عظیم افسانہ نگار: سعادت حسن منٹو (آخری قسط)

آصف علی

سعادت حسن منٹو اردو کےان گنےچنے بڑےافسانہ نگاروں میں ہیں جن کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں ۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جن کے افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-٫٫افسانہ مجھے لکھتا ہے،، منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری، انسانی جدوجہد، بیماری اور ناقدری کی ایک المیاتی کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانوں میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔

اردو افسانوں میں منٹو کو بلند مقام تسلیم کیا گیا ہے۔ منٹو کی بعض کہانیاں بے شک اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض ہیں لیکن بحیثیت مجموعی انہوں نے اردو افسانہ نگاری کی روایت کو آگے بڑھانے میں قابلِ قدر کام کیا۔ قدرت کی طرف سے منٹو کو جدت، اپج اور ذہانت کا وافر حصہ نصیب ہوا جس نے ان کے فن کو بلندی پر پہنچا دیا۔ وہ انسان اور انسانی قدروں کے نقاد تھے انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کو جرات کے ساتھ تفصیل سے لکھا۔ اسی بے باکی کے سبب انہوں نے روایت سے ہٹ کر اپنا راستہ بنایا۔ انسانی نفسیات اور فطرت، ان کے مطالعے اور تجربے کے خاص موضوعات تھے۔ انسان دوستی کا شیوہ ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ افسانہ نگاری کے لئے انہوں نے انوکھے موضوعات منتخب کئے اور اسی سبب اردو افسانوں میں ان کو انفرادیت ملی۔ منٹو کا دور، اردو افسانے کی ترقی کا دور تھا، اس دور میں اردو افسانے میں بہت سے نامور افسانہ نگاروں کو شہرت ملی۔ ان میں کرشن چندر، غلام عباس، عصمت چغتائی، حیات اللہ انصاری، احمد ندیم قاسمی، محمد حسن عسکری وغیرہ شامل ہیں اور یہ سب لوگ منٹو کے جن کی قدردان تھے۔ تقسیم ملک کے موقع پر پنجاب میں مسلمانوں کے خون جو ہولی کھیلی گئی اور مسلمان عورتوں اور بچوں کو جس طرح ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اس نے منٹو پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان پر جذباتی رنگ غالب آگیا۔ سرزمین پنجاب کو خون رنگ دیکھ کر منٹو کا دل بھر آیا اور ان کے قلم سے متعدد بہترین افسانے تخلیق ہوئے۔ ان میں لاوڈ اسپیکر، برقعے، رتی ماشہ اور تولہاور ”گنجے فرشتے وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

منٹو کی افسانہ نگاری

سعادت حسن منٹوایک عظیم فن کارہیں ، ان کی عظمت کازبردست ثبوت یہ ہےکہ ان کی شخصیت اورفن اپنےمعاصرین اورمتاخرین کےلیےبےحدمتنازعہ فیہ رہاہے،ان کےبیشترافسانوں نےبحث وتمحیص کےدروازےواکیےبعض نقادان فن نےان کومحض عریاں نگاراورفحش نگارقراردےکرردکردیاہےاوربعضوں نےان کےیہاں فن کاری کےاعلی نمونےتلاش کیےہیں .میراخیال ہےکہ انہوں نےہندوستانی تہذیب کےپس منظرمیں سماجی،ذہنی اورفکری زندگی کی عکاسی کی ہےاورہندوستانی سماج میں رستےہوئےناسوروں پرنشتررکھ دیےہیں .یہ بات وثوق کےساتھ کہی جاسکتی ہےکہ وہ مسخ شدہ کرداروں کےسب سےبڑےترجمان تھے.یہ صحیح ہےکہ معروضی طورپران کےموضوعات محدودتھےلیکن جس طرح انہوں نےان موضوعات کوبرتااردوکےافسانوی ادب میں شائدہی اس کی مثال مل سکے.

