ادبتحقیق و تنقیدخصوصی

عالمی یوم مادری زبان اور ہماری ’اردو‘ زبان

عالمی یوم مادری زبان کو ’ یوم اردو ‘ ہی تصّور کر اس کی ترویج و اشاعت کے لئے لائحہ عمل تیار کریں، تو اردو  کے لئے بہتر فضا تیار ہو سکتی ہے

 ڈاکڑ سیّد احمد قادری

مادری زبان کے معاملے میں بنگلہ زبان کے چاہنے والوں نے جنون کی حد تک عشق کرنے والے کی، پوری دنیا  مثال قائم کی ہے۔ یہ ان کی اپنی مادری زبان سے والہانہ لگاؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ گزشتہ اٹھارہ برس سے ہر سال 21 ؍ فروری کو عالمی سطح پر یوم مادری زبان منایا جاتا ہے۔ اس دن اپنی مادری زبان کے سلسلے میں پورا لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے کہ اپنی مادری زبان کے نہ صرف تحفظ بلکہ اس کے فروغ کے لئے کیا کیا اقدام کئے جائیں۔ اس لئے کہ سمجھنے والی قوم یہ بخوبی سمجھتی ہے کہ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنے تمدن اور اپنی قدروں سے والہانہ لگاؤ  ہی دراصل کسی بھی مہذب قوم کی علامت ہے اور بنگلہ زبان کے چاہنے والوں نے اپنی مادری زبان کی اہمیت، افادیت اور اس کے تقدس کو کبھی  بھی فراموش نہیں کیا۔ بلکہ ایسی مثالیں پیش کی ہیں کہ سن 2000 ء سے ہر سال  21فروری کو عالمی یوم مادری زبان انعقاد کئے جانے کا اقوام متحدہ کو فیصلہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ جس پر پوری طرح سے عمل کیا جا رہاہے، لیکن  افسوس کہ ہم اردو والے ہر سال اپنی مادری زبان کے لئے دی جانے اس دستک کو بھی فراموش کئے بیٹھے ہیں۔

اردو زبان کو جب غیر منقسم پاکستان میں قومی زبان تسلیم کیا گیا تو اس کے خلاف (سابق) مشرقی پاکستان  اور موجودہ بنگلہ دیش میں زبردست احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت مشرقی پاکستان میں اردو کے بجائے بنگلہ زبان کو قومی زبان کو درجہ دے، لیکن حکومت پاکستان، ان اس کے اس مطالبہ پر رضامند نہیں ہوئی، جس کے باعث وہاں احتجاج اور مظاہروں  کا سلسلہ  شروع ہا گیا اور دھیرے دھیرے زور پکڑتا گیا۔ ان بڑھتے احتجاج اور مظاہرے کو روکنے کے لئے حکومت وقت نے بہت سخت قدم اٹھائے اور جگہ جگہ لاٹھی چارج  کئے گئے اور بعض جگہ مشتعل ہجوم پر گولیاں بھی چلائی گئیں، جس سے ڈھاکہ یونیورسٹی کے چار طلبہ کی موت واقع ہو گئی۔ ان طلبہ کی اموات نے اپنی زبان کے حقوق مانگنے والوں کو  مذید مشتعل کر دیا اور ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی مادری زبان کا حق لے کر رہینگے، اور حکومت  پاکستان کے فیصلہ کے بر خلاف مشرقی پاکستان میں 29  ؍  فروری 1956 کو  بنگلہ زبان کو وہاں کا قومی زبان تسلیم کر دیا گیا۔ مادری زبان کی یہ چنگاری ایسی پھیلی کہ آگ اور خون  میں بدل گئی اور آخر کار  1971 ء  میں صرف زبان کی بنیاد پر ملک الگ ہو گیا، مجاہدین آزادی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوئے اور اپنے وجود کو بنگلہ دیش کے طور پر منوا  لینے کے ساتھ ساتھ مادری زبان کے لئے جان کی قربانی دینے والوں کو فراموش نہیں کیا ، بلکہ  ان کی یاد میں ڈھاکہ میں ایک شاندار یاد گار ’ شہید مینار‘  قائم کر ہر سال ان کی  قر بانیوں  کو یا د رکھنے کے لئے  بڑے پیمانے پر ’ یوم شہادت ‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن خاص طور پر پورے ملک میں تعطیل رہتی ہے۔ اپنی مادری زبان کے تئیں بنگلہ زبان کا چاہنے والوں کا یہ خلوص، یہ جذبہ، یہ محبت اور یہ والہانہ لگاؤ صرف اپنے ملک تک محدود نہیں رہا، بلکہ  لندن اور سڈنی وغیرہ میں بھی ’ شہید مینار ‘ کی تعمیر کرائی  اور ہر سال  21 ؍فروری کو  ان یادگار میناروں  کے ذریعہ اپنی نئی نسل کو اپنی مادری زبان کے تئیں ایثار و محبت کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

