ادبدیگر نثری اصناف

عصرِ حاضر کی داستان گوئی یعنی ہجرتوں کی کہانی

صفدر امام قادری
مشہور ڈراما نگار، شاعر اور ادیب جاوید دانش نے قصے کہانیوں کی سب سے قدیم روایت داستانوں کی بازیافتِ نو کرتے ہوئے ہجرت کے موضوعات کو اپنی داستان گوئی کا حصہ بنا کراپنے قدر شناسوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

داستانوں کا تصوّربہت پہلے سے راجا رانی،جن بھوت اور پَری، جنگل ویرانی اور خوف و ہراس کے مارے ہوئے لوگوں کی زندگی سے پیدا ہوا۔ تجسّس، ما فوق فطرت عناصر اور غیر عقلی بنیادوں پر زندگی تخلیق کرنے کے لیے ہم داستانوں کو پرھتے رہے ہیں۔ الف لیلا، طلسمِ ہوش رُبا کی زبانی روایت ، بعد میں سب رس، باغ و بہار،نو طرزِ مرصّع، عجائب القصص سے ہوتے ہوئے فسانۂ عجائب تک ایک بھری پُری دنیا اردو ادب میں داستانوں کی نظر آتی ہے۔کلیم الدین احمد، راہی معصوم رضا، گیان چند جین اور شمس الرحمان فاروقی جیسے نقّادوں اور محقّقین نے داستان سرائی ، داستان گوئی اور داستان کی روایت کے بارے میں بے حد قیمتی باتیں پیش کی ہیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارے تدریسی نظام میں داستانوں کی بھرپور موجودگی اور اُن کی عبارتوں کی تنقید و تحقیق، تعبیرو تشریح کا ٹھوس سلسلہ نہیں ہوتا۔
اردو میں داستانوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہم اکثر اُن کی زبانی روایت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ داستانیں تحریرکے قالب میں آنے سے پہلے زبانی روایت کا حصّہ تھیں لیکن اِسی کے ساتھ ہمیں یہ بات بھی یاد رہتی ہے کہ اِن داستانوں کو قلم بند کرنے کا سلسلہ بھی اردو کے حلقے میں بھی چار پانچ سو برس سے بھی ضرور قائم ہے۔ اس میں کچھ ترجمہ اور کچھ بادشاہوں کی فرمائش کا بھی ہاتھ رہا ورنہ ’سب رس‘ جیسی کتاب آج سے تقریباً چار سو برس پہلے کیسے سامنے آگئی ہوتی۔ سچّائی یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسل داستانوں کو تحریری شکل میں ہی پڑھتی رہی ہے اور اُن کے الفاظ یا داستانی روایت کا مکمّل عرفان ہم نے کتابوں کے مطالعے سے کِیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چھاپہ خانے اور بدلتی ہوئی دنیا میں زبانی روایت کے معاملے محدود کر دیے اور رفتہ رفتہ ہم کتابوں میں سِمٹنے کے لیے مجبور ہوئے۔
ہندستان میں کچھ ایسے لوگ پچھلی دہائی میں سامنے آئے جنھوں نے باضابطہ طور پر داستانوں کی پیش کش کا سلسلہ قائم کیا۔ محمود فاروقی اورفوزیہ چودھری نے اس سلسلے کو مستعدی سے آگے بڑھایا اور داستانوں کی زبانی روایت کی ایک ڈرامائی شکل سامنے آئی۔ اردو کے بڑے بڑے اداروں نے انھیں ملک کے طول و ارض میں اہتمام کے ساتھ بُلایااور انھوں نے ہمارے پُرانے ادب کی ایک محترم روایت کو حقیقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ انھیں خوب خوب داد و تحسین سے بھی نواز ا گیا۔مگر اُن کی پیش کش پر یہ سوال قائم ہوتا رہاکہ یہ جیسی ڈرامائیت سامنے آرہی ہے، کیا اس میں حقیقت کا بھی کچھ زور ہے یا یہ اِن نئے داستان گویوں کی اختراع ہے اور صرف قدامت کا احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ الفاظ اور عبارتیں تو حقیقی ہیں لیکن جس انداز سے چیزوں کو پیش کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی طور پر مصدقہ حقیقت کی ترجمانی نہیں کرتے۔ اندازے سے ڈراما نگار کو قدامت کے کچھ پہلو دکھانے تھے، وہ انھوں نے دکھا دیا۔ محقّقین اپنا سچ جھوٹ تولتے رہیں،نئے داستان گو نے اپنا کام پورا کر دیا۔