منٹو کے افسانوں میں گہرا جذباتی رنگ پایا جاتا ہے۔ وہ نچلے طبقے کے لوگوں سے اپنائیت کا تعلق رکھتے تھے۔ اپنی مختصر زندگی میں انہیں کہانی نویسی میں یادگار مقام ملا۔ انہوں نے اگر چہ مغربی ادب سے افسانہ نگاری کا فن سیکھا مگر اس فن میں اپنا مقام آپ پیدا کیا۔ افسانہ نگاری نے انہیں شہرت بخشی لیکن اسی فن کے باعث انہیں بدنامی بھی ملی۔ مگر وہ بے پرواہ ہو کر اپنی ڈگر پر چلتے رہے۔
منٹوبنیادی طورپرافسانہ نگارتھے،یہ صحیح ہےکہ انہوں نےڈرامےبھی لکھے،مضامین اورانشائیےبھی تحریرکیےاورایک ناول بھی لکھالیکن جن تخلیقات نےان کےجوہرتخلیق کالوہامنوایااورانہیں عظمت بخشی وہ ان کےافسانےہیں .ان کی کاوشوں کامطالعہ کرنےسےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ وہ مختصرافسانےکےلیےہی پیداہوئےتھےاوراس صنف ادب کوانہوں نےاپنی پوری قابلیت،مہارت اورفنی چابک دستی سےبرتا.

منٹو کے ہاں انسانی نفسیات کا گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ خصوصاً انسانی کی جنسی خواہشات اور الجھنوں سے انہیں زیادہ دلچسپی رہی۔ انسان کے اندر چھپی ہوئی گھٹیا اور سطحی سوچوں پر انہوں نے زیادہ توجہ صرف کی اور انہیں بیان کرنے میں لذت محسوس کی۔ وہ عام آدمی کی فطری کمزوریوں اور پستیوں کو جانتے تھے۔ اس لئے ان کے بیان سے انہوں نے اپنے قاری کو رجھایا اور مقبولیت حاصل کی۔ اس طرح انہوں نے طوائف اور کاروبار طوائف کے ذکر سے بھی اپنی کہانیوں میں رنگ بھرا۔

فحش نگاری

منٹوپراکثرفحش نگاری کاالزام لگایاگیا،ان کےاوپرریاستی اداروں کی جانب سےپابندیاں لگائی گئیں مگرمنٹوان تمام پابندیوں کےخلاف لڑتےرہے.منٹوکاکہناتھاکہ:

٫٫اگرآپ میری تحریروں کوبرداشت نہیں کرسکتےتواس کامطلب یہ ہےکہ زمانہ ناقابل برداشت ہے.میں تہذیب وتمدن کی اورسوسائٹی کےکپڑےکیااتارونگاجوہےہی ننگی.میں اسےکپڑےپہنانےکی کوشش بھی نہیں کرتااس لیےکہ یہ میراکام نہیں ، درزیوں کاہے،،۔

منٹواپنی فحش نگاری کی وجہ سےصرف بدنام ہی نہیں ہوئےبلکہ ان کےاوپرچارمقدمےبھی چلے.تین مقدمےاس کےافسانوں ,کالی شلوار,دھواں اور,بو,پرقیام پاکستان سےپہلےمتحدہ ہندوستان میں چلے،چوتھامقدمہ٫ٹھنڈاگوشت،کی اشاعت پرپاکستان میں چلا.ان مقدمات کی وجہ سےمنٹوبڑی بڑی پریشانیوں میں مبتلارہے.ان کےعریاں افسانےکی دوخصوصیات ہیں.

اول: 

منٹوکےافسانوں میں عورت کےسینےکامختلف پہلووں سےذکرملتاہےاوربعض افسانےمیں اس کی تکراراتنی زیادہ ہوتی ہےکہ ایسا محسوس ہوتا ہےکہ افسانہ نگارکےخیال میں عورت کےجسم کاسب سےمرغوب اورپرکشش حصہ اس کاسینہ ہی ہے.

