکاری اور نجی طور پر بھی خوب خوب عملی کوششیں  ہوئیں ۔

جو فیصلہ کے مطابق یقینی طور پر اس کا حق تھا،  لیکن افسوس 77 کے مقابلے 77 ووٹ حاصل کرنے والی زبان ’اردو‘ کے تمام حقوق کو نہ صرف ختم کر دیا گیا بلکہ اس کے خلاف بیانات دے کر،  تحریک چلا کر اور عملی جد و جہد کر کے بے وطن ہی نہیں  بلکہ جلا وطن کرنے مزموم سازشیں  بھی کی گئیں ۔ اردو کو صرف مسلمانو ں  کی زبان ثابت کر کے اس زبان کو بھی وہی درجہ اور حیثیت دینے کی کوششیں  جاری ہیں ،  جو اس ملک کے مسلمانوں  کو دیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں  کی ایسی کوششوں  کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اردو آج لائبریریوں  اور مدرسوں میں  پناہ گزیں  ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب کوئی کھلم کھلّا اردو کو مسلمانوں  کی زبان قرار دیتا ہے۔ حالانکہ یہ زبان ہندو، مسلم،  سکھ عیسائی کے اتحاد و اتفاق کی علامت ہے اور ہر صاحب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہ اردو  ہی زبان ہے جس نے اپنی آغوش میں  لے کر، دیا نرائن نگم، پنڈت رتن ناتھ سرشار، پریم چند، چکبست، فراق، سدرشن،  جوش ملسیانی، ترلوک  چند محروم، آنند نرائن ملّا،  کرشن چندر، بیدی، رام لعل، جگن ناتھ آزاد، شانتی رنجن بھٹا چاریہ، وشو ناتھ طاؤس، دیوندر اسر، دیوندرستیارتھی، کالی داس گپتا رضا، تارا چرن رستوگی، گوپی چند نارنگ، کشمیری لال ذاکر، بلراج ورما،  رام لال نابھوی،گوپال متّل، رتن سنگھ، گیان چند جین،  جوگندر پال،  مالک رام،  بلونت سنگھ،  کرشن موہن،  موہن چراغی، مانک ٹالہ،  اوپندر ناتھ اشک، راج نرائن راز، شباب للت، نریش کمار شاد، فکر تونسوی، کنھیا لال کپور، بلراج کومل، کمار پاشی، گربچن چندن، جمنا داس اختر، گلزار زتشی دہلوی، شرون کمار ورما وغیرہ وغیرہ کے فکر و خیال کو آفاقیت بخشی اور شہرت و مقبولیت کی بلندیوں  پر پہنچا کر ان کے نام نامی کو چاند تاروں  کی مانند درخشندہ بنایا۔ اب کوئی بتائے کہ اردو اگر مسلمانو ں  کی زبان ہے تو پھر ان لوگوں  کو ذات اور مذہب کے کس خانے میں  رکھا جائے گا۔

 اردو والوں  کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آزادی حاصل ہوئے کتنی دہائیاں  گزر گئیں ،  لیکن اب تک  قومی سطح پر’  یوم  اردو ‘ منانے کی کوئی ایک تاریخ  طیٔ نہیں ہو سکی ہے، نہ ہی یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21   فروری کو عالمی سطح پر مادری زبان کی اہمیت اور افادیت  کے پیش نظر اس کے تحفظ اور اس کی بقا کے لئے دی جانے والی دستک کا ہی کوئی رد عمل ہورہا ہے۔ اگر ہم اردو والے اسی’ عالمی یوم مادری زبان ‘کے انعقاد کے دن اپنی مادری زبان کے سلسلے میں  محاسبہ کریں  تو بہت سارے نکات ایسے سامنے آئینگے، جن پر سنجیدگی سے عمل کر کے، اس کے بہترنتائج  سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے اردو زبان سے محبت کرنے والے خواہ وہ جس شعبہ حیات سے منسلک ہوں ،  انتظامیہ، عدلیہ، تعلیم،  صحافت،  تجارت غرض جو جہاں  ہے، وہ اپنی اس حاشیہ پر جاتی ہوئی مادری زبان کو اپنی زندگی سے جوڑ کر اپنے آنے والی نسل کے لئے محفوظ کر پائینگے۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close