دو ماہ قبل ٹورانٹو(کینیڈا) سے یہ خبر آئی کہ مشہور ڈراما نگار جاوید دانش داستان گوئی کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں اور اچانک ایک روز سفید لکھنوی انگرکھا میں ان کی تصویریں ایک مخصوص انداز کی ٹوپی میں نظر آئیں۔ یہ داستان گوئی کے شو کی تصویریں تھی۔ لوگوں کے تاثّرات تو پتا چلے لیکن یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ جاوید دانش نے آخر داستان گوئی کی کون سی نئی شکل پیش کی۔ مگر خدا کے فضل سے ہمیں یہ موقع جلد ہی ہاتھ آگیا۔ بزمِ صدف کے بین الاقوامی پروگرام منعقدہ ۹؍ دسمبر کو خلیج کی مشہور ادبی بستی دوحہ، قطر میں جاوید دانش داستان گوئی کی پیش کش کے ساتھ نظر آئے۔ عنوان مقرّر تھا ’’داستان ہجرتوں کی‘‘۔ ہم پُرانی داستانوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور باربار وطن چھوڑ کر جانے کے اجزا کو ملاحظہ کرتے ہی ہیں لیکن پہلی نظر میں یہ سمجھ سے پَرے تھا کہ ہجرتوں کی داستان آخر کس انداز سے پیش کی جائے گی۔کون سی ہجرت اور کن لوگوں کی ہجرت؟ یہ سمجھنا باقی تھا۔
جاوید دانش کو سننے کے لیے ہال میں دو سو سے زیادہ لوگ نہیں تھے لیکن دوحہ ، قطر کے چُنے ہوئے افراد اور برطانیہ، جرمنی، ابو ظہبی،سعودی عرب اور ہندستان کی بہت ساری ادبی شخصیات موجود تھیں۔جاوید دانش خود بہ نفسِ نفیس اسٹیج پر آئے۔ اسٹیج پر دو ایک گاو تکیوں کے علاوہ کوئی اور سامان نہ رکھا گیا۔اسٹیج وہی تھا جس پر سے می نار منعقد ہوا تھا اور بعد میں مشاعرہ ہونا تھا۔ کوئی اضافی اہتمام نہیں تھا۔ لباس کے سفید رنگ کا جلوہ تھا۔مگر یہ داستان گو دوسرے لوگوں کی طرح رٹے رٹائے انداز سے اپنے کام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ داستانوں کی آزمائی ہوئی زمینوں کو محض دو چار منٹ میں ہی جاوید دانش نے چھوڑ دیا۔ کہاں کے راجا رانی اور کہاں کے عمر و عیّار ،نہ جن بھوت پری اور راکشش۔
تماش بیں حیرت میں ہیں کہ یہ سب چھوڑ کر داستان کا جہاز اُڑے گا کیسے؟ داستان کا ہر طالبِ علم یہی ڈھونڈ رہا تھا مگر جاوید دانش نے تو طَے کر لیا تھا کہ وہ ایک نیا تماشا کرنے والے ہیں۔ جاوید دانش نے پہلا کام یہی کیا کہ اردو کی قدیم اور بہترین داستانوں کے متن کو چھوڑ کر نیا متن تیار کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ کھیل نہیں ہے کہ سب رس ، باغ و بہار، فسانۂ عجائب، طلسمِ ہوش رُبا اور الف لیلا کے مقابلے کوئی شخص مدّعی ہے کہ وہ نیا متن پیش کرے گا۔جاوید دانش نے ایک آن میں اپن زبان اور اپنے مانوس انداز، لب و لہجہ اور اسلوب سے یہ اعلان کر دیا کہ وہ صرف داستانوں کی پیش کش کے لیے یہاں نہیں آئے ہیں بلکہ وہ ان داستانوں کو اپنی زبان میں سامنے لائیں گے۔ وہ اپنا متن دے کر اُس کی پیش کش کریں گے۔
جاوید دانش نے ہجرت کا موضوع چُنا ۔ پہلے تو اندازہ ہوا تھا کہ وہ تقسیمِ ملک کے واقعات کو بنیاد بنا کر ہجرت کے موضوع کو ظاہر کریں گے۔ مگر یہ سوال بھی ہمارے ذہن میں آیا کہ کیا وہ قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین سے آگے بڑھ کر کوئی نیا تماشا قائم کر پائیں گے؟ کیا زندگی کی ڈوبتی اُبھرتی نبضوں کو اُن عظیم فن کاروں کی طرح دکھا پائیں گے۔ کیا وہ ناول کی ٹھوس زمین کے معاملات داستانوں کی غیر مانوس دنیا میں لاکر کہیں بگاڑ تو نہیں پیدا کر لیں گے۔ اِن اندیشوں کے بیچ ہم نے داستان گوئی کا لطف اُٹھانا شروع کیا کہ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔
جاوید دانش نے ایک ہوشیاراہلِ قلم کی طرح انجانی زندگیوں اور بھولی بسری کہانیوں پر مرتکز ہونے کے بجائے اُس دنیا کو دکھانے کی کوشش کی جو گذشتہ چار دہائیوں سے جاوید دانش دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہجرت تقسیمِ ملک اور فسادوں کے خونیں جبر سے پیدا ہوئی شَے نہیں بلکہ تقسیمِ ملک کے بعد رفتہ رفتہ کینیڈا اور امریکہ کے دوسرے حصوں میں تلاشِ معاش اور زندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف آبادیوں کی کہانی ہے۔ کہنے کو یہ چھوٹا سا خطّہ ہے اور یہ بھی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ جو گیا وہ بہتر زندگی کی تلاش میں اکثروبیش تر سرفراز ہوا۔ فوراً سوال ذہن میں آیا کہ یہ کیسی ہجرت اور اُس کا کون سا دُکھ؟ کیا جاوید دانش داستانوی کرب اور زندگی کی مشکلوں کا سفر طَے کراپائیں گے؟
داستان گوئی میں جاوید دانش نے الگ الگ کردار کھڑے کیے۔ یہ کردار الگ الگ تہذیبوں اور جماعتوں کے تھے۔دلّی ، بمبئی،کلکتہ اور لکھنؤ سب اس میں اپنے اپنے طور پر سِمٹ آئے تھے۔ داستان شروع ہوئی تو کبھی ایک کردار کی جدّو جہد اور کبھی دوسرے کا دُکھ، کبھی تیسرے کی خوشی اور کبھی چوتھے کا ٹھہاکا۔سب اپنی کہانیاں ایک دوسرے سے جوڑ رہے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا تھا کہ یہ باغ و بہار کے چار درویش ہیں اور یہ جاوید دانش آزاد بخت کی طرح بیچ بیچ میں اپنی رائے دیے جا رہے ہیں۔ کبھی دانش کے آنسو ٹپکتے ہیں تو کبھی قہقہہ لگانے کے لیے کوئی کردار کھڑا ہو جاتاہے۔ بنگالی اور پنجابی سے لے کر مراٹھی لہجے کے ساتھ خود اکیلے جاوید دانش ہمارے سامنے آ رہے تھے۔ جب نفیس زبان ، قدیمی لہجہ اور تہذیب و ثقافت کے جلوے بکھیرنا ہوتا تھا تو جاوید دانش کی زبان مختلف ہو جاتی تھی۔ یہ آسان نہیں کہ وہی شخص بنگالی لب و لہجہ میں گفتگو کرے اور اُسی مہارت سے مراٹھی کردار کی طرح سے سامنے آجائے۔ لیکن جاوید دانش نے کامیابی کے ساتھ یہ کر کے دکھایا۔
جاوید دانش چوں کہ اپنا متن بنا رہے تھے اِس لیے انھوں نے صرف چار کرداروں کی کہانی کو مرکز میں نہیں رکھا بلکہ ہندستان اور پاکستان کے تازہ مسائل اور اس دوران دنیا کی بدلتی ہوئی کیفیت کو بھی انگیز کرنے کوشش کی۔ اب یہ ڈراما اندازِ پیش کش کے اعتبار سے تو قدیم تھا۔ داستان کا پورا پورا روپ موجود تھا لیکن متن کے اعتبار سے اور نفسِ مضموں کے طور پر یہ ٹھیک اُسی طرح سے کوئی نیا ادبی کارنامہ تھاجیسے افسانے ناول اور ڈرامے لکھے جاتے ہیں۔ اِسی لیے تقریباً پچاس منٹ کے پرفارمنس میں ایک لمحے کے لیے بھی نہ کسی کی آنکھ بھٹک سکی اور نہ ذہن دوسری طرف جا سکا۔ سانس روکے سب نے پورا تماشا دیکھا اور داد و تحسین سے نواز تے رہے۔
جاوید دانش دوسرے داستان گویوں سے الگ اس وجہ سے بھی ہوئے کہ وہ خود اپنی زبان کے معتبر ادیب اوربہترین مصنّف ہیں۔ وہ صرف ڈراما نگار ہوتے تو داستان گوئی کی ساری روایت وہ اپنی ایک پیش کش میں سامنے نہیں لاسکتے تھے۔ یہ بھی عجیب اتّفاق ہے کہ بزمِ صدف کے ایک لاکھ روپے کے بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے قرعہ فال بھی جاوید دانش کے نام نکلا اور قطر میں داستان گوئی کی پیش کش کے بعد انھیں انعام سے نوازا گیا۔ اُنھی کے ساتھ ڈاکٹر واحد نظیر کو نئی نسل کا اکیاون لاکھ روپے کا انعام بھی پیش کیا گیا۔ جاوید دانش نے ہندستان سے دور دوسرے خطّے میں رہتے ہوئے اپنی زبان کی جو خدمت کی ہے، اس کے لیے اس سال ڈرامے کے لیے انھیں ڈرامے کے لیے انھیں غالب ایوارڈ سے بھی نوازا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ آنے والے وقت میں اپنی تخلیقی ہنرمندی سے اور بڑے کارنامے پیش کریں گے۔

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Close