دوم:

منٹوافسانےمیں اپنےآپ کوپیش نہیں کرتے.منٹوکےبہت سارےافسانےایسےہیں جن میں منٹوخودکوبھی دوسرےکرداروں کی صف میں کھڑاکردیتےہیں .جیسے,باپوگوپی ناتھ,ممی,جانکی نیلم,ممدبھائی,رام کھلاون وغیرہ.

جن افسانوں میں منٹونےعورت کےسینےاوراس کی جزویات پراپنےقاری کودعوت نظارہ دی ہےان کی تعدادخاصی ہےاوریہ کہنابالکل غلط نہ ہوگاکہ شائدہی اردوکےکسی افسانہ نگارنےعورت کےسینےکی ایسی تفصیلی تشریح وبیان اتنےتواترسےکیاہوہوگا.چندمثالیں

ملاحظہ ہوں :

٫٫گیلےسینےپرپانی کےقطرےپھسل رہےتھے,,

,,شارداکےدوپٹےکےپیچھےاس کاسینہ دھڑک رہاتھا,,(دوقومیں )

٫٫اس کاسینہ جیسےگہری نیندسےاٹھنےکی کوشش کررہاتھا،،(شانتی)

٫٫اپنےکرتےکےبٹن کھولے,سینےکےداہنی طرف ابھارتھا,ایسامعلوم ہوتاتھاکہ نلکی پرصابن کاچھوٹاسابلبلہ لٹکاہواہے،،(پھاہا)

٫٫اس کاسینہ سانس کےاتارچڑھاؤسےہل رہاتھا،،(سوکنڈل پاوربلب)

٫٫وہ گانٹھ اس کےتندرست سینےکےننھےلیکن سمٹےگرہوں میں چھپ گئی تھی،،

٫٫دودھڑکتی چھاتیاں ایک دم سےنمایاں ہوگئیں ، ،

٫٫اس گھاٹن لڑکی کےسینےپرنرم نرم گندھی ہو ئی مٹی کوباہرنکال کرکمہارنےدوپیالوں کی شکل بنادی ہے،،

٫٫اس کی صحت مندچھاتیوں میں وہی گدگداہٹ,وہی دھڑکن,وہی گولائی,وہی گرم گرم  ٹھنڈک تھی جوکمہارکےہاتھوں سےنکلےہوئےتازہ برتنوں میں ہوتی ہے،،

٫٫اس کےسینےپریہ ابھاردودیےمعلوم ہوتےتھے،،

٫٫رندھیرکےہاتھ ساری رات اس کی چھاتیوں پرہواکےجھونکوں کی طرح پھرتےرہے،،(بو)

منٹو نے حقیقت پسندی کے نام پر فحش نگاری بھی کی ہے۔ اگر چہ بعض نقادوں نے ان کی وکالت کی ہے مگر تہذیب یافتہ انسان کبھی کپڑے اتار کر کوچہ و بازار میں نہیں پھرتا۔ سبھی جانتے ہیں کہ نسلِ انسانی کا ارتقا انسان کے ازدواجی تعلقات کا نتیجہ ہے، مگر یہ تعلقات بازار کا موضوع نہیں ہیں ۔ ان کو حدود و آداب کا پابند بنایا گیا ہے۔ انسانی زندگی سے اگر تہذیب و شائستگی کو خارج کردیا جائے تو اس سے معاشرے میں انتشار اور ابتری پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اصلاح اور حقیقت نگاری کا دعوی کرکے اصول اخلاق کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