    بنگلہ زبان کے چاہنے والوں کی اپنی مادری زبان سے کس قدر والہانہ لگاؤ ہے، اس کا اندازہ ان کی آپس میں کی جانے والی بات چیت، ان کا ادب، ان کی صحافت، ان کی تہذیب اور ان کی درسی و مذہبی کتابوں کو دیکھ کر  بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اپنی مادی  زبان  کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر ان لوگوں نے اپنے اپنے طور پر رائے عامّہ تیار کرنے کی جد و جہد کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو  کے ذریعہ  17  ؍نومبر 9  199ء  کوعالمی سطح پر یوم مادری زبان منائے جانے کے فیصلہ کے  اعلان  کے ساتھ ہی  21؍  فروری 2000 ء سے یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔

      اس مختصر تعارف کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس دن کم از کم اپنی مادری زبان کے سلسلے میں یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی اس دستک کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ کم از کم اس ایک دن اپنی مادری زبان کے تعلق سے اپنی ذمّہ داریوں کو سمجھیں اور اپنا محاسبہ ضرور کریں  کہ انھوں نے اپنی مادری زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے کیا اقدام کئے ہیں۔ اس لئے کہ کوئی بھی مادری زبان صرف بول چال کی زبان نہیں ہے بلکہ اس زبان میں اپنی تہذیب، تمدن، ثقافت اور قدروں کی جڑیں پیوست ہوتی ہیں، جو کہ شخصیت کی تعمیر و ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جو لوگ اپنی مادری زبان کی اہمیت نہیں سمجھتے  وہ لوگ نسل در نسل منتقل ہو رہی اپنی زبان کی امانت کی حفاظت نہیں کر پاتے اور ایک ایسا وقت آتا ہے، جب وہ اپنی قوم، تہذیب، ثقافت اور قدروں سے الگ  تھلگ پڑ جاتے ہیں ا ور ان کی اور ان کے آنے والی نسل کی کوئی شناخت نہیں بن پاتی ہے۔

        اس  سیاق و سباق میں اب ہم اپنی مادری زبان اردو کے منظر نامہ پر نظر ڈالیں  تو ہمیں مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ اس اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں اعداد و شمار کے حوالے سے بلند بانگ دعٰوے خوب پیش کئے جاتے ہیں۔  لیکن جوزمینی حقائق ہیں، وہ اس کے ٹھیک برعکس ہیں۔

     گزشتہ اٹھارہ برسوں سے  اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21 ؍ فروری کو عالمی سطح پر یوم مادری زبان  کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا جا رہا  ہے۔ اس موقع پر بہت سارے ممالک میں اپنی اپنی مادری زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے طرح طرح کے لائحہ عمل بنائے جاتے ہیں، جن پر پورے سال بھر بہت سنجیدگی سے کا م کیا جاتا ہے، لیکن افسوس اس دن یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی دستک کا اردو والوں پر کوئی اثر نہیں۔ کوئی تحریک، کوئی عمل نہیں۔ نتیجہ کیا ہے، اسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ معاصر نسل اردو زبان سے لا تعلق ہو گئی ہے اور آنے والی نسل کی مادری زبان کیا ہوگی، یہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

     آج اردو زبان کا جو یہ منظر نامہ ہے۔ اس کے پس پشت کون کون سی کارفرمائیاں رہی ہیں۔ ایک سرسری نظر اس پر ڈال لیتے ہیں، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اردو والے اپنی مادری زبان کے سلسلے میں اس قدر غیر ذمّہ دار اور نا آشنا کیوں ہیں۔