منٹو کے ہاں گہرا سماجی شعور اور طبقاتی اونچ نیچ سے آگہی پائی جاتی ہے۔ وہ نچلے طبقے کے معاملات و مسائل، ناآسودگیوں اور پسِ پردہ عوامل سے آگاہ ہیں اور انہیں بیان کرنے کی بیباکی اور مہارت رکھتے ہیں ۔ معاشی مجبوریوں کے ہاتھوں جب اس طبقے کے لوگ فطری آسودگی کے لئے سیاہ کاریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو منٹو انہیں عریاں دکھا کر اپنے قارئین کی دل چسپی کا سامان کرتے ہیں۔ لیکن خواتین سے قطع نظر منٹو سیاسی، معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں ، جس سے ان کی دردمندی اور انسان دوستی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وہ طبقاتی تقسیم کو برا جانتے ہیں ، اس لئے وہ گرے پڑے اور پسے ہوئے طبقے کو موضوع بناتے ہیں ۔ مفلسی کے نقشے کھنچتے ہیں ، اور ان کے بے کیف شب و روز کی مکروہ تصویروں سے ان کے لئے ہمدردی کی تحریک کرتے ہیں ۔ نیا قانون جیسے افسانے اس امر کی شہادت کے لئے کافی ہیں کہ منٹو کے ہاں قومی جذبات و احساسات کا فقدان نہیں تھا۔ ان کے دل میں سامراجی چیرہ دستیوں کے خلاف نفرت کی آگ موجود تھی۔ منٹو اپنی ذات میں ایک نفاست پسند اور سلیقہ مند شخص تھے، لیکن شراب خوری نے انہیں کام کا انسان نہیں رہنے دیا۔ ان کے ناشر بھی انہیں فحش نگاری پر اکساتے، اسے شراب کی بوتل دیتے اور جنس پرستوں کے ان کے قلم سے رتطل۔گندگی اگلواتے رہے۔

منٹو نے عام آدمی کے دکھ کو محسوس کیا اور اس کے مسائل کے بیان میں دل چسپی لی۔ عام آدمی تنگ دست بدکار ہو یا عصمتوں کا دلال، کھولی میں رہنے والی محنت کش نصیبوں کی ماری فاقہ زدہ بے ناموس عورت ہو، خواہ غنڈوں ، بدمعاشوں اور آوارہ ہوس پرستوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والی طوائف، انہوں نے ان مجبور اور مظلوم انسانوں کو قریب سے دیکھا اور دوسروں دکھایا۔ ان لوگوں کی مجبوریوں کو آئینہ دکھا کر انہوں نے ایک طرح سے معاشرے کو ان چیزوں کی طرف دیکھنے کے لئے متوجہ کرنے کی کوشش کی۔

قیام پاکستان کے وقت پنجاب میں پھوٹ پڑنے والے فسادات نے منٹو کو یکسرجذباتی بنادیا۔ ہندوں اور سکھوں کی خونریزی اور سنگ دلانہ وحشت خیزی نے منٹو کو ہلا کر رکھ دیا۔ چنانچہ تقسیم کے بعد افسانوں میں منٹو کے ہاں یہ جذباتی رویہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی دور میں منٹو کا فنی ارتقاوجود میں آیا اور انہوں نے شاہ کار افسانے تخلیق کئے۔ اس دور کے افسانوں میں موزیل، شریفن، ننگی آوازیں، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو اور ٹھنڈا گوشت جیسے افسانے سامنے آئے، جن میں انسانی بربریت اور مظلومیت ظلم اور مجبوری کو آمنے سامنے دکھاکر قاری کے اندر جذباتی فکرمندی پیدا کی گئی ہے۔

منٹو کے افسانوں میں اگرچہ عریاں نگاری کے رویے کو مذموم ٹھہرایا گیا ہے اور اس انداز اظہار کو انتہائی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا، لیکن فنکار کی اس شدت پسندی کے پیچھے ایک سخت ردِ عمل بھی کار فرما نظر آتا ہے۔ جس سے حقیقت بیں نگاہیں چشم پوشی نہیں کرسکتیں ۔ دراصل منٹو نے بھوک افلاس اور تنگ دستی کو معاشرتی اخلاق اور تہذیبی اقدار کے لئے زہر قاتل قرار دیا۔ اس نے انسانی مجبوریوں کو گناہ کی وادی میں ڈوبتے دکھا کر معاشرے کے اہل فکر طبقے کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو منٹو کی شدت پسندی اور تلخ نوائی کے پیچھے جذبہ اصلاح کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے بالاخانوں میں مقیم آسودہ حال شرفااور محراب و مسجد میں گوشہ عافیت پانے والے علماکرام کو توجہ دلائی ہے کہ فاقوں ، بیماریوں اور مجبوریوں سے نڈھال پسماندہ لوگ کس طرح گناہوں اور سیاہ کاریوں میں دھنسے ہوئے کراہ رہے ہیں ۔ ہے کوئی ان کی نجات کی فکر کرنے والا؟۔

تقسیم ملک کے دنوں میں فسادات کی نذر ہونے والے مظلوم اور لٹے پٹے مہاجرین کے قافلوں میں پاکستان آنے والے بے گھر اور بے سہارا لوگ کس طرح جنس پرست غنڈوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ، ہے کوئی ان بے کسوں کی دست گیری کرنے والا؟۔

منٹو کا اسلوب تحریر

منٹوکی زبان بہت سلیس شستہ ورفتہ ہےاس اجلی اجلی اورصاف وشفاف زبان کےسہارےانہوں نےانسانی زندگی کےہرجذبےکولطیف اورشدیداندازمیں نہایت خوش اسلوبی اورفنی صناعی سےپیش کیاہے،ان کےالفاظ چھوٹےچھوٹے،عام فہم اورجملےسادہ اور اکہرے ہوتے ہیں، وہ ادق اورمفرس ومعرب الفاظ سےگریزکرتےہیں ، طول وطویل بیانیہ جملےان کی نوک زبان پرنہیں آتے.

منٹوکاذہن شیشےکی طرح صاف شفاف ہےجس کی جھلک ان کی تحریروں میں قدم قدم پرملتی ہےکہ ان میں کوئی الجھاؤاورپیچیدگی نہیں ہوتی.پھرمنٹوحددرجہ اختصارپسندہیں ,کم ازکم الفاظ میں بہت کچھ کہہ جاتےہیں ، وہ کسی تکلف اورتمہیدکےبغیرسیدھےنفس موضوع کی طرف آتےہیں اورکبھی راہ سےبےراہ نہیں ہوتے.

منٹوکےاسلوب اوراسٹائیل کی خوب صورتی اپنی جگہ مسلم ہےجوشاعرانہ ہوتےہوئےبھی ایک عجیب طرح کاگدازسمیٹےہوئےہے،ایسی نثرقابل رشک ہے،اس میں ایک طرح کی جاذبیت موجودہےان میں الفاظ کابرمحل اوربلیغ استعمال اپنی تمام نزاکتوں کےساتھ ملتاہے،کہیں کہیں تیکھےطنزیہ وارہیں جن میں شمشیرآب دارکی سی کاٹ ہےکہیں ایسی صباحت اورملاحت ہےجوبراہ راست دل کےنہاں خانوں میں اترجاتی ہےکہیں ایساالھڑاندازہےکہ جس سےدوشیزگی ٹپکتی ہے.

زندگی کی حقیقتوں کےظہارکےضمن میں منٹوکارویہ کافی حدتک سفاکانہ اولہجہ کہیں کہیں تلخ ہوجاتاہےاسی لیےمنٹوجیسےغیرنستعلیق اورواقعہ نگارسےزبان وبیان کےجمال وآرائش  کی توقع رکھناغیرمناسب سامحسوس ہوتاہےتاہم کہیں کہیں منٹوزبان کی جمالیاتی وحسن کارانہ مہارت کاثبوت فراہم کرتےہیں اوراپنی کہانیوں میں نثرکےایسےخوب صورت ٹکڑےآراستہ کرتےہیں کہ ان کی نثر،شاعری کی حدودمیں داخل ہوجاتی ہے.مثلاً