         اس امر سے ہم کیسے انکا ر کر سکتے ہیں کہ ہم آزاد ہندوستان میں برابر کے شہری ہیں اور آئین نے ہمیں اپنی زبان اور تہذیب کے تحفظ و ترقی کے حقوق بھی بڑے واضح طور پر دئے  ہیں۔ دستور کی دفعات  25  تا  30 ہمارے لئے بھی ہے۔ 1949  میں دستور ہند کی ترتیب کے ساتھ ہی ثانوی تعلیم کے لئے سہ لسانی فارمولہ وضع کیا گیا تھا۔ اس فارمولے کے مطابق پہلی زبان، مادری زبان، دوسری زبان کے طور پر ایک جدید ہندوستانی یا قومی زبان  اور تیسری زبان کوئی ترقی یافتہ غیر ملکی زبان، جیسے انگریزی یا اسپینش وغیرہ۔ لیکن اس فارمولے پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کبھی بہت سنجیدگی سے اس پر زور دیا گیا، نہ ہی نافذ کرنے  کی کبھی سنجیدہ  کوشش اورمطالبہ ہی کیا گیا۔

     حالانکہ آزادیٔ ہند سے قبل ارو زبان عوامی رابطہ کی زبان تھی اور ہر خاس و عام کے دلوں پر حکومت کرنے کے ساتھ ساتھ  1857 ء کے غدر سے لے کر 1947 تک غیر ملکی تسلط اور غلامی کے خلاف سیاسی اور سماجی شعور کو بیدار کرنے میں پیش پیش تھی۔ ملک کے گوشے گوشے میں ’انقلاب  زندہ باد ‘ کا نعرہ اور ’ سر فروشی کی تمنّا اب ہمارے دل میں ہے ‘ جیسے حب ا لوطنی کے احساسات و جزبات سے سرشار شعر سے تحریک آزادی میں حرارت پیدا کرکے اس زبان نے جو نمایاں اور تاریخ ساز کارہائے نمایاں انجام دیا ہے، اس کا اعتراف ہر مکتبۂ فکر نے کیا ہے۔ لیکن افسوس اور صد افسوس کی آزادی سے قبل جس  اردو زبان کو کانگریس نے اپنی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں آزادی کے بعد بھارت کی سرکاری و قومی زبان بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور جس کی وکالت بابائے قوم مہاتما گاندھی نے  بھی کیا تھی۔ اسے آزادی کے بعداردو کی ساری خوبیوں اور قربانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ’ ہندی ‘ کے حق میں فیصلہ کر دیا گیا۔   المیہ ہوا کہ ہندی زبان کو قومی اور سرکاری درجہ دیا گیا اور اس کے فروغ میں سرکاری، نیم سرکاری اور نجی طور پر خوب خوب کوششیں ہوئیں۔ جو فیصلہ کے مطابق یقینی طور پر اس کا حق تھا، لیکن افسوس کہ تقسیم ہند کے بعد  ’اردو‘ کے تمام حقوق کو نہ صرف ختم کر دیا گیا بلکہ اس کے خلاف بیانات دے کر، تحریک چلا کر اور عملی جد و جہد کر کے بے وطن ہی نہیں بلکہ جلا وطن کرنے مزموم کوششیں بھی کی گئیں ۔ اردو کو صرف  مسلمانو ں کی زبان ثابت کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں۔ ایسی کوششوں کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اردو آج لائبریریوں میں پناہ گزیں ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب کوئی کھلم کھلّا اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیتا ہے۔ حالانکہ ہر صاحب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ  یہ اردو  ہی  زبان ہے جس نے اپنی گود میں لے کر دیا نرائن نگم، پنڈت رتن ناتھ سرشار، پریم چند، چکبست، فراق، سدرشن، جوش ملسیانی، تلوک  چند محروم، آنند نرائن ملّا، کرشن چندر، بیدی، رام لعل، جگن ناتھ آزاد، شانتی رنجن بھٹا چاریہ، وشو ناتھ طاؤس، دیوندر اسر، دیوندر ستیارتھی، کالی داس گپتا رضا، تارا چرن رستوگی، گوپی چند نارنگ، کشمیری لال ذاکر، بلراج ورما، رام لال نابھوی، گوپال متّل، رتن سنگھ، گیان چند جین، جوگندر پال، مالک رام، بلونت سنگھ، کرشن موہن، موہن چراغی، مانک ٹالہ، اوپندر ناتھ اشک، راج نرائن راز، شباب للت، نریش کمار شاد، فکر تونسوی، کنھیا لال کپور، بلراج کومل، کمار پاشی، گربچن چندن، جمنا داس اختر، گلزار زتشی دہلوی، شرون کمار ورما، کیول دھیر،ش ک نظام، چندر بھان خیال، روشن لال روشن، وغیرہ وغیرہ کے فکر و خیال کو آفاقیت بخشی اور شہرت و مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا کر ان کے نام نامی کو چاند تاروں کی مانند درخشندہ بنا دیا۔ اب کوئی بتائے کہ اردو اگر مسلمانو ں کی زبان ہے تو پھر ان لوگوں کو ذات اور مذہب کے کس خانے میں رکھا جائے گا۔

      ایسے نا گفتہ بہ حالات میں اپنی مادری زبان کو فراموش کر دینے کی شعوری اور لا شعوری طور پر جو کوششیں ہو رہی ہیں، وہ بہر حال نہ صرف معاصر نسل کے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی نا قابل تصّور نقصان دہ ثابت ہونگی۔ سرکاری گرانٹ اور بعض ملنے والی مراعات سے اردو والوں کوبہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں  ہے۔ اس لئے کہ ایسے گرانٹ سے بقول سابق صدر انجمن ترقی اردو، پنڈت آنند نرائن ملّا  ’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان اکیڈمیوں سے چند افراد کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، لیکن اردو والے اپنے حقوق سے بدستور محروم رہتے ہیں‘‘۔

         اردو والوں کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آزادی ملے کتنی دہائیاں گزر گئیں، لیکن اب تک  قومی سطح پر’  یوم  اردو ‘ منانے کی کوئی ایک تاریخ  تک  طیٔ نہیں ہو سکی ہے، نہ ہی یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21   ؍فروری کو  عالمی سطح پر مادری زبان  کی اہمیت اور افادیت  کے پیش نظر اس کے تحفظ اور اس کی بقا کے لئے دی جانے والی دستک کا ہی کوئی رد عمل ہورہا ہے۔ اگر ہم اردو والے ہر سال اسی عالمی مادری زبان کے انعقاد کے دن اپنی مادری زبان کے سلسلے میں اپنا محاسبہ کریں تو بہت سارے نکات ایسے سامنے آئینگے، جن پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو اس کے نتائج  خوش آئند ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے اردو زبان سے محبت کرنے والے خواہ وہ جس شعبہ حیات سے منسلک ہوں، انتظامیہ، عدلیہ، تعلیم، صحافت، تجارت  غرض جو جہاں ہے، وہ اپنی اس حاشیہ پر جاتی ہوئی مادری زبان کو زندگی  سے جوڑ کر  اپنے آنے والی نسل کے لئے  محفوظ کر پائینگے۔ اس سلسلے میں درس گاہوں کے منتظمین  اور مدرسین بہت ہی اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں اپنی مادری زبان کی اہمیت اور افادیت پر ہر عمر کے بچوں کی ذہن سازی کر، مستقبل کے لئے  فضا  ہموار کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین تعلیم  بچّوں کی ابتدائی تعلیم کو ان کی مادری زبان  میں دینے کا اصرار کرتے ہیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو معیار ی درسی کتابیں تیار کر بچوں کے درمیان مہیّا کرائی جائیں، جن سے وہ استفادہ کریں۔ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم ابتدائی تعلیم کے لئے اسکولوں میں اردو کی تعلیم کی سہولیات اور انتظام لازمی طور پر ہو، اس سے بڑی کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ادب اطفال پر بھی خصوصی توجہ ہو۔ ایسا ہونے پر ہماری آنے والی نسل کے درمیان اردو رچ بس جائیگی۔ ہر عالمی یوم مادری زبان کے موقع پر اپنی مادری زبان کے تحفظ اور بقا کے ضرور لائحہ عمل تیا کریں ۔ بہت کم تعداد میں بولی جانے والی بنگلہ زبان  کے لوگ پوری دنیا میں اپنی مادری زبان کے حوالے سے اپنے وجود کا احساس کرا رہے ہیں، لیکن ہم اردو والے اس کی اہمیت سے بے خبر ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی یوم مادری زبان کو ’ یوم اردو ‘ ہی تصّور کر اس کی ترویج و اشاعت کے لئے لائحہ عمل تیار کریں ، تو اردو  کے لئے بہتر فضا تیار ہو سکتی ہے، لیکن شرط ہے اس کی اہمیت اور افادیت کو ہم  سنجیدگی سے سمجھیں۔ شائد کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close