*جب طلوع ہوتےہوئےسورج کی طلائی کرنیں چیرکےکےدرازقددرختوں سےچھن چھن کرہمارےپاس والےنالےکےخشم آلودپانی سےانکھیلیاں کررہی ہوتیں اورآس پاس کی جھاڑیوں میں ننھےننھےپرندےاپنےگلےپھلاپھلاکرچیخ رہےہوتے،یوں کہیےکہ ہم قدرت کواپنےخواب سےبیدارہوتادیکھتےتھے.صبح کی ہلکی پھلکی ہوامیں شبنم آلودسبزجھاڑیوں کی دل نوازسرسراہٹ نالےمیں سنگریزوں سےکھیلتےہوئےکف آلودپانی کاشوراوربرسات کےپانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی بھینی بھینی خوش بو،چندایسی چیزیں تھیں جوہمارےسنگین سینوں میں ایک ایسی لطافت پیداکردیتی تھیں جوزندگی کےاس دوزخ میں ہمیں بہشت کےخواب دکھلانےلگتیں .(شغل)

*اس کی بڑی بڑی آنکھیں اب اپناتسلط چھوڑچکی تھیں ، مگراس طرح جس طرح کوئی غاصب چھوڑتاہے_تاخت وتاراج ملک،اس کاہرخط ہرخال_ویرانی کی ایک لکیرتھی.مگرویرانی کیاتھی؟کیوں تھی؟

بعض اوقات ایسابھی ہوتاہےکہ آبادیاں ہی ویرانیوں کاباعث ہوتی ہیں _کیاوہ اس قسم کی آبادی تھی جوشروع ہونےکےبعدکسی حملہ آورکےباعث ادھوری رہ گئی تھیں اورآہستہ آہستہ اس کی دیواریں جوابھی گزبھربھی اوپرنہیں اٹھی تھیں کھنڈربن گئیں .(سراج)

*دور،،_بہت دورایک ٹیلےسےدھواں بل کھاتاہواآسمان کی نیلاہٹ میں گھل مل رہاتھا،میرےگردوپیش پہاڑیوں کی بلندیوں پربڑھتےہوئےچیڑوں اورسانولےپتھروں کےچوڑےچکلےسینوں پرڈوبتےہوئےسورج کی زردکرنیں سیاہ اورسنہرےرنگ کےمخلوط سائےبکھیررہی تھیں .کتناسندر،سہاناسماں تھا_میں نےاپنےآپ کوعظیم الشان محبت میں گھراہواپایا،،(موسم کی شرارت)

منٹو کے فن کی عظمت کا راز ان کے کامیاب ابلاغ میں بھی پایا جاتا ہے۔ ان کو احساس تھا کہ وہ خواص و عوام دونوں کے لئے لکھتے ہیں ۔ وہ مقصدی ادب تخلیق کررہے تھے اور فطری طور پر وہ چاہتے تھے کہ ان کا لکھا ہوا زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے۔ ان کا پیغام عام ہوجائے۔ ان کی بات ہر ایک تک پہنچے۔ وہ جن موضوعات و مسائل کو اپنے فن کی بنیاد بناتے وہ ان کے گرد پھیلی ہوئی عام زندگی سے اخذ کئے ہوئے ہوتے تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ عام آدمی کی رسائی ان کے موضوعات تک ہو۔

نہ منٹو کے خیالات میں بناوٹ تھی اور نہ تحریر میں ان کی تحریر میں ایک بے ساختہ پن ہے جو ان کے فن کو فطری اور موثر بناتا ہے۔ فقرون کی ساخت اور لفظوں کی تراش خراش میں وہ دور کی کوڑی نہیں لاتے ان کے ذاتی کردار کا بے ساختہ پن ان کے طرزِ بیان میں بھی موجود رہا۔ تکلف نہ ان کی زندگی میں تھا اور نہ ان کے طرز اظہار میں۔

منٹو کا اسلوب تحریر سیدھا سادھا اور رواں دواں ہے۔ ان کو احساس تھا کہ ان کے قارئین میں کم پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں ، اس لئے وہ نہایت سادہ اور سلیس زبان میں لکھتے تھے۔ مشکل الفاظ اور نامانوس تراکیب ان کے ہاں شاذ ہی ملتی ہیں ۔ مکالموں میں وہ عام بول چال کی زبان استعمال کرتے ہیں ۔ زبان کے معاملے میں وہ کسی مدرسہ فکر کے پابند نہیں ۔ انشا پردازی ان کامنصب نہیں تھا۔ ایک ہلکا پھلکا اور بے ساختہ طرز تحریر انہوں نے اپنے فن کے لئے اپنایا تھا، جو کامیاب رہا۔

سیدوقارعظیم لکھتےہیں :

٫منٹونےاپنےافسانوں میں سیدھےسادےروزمرہ کی بول چال کےجملوں سےایسی مثالوں اورتشبیہوں سےجودسروں کی نظرمیں بالکل حقیراوربےحیثیت ہیں اورایسےچلتےہوئےفقروں سےجس میں سنجیدگی اورمتانت کاشائبہ نہیں ہوتا،گہری سےگہری سنجیدہ سےسنجیدہ اورمؤثرسی مؤثربات کہنےکاکام لیاہےاورہرجگہ اس سادگی اورعمومیت کوتصورآفریں ، فکرانگیزاورخیال افروزبنایاہے.پھربھی بہت کم مقامات ایسےہیں جنہیں پڑھ کرقاری کےدل میں یہ بات آتی ہوکہ دوسروں کےفکراورتخیل کی شمع جلانےوالےمنٹونےیہ باتیں کہنےکےلیےاپنےذہن پرزوردیاہے.منٹونےجوکچھ کہاہےاس میں آوردنام کونہیں ، ایک ایسی آمدہےجوشخصیت کےزوراوراس کےبےلوث خلوص کی مظہرہے.منٹوکےپورےاسلوب پریہی بےتکلفی اوربےساختگی چھائی ہوئی ہے،،۔

منٹوکی یہی بےساختگی اوربےتکلفی ہےکہ قاری پوری طرح ان کی بات کوسمجھنےاورمتفق ہونےلگتاہے،قاری اورکہانی میں دوری یا بعد پیدانہیں ہوتا، ایک مقام ایساآتاہےکہ قاری خودکوکہانی میں شامل سمجھنےلگتاہےاورافسانےکی پوری اقلیم یعنی احساسات وجذبات، کردارونفسیات اورحالات وواقعات کی ترتیب،تشکیل میں قاری ان کاہم نوابن جاتاہے.کیوں کہ منٹوجس زبان میں کلام کرتاہیں اسے سمجھنا قاری کےلیےمشکل نہیں ہوتا.

تفصیلات و جزئیات

منٹوکامشاہدہ غضب کاتھاان کی تصویرکشی لاجواب تھی،اپنےموضوع سےبحث کےدوران وہ سیدھےسادےالفاظ کی تفصیل اس طرح پیش کرتےہیں کہ قاری دم بخودرہ جاتاہے،جزئیات کی یہ عکاسی افسانےکےمجموعی تاثرکوپیداکرنےمیں ممدومعاون ثابت ہوتی ہےان کےافسانوں کےایسےٹکڑےپڑھ کرحیرت ہوتی ہےکہ ان کی باریک بیں  نگاہوں سےمعمولی سی معمولی تفصیلات بھی چھپی نہیں رہتی،وہ اپنی فن کاری سےان تفصیلات کواس طرح پیش کرتےہیں کہ ہرمعمولی بات ایک مکمل تصویربن کرسامنےآجاتی ہے.مثلاً

* کھمباکافی اونچاتھا،ڈھونڈو بھی تودرازقدتھا.کھمبےکےاوپربجلی کےتاروں کاایک جال بچھاتھا،کوئی تاردورتک دوڑتاچلاگیااوردوسرےکھمبےکےتاروں کےالجھاؤمیں مدغم ہوگیاتھا،کوئی تارکسی بلڈنگ میں اورکوئی کسی دکان میں چلاگیاتھاایسالگتاتھاکہ اس کھمبےکی پہنچ دوردورتک ہےاوردوسرےکھمبوں سےمل کرگویاسارےشہرپرچھایاہواہے.(سراج)

* کونےمیں ایک بڑاپلنگ تھا،جس کےپائےرنگین تھےاس پرمیلی چادربچھی ہوئی تھی،تکیہ بھی پڑاتھاجس پرسرخ رنگ کےپھول کڑےہوئےتھے_پلنگ کےساتھ والی دیوارکےکارنس پرتیل کی ایک میلی بوتل اورلکڑی کی ایک کنگھی پڑی تھی،اس کےدانتوں پرسرکامیل اورکئی بال پھنسےہوئےتھے،پلنگ کےنیچےایک ٹوٹاہواٹرنک تھاجس پرایک کالی گرگابی رکھی تھی.(پہچان)

ان مثالوں سےواضح ہوتاہےکہ منٹوایک چابک دست مصورکی طرح معمولی سے معمولی واقعات یامعمولی سےمعمولی جزئیات کی تصویرکھینچنےمیں ایسی مہارت رکھتےہیں کہ پوری تصویراپنی تمام خوب صورتیوں اوربدصورتیوں کےساتھ سامنےآجاتی ہے.ایسی چیزیں جن پردوسروں کی نگاہ نہیں پڑتی منٹوکی نظرسےبچ نہیں سکتیں ، لیکن کسی افسانےکےسیاق وسباق میں جب ہم ان جزئیاتی کیفیات کاتجزیہ کرتےہیں تواس سےافسانہ ابھارنےمیں بڑی مددملتی ہے،اس سےمنٹوکےفن کی عظمت کااعتراف کرناپڑتاہے.
منٹو اپنی بات کہنے میں سہولت سے کہہ جاتے ہیں جو محسوس کرتے ہیں اسے کھول کر بیان کردینے کے قائل ہیں۔ ان کا مشاہدہ جتنا باریک ہے ان کا بیان اتنا ہی کھلا، صاف صاف اور تفصیلی ہے۔ معمولی جزئیات بھی ان کے ہاں نظر انداز نہیں ہوتیں۔ بے تکان لکھنا اور بہت لکھنا ان کی عادت تھی اس لئے وہ قاری کو بہت کچھ پڑھنے کے لئے دے دیتے ہیں۔ ان کا فن کہانی کا فن تھا اور کہانی تو تفصیل چاہتی ہے۔ منٹو اپنے قاری کو کہانی کی جزئیات میں جذب کرلیتے ہیں۔

منٹو کے طرزِ بیان میں پائی جانے والی سادگی کو بظاہر پھیکی اور سپاٹ معلوم ہوتی ہے۔ الیکن اس کے اسلوب میں تاثیر اور جادو بیانی کی ایک ادا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ زبان و بیان کی سادگی کے باوجود ان کی تحریر میں حلاوت و طراوت کا مزا ملتا ہے۔ ان کی تازگی بیان میں ایک سرخوشی اور بے نام سی لذت کا احساس ہوتا ہے۔ چنانچہ قاری ان کی کہانی کو شروع کرلے تو ختم کرکے ہی چھوڑتا ہے۔ دلچسپی کا یہ مقناطیسی انداز ہمارے افسانہ نگاروں میں منٹو کے حصے میں زیادہ آیا ہے-



⋆ آصف علی

آصف علی
آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

یادِ ماضی

شاذو نادر ہی ہماری گفتگو میں مستقبل کے بارےمیں منصوبہ بندی یا آنے والے وقت کے ممکنہ مسائل سے نبردآزما ہونے کی تراکیب کے بارےمیں سوچا جاتا ہے۔ یادِ ماضی سے اس قدر اُلفت و یگانگت ہماری زندگی کے موثر پن کو معدوم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہم ان تلخ تجرباتِ ماضی سے خود کو اس قدر چسپاں کر لیتے ہیں کہ ہم حال میں جینے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو ترک کر دیتے ہیں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے