ادبشخصیات

علامہ اقبال: ایک عظیم شاعر

ہمیں وہی اقبال پیاراہے جو زبان، رنگ، نسل، وطن، اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہو، الحاد و مادّہ پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید کا دشمن ہو، اسلام کی اساسی تعلیمات پر پختہ یقین رکھتا ہو۔

صالحہ صدیقی

شاعرمشرق علامہ اقبال پر کچھ کہنے سے قبل مؤقرّ و معتبر سہہ ماہی جریدے استعارہ سے یہ جملہ مستعار لیتے ہوئے بات شروع کریں کہ’’ چنبیلی کے منڈوے تلے اور عشق پیچاں کا وہ سنہرا دور جس میں تخلیقیت کا حُسن درخشاں ہوتا تھا۔جہاں زندگی کی حیات بخش صبحیں، اور دھنک رنگ شامیں اپنے دامن میں بسائے ہوئے رہتی تھی۔گزرے ہوئے دِنوں کی وہ دنیا جہاں کبھی میرؔ یا غالبؔ کے پیشروؤں اور ہم عصروں نے حسن و عشق، پیغام آفرینی اور اردو شاعری کے نئے انوکھے موڑ ہمارے سپرد کئے تھے وہ دنیائیں، وہ ادبی دنیائیں ہم سے دور ہوتے ہوتے بہت دور ہو چکی تھی۔ہمارے شعر و ادب کی شاہراؤں پر یخ بستہ اُداسی کا منظر نامہ اُ بھر چکا تھا۔‘‘ایسے ہی نا مساعدِحالات اور ساعتِ غدر کی ناکامی کے زائد ایک دہائی بعد کشمیری برہمن خاندان میں اقبال ؔ کا جنم ہوا علامہ اقبال ؔ کا جنم ایسے وقت میں ہوا جب مسلم قوم انگریزوں اور انگریزی تعلیم سے دوری بنائے ہوئے تھی، ایسے ہی سنگین حالات میں علامہ کے والد محترم نے بدلتے ہوئے زمانے کا احساس کرتے ہوئے انھیں جدید تعلیم کے لیے مشن اسکول میں داخل کر دیا تھا۔

اقبال کو صورتِ شجرَ سایہ دار مولوی میر حسن جیسے شفیق استاد ملے جو عربی و فارسی زبانوں پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔مولوی میر حسن کے تاثر سے اقبال ؔ نے اسی زبان کو اپنے اظہار و شاعری کا ذریعہ بنایا۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے جب وہ لاہور کے گورمنٹ کالج گئے تو وہاں بھی نابغۂ روزگار شخصیت پروفیسر آرنلڈ نے اقبالؔ کی وِجدان و ایقان کی منڈیروں پر فِکر و آگہی کے لازوال دیپ روشن کر دیئے۔ خود علامہ کی قابلیت، حصولِ علم کی تڑپ، اور قابِل ترین مُشفق استاد وں کی تربیت نے ان کے ذہن و قلب کو منوّر کیا، اور پرواز فکر کو جِلا بخشی۔علامہ اقبال کا حصول علم یہی نہ رکتے ہوئے دیارِ مغرب کی کیمرج یونیورسٹی تک جا پہنچا۔ یہاں فلسفے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے یورپ کے مزید دانش گاہوں کا طواف بھی کیا۔ انھوں نے کالج میں ملازمت بھی کی، بیرسٹر کی حیثیت سے کورٹ میں وکالت بھی کی لیکن بہت جلد طبیعت کی جوَلانیوں نے انھیں ملازمت کے حصار سے نکال لیا۔ شاعری چونکہ علامہ اقبال ؔ کے رگ و پے میں سرایت تھی، طبیعت کی موزونیت نے انھیں حلقعۂ داغ سے منسلک کر دیا تھا۔ ابتدائی زمانے میں ان کی شاعری پر وطن پرستی کا رنگ حاوی تھا، تو غزلوں میں داغ کی سی شوخی و شیریں بیانی اور غنائیت موجود تھی۔لیکن بعد میں ان کی شاعری یکسر ’’پیام اسلام ‘‘ بن کر رہ گئی تھی۔ ان کے نزدیک دنیا کے تمام دکھ درد کا یہ علاج تھا کہ وہ اسلام کے اُصولوں پر، اس کے بنائے ہوئے نظام پر عمل پیرا ہو جائے۔علامہ نے عملی سیا ست میں بھی سر گر می سے حصہ لیا۔ اقبال کا دل وہ دلِ گداختہ تھا جو انسانی محبت اور عظمت سے معمور تھا اور اسی جذبے نے انھیں ’’شاعر مشرق ‘‘ بنا دیا تھا۔وہ کسی ایک قوم کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو امن، چین اور سکھ کی زندگی بسر کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔حاضر دِماغی، بَر جستہ گوئی، بلندئ فِکر، وسعتِ علم، فلسفہ دانی، و ہمہ دانی اور معرفت ان کی بصیرت و بصارت کی وہ تا بندہ درخشندہ ہاَلے تھے جو ان کی شخصیت اور ان کے اظہارِ فن کا احاطہ کئے ہوئے رہتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اقبالؔ کی شاعری میں نالۂ فغاں بھی ہے اورآہ و شیوَن کے ساتھ نغمہ وُ سرود کا رنگ بھی شامل ہے۔اگر وہ ملک و قوم کی زبوں حالی پر اشک بہاتے تھے، تو بہار کی رعنائیاں اور موسمِ گل کی طرب زائیاں، حُسن بے محابا کی رنگینیاں، جلوۂ عام کی دلربائیاں، کوہ و دشت کے مناظرِ، کنارِ آب اور لبِ جوئبار کی کیف آفرینیاں، جگنو کی چمک، تاروں کا تبّسم، روشن منور کاہکشاں، چاند کی شبنمی چاندنی بھی ان کی شاعری کا محور و مرکز تھی۔علامہ کی زندگی میں وہ دور بھی آیا کہ ان کی شاعری یکسر آہ و نالہ، فغاں و شیوَن، درد و کرب، اَلم و اِمتہاب بن کر رہ گئی تھی۔وہ گل و بلبل اور لب و رُخساراور زلف پریشاں کے افسانے سناتے تو تیرِ نظر اور سَنانِ نگاہ کے مرثیہ خواں بھی ہوتے۔

اقبالؔ کی شاعری اور پروازِ تخیل کا مَسکن ان بلندیوں پر ہے جہاں سے اسلام انسانیت کے لیے ایک انقلابی تحریک کی صورت جدید نظام زندگی لئے ظاہر ہوا تھا۔ اقبال ؔ کی شاعری کی روح اُس قرآنی تعلیم سے اکتسابِ نُور کرتی رہی ہے، جس کے لیے گوئٹے نے کہا تھا کہ ہم ایسی انسانی بلندیوں پر بھی تعلیم سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ علامہ اقبالؔ غیر منقسِم ہندوستان کا وہ قیمتی ورثہ یا خزانۂ بیش بہا تھے جس کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔اقبال ؔ کی شاعری میں اس دور کی کشمکش کے آثار جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ اقبالؔ کا دورایک ایسی فکری کشاکش کا دور تھا جس میں قدیم تصورات کے بُت ٹوٹ رہے تھے، تو زندگی کے مختلف شعبوں میں مغربی تصورات در انداز ہو رہے تھے۔ ایسی نا مساعد حالات میں اقبالؔ نے مغربی نظریات کے کھو کھلے پن کو واضح کیا، اور وہ کام جو اُس وقت کے آئمۂ فکر و نظر نہ کر سکے بحیثیت شاعر اقبال ؔ نے کر دکھایا۔ وہ مغربی تصورات جو نجات اور ترقی کے ضامن تصور کئے جانے لگے تھے، انھیں علامہ اقبال نے علمی سطح پر چیلنج کیا، اور جواباََ اسلامی تصورات کو اجاگر کیا۔انسانوں کے انسانوں کے درمیان حدّ فاصِل دیکھ کر اُن کا دل بیقرار ہوجاتا تھا۔ ایسے حالات میں اُن کا نالہ ’’نالۂ آتشیں ‘‘ بن جاتا تھا۔وہ اپنے وسیع علم اور وسیع تجربے و تفکر اور تدبرسے ایک راہ عمل متعین کر چکے تھے۔ وہ ایسی منزل کے متلاشی تھے جو انسان کو جہنم کی بجائے جنت بخش دیتی ہو۔

قیصریت، آمریت، جمہوریت، اشتراکیت، و دیگر نظریات و تصورات کا انھوں نے بغور مطالعہ کیا انھیں جانچا، پرکھا، تجربہ و تجزیہ کیا اور پھر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سارے نظریات و تصورات فرسودہ ہو چکے ہیں۔ ان سارے تصورات میں ایسا کوئی تیر بہدف نسخہ نہیں جو انسانوں کے درد و غم اور دکھ کا مداوا کر سکے۔ مدّتوں غور و فکر کے بعد علامہ اقبال ؔ اِس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا اور انسانوں کے ہر دُکھ ہر درد کا علاج صرف اور صرف ’’اسلام ‘‘ ہے۔اُن کی بصیرت و بصارت اور فکرو آگہی نے سارے تصورات و نظریات کے عمیق مطالعہ سے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ ’’ قلب مسلماں ‘‘ سے زیادہ حسین و جمیل کوئی دوسری شئے نہیں۔ ’’ نگاہِ مسلم‘‘ سے زیادہ زلزلہ افگن اور تقدیر شِکن کوئی ہتھیار نہیں۔ ان کی نظروں میں ’’قلبِ مسلماں ‘‘اور ’’نگاہِ مسلم‘‘ ہی وہ تریاق ثابت ہو سکتا تھا۔ جس سے جاں بلب اور لبِ گور، حیاتِ نو سے آشنائی حاصل کر سکتا ہے۔ ’’قلب مسلماں ‘‘ اور ’’نگاہِ مسلم ‘‘ کے ساتھ ساتھ’’ مردِ مسلماں ‘‘اُن کی نظروں میں برَ اَفگندۂ نقاب ہو کر دنیا کے ہر دُکھ، ہر درد، ہر بیماری اور ہر آزار دور کر دے۔یہی علامہ اقبالؔ کا پیام ہے۔ یہی ان کی شاعری کا سر چشمہ ہے۔یہی اُس مردِ قلندر کی ’’ نوائے پریشاں ‘‘ ہے۔اقبال ؔ کا علمی قد و قامت، اُن کی فلسفیانہ حیثیت، اُن کی منفرد سوچ و فکر، اور اُن کا اُسلوب و بیان اتنا بلند، اتنا ارفعٰ و اعلیٰ ہے کہ نہ صرف ہجومِ سخن فہماں جھوم جھوم اٹھتے ہیں بلکہ سخنِ نا شناساں بھی سرَ دُھننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ مخالفینِ اقبالؔ نے مخالفت کا گرد و غبار بھی اُڑایا کہ اقبال ؔ کی ادبیت کا رُخ روشن تاریکی میں چھپ جائے۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ علامہ اقبال کا روئے خوب مخالفت کے غبار میں اوجھل بھی ہوا۔ اقبالؔ کے ادب پارے، ادبی صنائع و بدائع بحث جاہلاں میں خزف ریزوں سے بد تر بھی ہوئے، مگر آج ایک زمانہ بیت گیا، اقبالؔ کی شاعری، اُن کا پیام، فلسفہ، سیاسی نظریات اور اسلامی تصوّرات وہ رخ روشن بنے ہوئے ہیں جن کے نظارۂ تابندہ سے دنیائے ادب کی آنکھیں خیرہ ہو رہی ہیں۔

علامّہ اقبال ؔ کا ادبی پہلو اتنا روشن و منور اور نظر افروز ہے کہ اُس سے صرفِ نظر یا انکار نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اقبالؔ کی جدّت طرازیوں کو فراموش کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی شاعری میں ایک سبق پو شیدہ ہے اور ایک پیام بھی، وہ دعوتِ نظر بھی دیتے ہیں اور دعوتِ اِلتِہات بھی، پیام درد بھی دیتے ہیں لذتِ حرماں بھی، وہ اپنے اشعار کی معنئ آفرینی و پیغامِ آفرینی سے خوابِ خرگوش میں مست و بیخود نیند کے متوالوں کو درس بیداری دیتے تلقین و اظہار کرتے ہیں کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں، اور اپنے کردار، اپنے احساس و عمل سے نئی دنیائیں آباد کریں۔ اقبال ؔ کی نظموں میں حُسنِ بیان، ندرتِ خیال، وضع اُسلوب، خوبئ ادا، بلندئ فکر اور جدت تشبیہہ کی حسین و جمیل اور مثلِ طلسم ہوشربا کی دنیائیں آباد ہیں۔ انھوں نے اپنی نظموں میں وہ دُرّ نایاب بکھیرے ہیں، وہ نادر و نایاب، بے مثل تشبیہات و استعارے سموئے ہیں کہ دلوں سے بے ساختہ’’ آہ ‘‘اور ’’واہ‘‘ کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں۔ اقبال ؔ کی نظموں میں فصدِ آفتاب، کشتئ خورشید، طَشتِ گردُوں، شفق کا خونِ ناب، عروسِ شام کی بالی، سیمِ خام کی مچھلی، شب کی سلطنت، دِن کا سفیر، مہتاب کی قبا، سورج کا پیراہن، حُسن قدیم، داغِ شب، لالۂ افسردہ، آتشِ قبا، تقدیر سیمابی، شبنم کی آرسی، ہفتِ ِ کِشور، کرمک ناداں، چرخِ نیلی فام، رُخسار دریا، مرغانِ بے زباں، روحِ خورشید، خونِ رگ مہتاب، دستار فضیلت، فیل بے زنجیر، ابر کوہسار، پر وردۂ خورشید، جبینِ کوہ، جوئے سیماب رواں، مثلِ تارِ سیم نہروں کا آئینہ، شامِ سیہ قبا، طشتِ اُفق، لیلائے ظلمت، ایسے استعارے اور تشبیہات ہیں جن کی مثال اردو ادب میں بصد تلاش اور کھوج نہیں مل سکتی۔اقبال کی بے شمار نظمیں اسرار و معارف کا مرقع ہیں۔

ان کی نظموں میں زندگی کے اسرار و رعالم خاکی کے رموز بھی موجود ہیں مگر ان کا انداز بیان اور اُسلوب ایسا ہے کہ راز عیاں نہیں ہوتا راز ہی رہتا ہے، لیکن ایک سوالیہ نشان کی صورت کہیں کہی سُلجھ بھی جاتا ہے ساتھ ہی اس میں زندگی کی اور تڑپ بھی پیدا ہوجاتی ہے اور زندگی اور پیغام آفرینی کا رنگ نِکھر نِکھر جاتا ہے۔ اپنی شاعری کے حوالے سے جب وہ فلسفۂ ہست و بود بیان کرتے ہیں تو خوش بیانی اور رنگین نوائی کو ہمراہ رکھتے ہے۔ انھوں نے فلسفۂ ہست و بود کو جس طرح موضوعِ بیان بنایا ہے یا استعمال کیا ہے وہ صرف اور صرف ان کا ہی حصہ و خاصہ ہے۔ اقبال کے کلام میں ایک خاص تیور، ایک کشمکش، تُند و تاریک شبِ سیاہ میں طلوعِ مہر کا اشاریہ، پریشاں حال دنیا کے لیے نسخۂ حیات اور علاجِ دَرماں، ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کے جوشِ کلام میں ایک بانکپن، ایک خاص تسلسل کا خزانہ ملتا ہے۔شاعری کی مشہور اصطلاحوں حسن و عشق اور محبت کو انھوں نے اپنے انداز و معنی میں استعمال کیا ہے۔درد و غم اور سوز و اَلم بھی علامہ کا موضوعِ سخن رہا ہے۔ جب وہ درد و غم اور سوز و الم کا فسانہ چھیڑتے ہیں تو اشک بار بھی ہوجاتے ہیں اشک بار کر بھی دیتے ہیں۔ خود سوز و الم میں افسردہ ہوجاتے ہیں اور انجمن در انجمن افسردگی طاری کر دیتے ہیں۔ اس موسمِ اشک بار اور افسردہ فضاؤں میں بھی وہ اسلوب و بیان، الفاظ کی بُنت اورتراش و خراش، بندش کی جِدّت اور تراکیب و استعارات اور تشبیہات کا چُست استعمال اتنا بر محل اور برملا ہوتا ہے کہ قاری اسلوب و بیان، و اظہار و معنی کے ساتھ سفر کرتے یا لفظ لفظ پر غور و فکر کرتے ہوئے سر دُھننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بقول آل احمد سرور:۔

’’غزل در اصل شہاب ثاقِب ہے، غزل کا مزاج رکھنے والوں کے یہاں مسلسل پرواز نہیں ملتی، وہ ایک مخصوص طرزِ فکر کے خُو گر ہوجاتے ہیں، مربوط فکر اور مسلسل پرواز کی مثالیں ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں تصویرِ درد سے لے کر خضرِ راہ تک فن کا ارتقأ ملتا ہے۔ ‘‘(بحوالہ : نئی نظم مرتب زبیر رضوی : عنوانِ مقالہ’’جدید نظم ہیئت و تشکیل ص :۷۹)
شمیم حنفی اردو نظم ۱۹۶۰ میں لکھتے ہیں کہ ’’ اقبال دنیا کے بڑے شاعروں کی طرح اپنا ایک الگ منصب، معیار اور مزاج رکھتے ہیں۔ ‘‘

جبکہ وزیر آغا کے نزدیک ’’ اقبال کی کئی نظموں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں حیات کی چِیرہ دستیوں اور حقائق کی تلخیوں کو ایک فلسفی کے زاویۂ نگاہ سے نہیں بلکہ ایک شاعر کے نقطۂ نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اقبال ؔ کی ان نظموں میں فکر کا نمایاں عنصر مقصود بالذات نہیں بلکہ شاعر کی مخصوص اُ فتادِ طبع اور جذباتی میلان کا حاصل ہے۔بیشک انھوں نے زندگی کے رموز و نکات کی تفہیم ملک و قوم کے مسائل کی تو ضیح اور فطرت کے خارجی حُسن کی عکاّسی میں اپنے قلم کا سارا کمال صرف کر دیا ہے۔ تاہم انھوں نے اپنے قلم کی روشنائی خود اپنے خونِ دل ہی سے مستعار لی ہے اور نتیجتاََ ان کی کئی ایک نظموں میں فکر اور جذبے کی آمیزش سے ایک ابدی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔‘‘( بحوالہ : اردو شاعری کا مزاج ڈاکٹر وزیر آغا ص ۷۳)

کیونکہ ہر اچھا شاعر اپنے الفاظ کا ذخیرہ ساتھ لاتا ہے، اقبال کے یہاں یہیں کمال ملتا ہے کہ انھوں نے اپنی لغتِ شعری علاحدہ بنائی اور پرانے الفاظ اور پرانی ترکیبوں کو نئی معنویت عطا کیں۔ بقول ڈاکٹر وزیر آغا:

’’انھوں نے اپنی نظموں میں پہلے تو منظر کشی کی ہے اور اپنے جذبات و احساسات کے لیے مناسب ماحول پیدا کیا، اور جب انھوں نے محسوس کیا کہ ماحول کی منظر کشی ہر لحاظ سے مکمل و اکمل ہوگئی ہے تو انھوں نے اپنے جزبات و احساسات کے بند کھول دیئے ہیں اور اس طرح ان کی نظموں میں ماحول اور جذبے کی ہم آہنگی اُستوار ہوگئی ہے۔‘‘ (اردو شاعری کا مزاج: ص ۷۳)

یہاں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اقبال نے شاعری کے تمام روایتی اوصاف اور محاسن سے دست کَش ہوکر اپنی نظموں کے لیے نئی بوطیقا کی تشکیل کی۔ کھری کھُردری، دُرشت اندوہ پرور اور اضطراب آمیز آبشاری اُسلوب اور کہیں کہیں پُر چشموں کی مدھم لئے لیے ہوئے مدھم حزنیہ آہنگ میں ڈوبی ہوئی، ایک شدید روحانی کشاکش میں الجھی ہوئی، سوچتی ہوئی اور پڑھنے والوں کو زندگی کے عام سوالوں پر پھر سے سوچنے پر اُکساتی ہوئی۔اُن کی نظموں میں ڈرامائیت، مکالمے کی تیزی اور جوش حد سے زیادہ موجود ہے، جو انقلاب اور پیغام آفرینی کا اشاریہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ شاعروں کے ہجومِ بے چہرگاں میں کچھ چہرے الگ سے پہچانے جاتے ہیں، جن میں اولین چہرہ علامہ اقبال کی شاعری کا ہے۔ اقبال کے مر ثیے بھی زبان و بیان اور اُسلوب کا ایک جیتا جاگتا مرقّع اور سوز و الم کی تصویرِ گویا ہیں۔ جو اثر انگیزی کے لحاظ سے ممتاز ہے۔ اقبال کی شاعری میں تشبیہ، استعارات کی ایک جیتی جاگتی دنیا آباد ہے جو اپنی جدتّ اور نوعیت کے اعتبار سے بالکل نئی، انوکھی، نرالی، اَن چھوُئی، دکھائی دیتی ہیں۔ جس میں فِکر رَسا کا عجیب و غریب، دلنشیں نمونہ ملتا ہے۔علامہ کے یہاں شاعرانہ طنز و تعریض کی دلچسپ و پرُ لطف مثالیں بھی جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں، جہاں روایتی شاعروں کے یہاں واعظ، زاہد، ناصح اور محتسب کے مخصوص موضوع ملتے ہیں وہیں میخانۂ اقبال میں بھی یہ مثالیں ملتی ہیں مگر ان کے یہاں عجیب و غریب اور ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے ان اصحاب کی دستاریں اُڑتی ہوئی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ اقبال جانی بوجھی حقیقتوں، روز مرّہ کے واقعات و حوادث اور مسائل کو زمین پر بکھرے ہوئے نظاروں کی طرح پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور اِن حالات میں یا اوقات میں ان کا حسنِ بیان، حسن تکلم ایک نیا سماں، اور نئی کیفیت سے معمور ہو جاتا ہے۔یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اقبال کی نظارہ کشی بھی قابل دید ہے، نظارگی کے لمحوں میں زبان و بیان کا لطف یعنی الفاظ اس طرح استعمال ہوئے ہیں کہ لگتا ہے جیسے انگشتری میں جڑا ہوا کوئی نگینہ ہے اور اگر کوئی کسی ایک لفظ کی بُنت یا رکھ رکھاؤ کو اِدھر سے اُدھر کرنے کی کوشش کرے تو بندش الفاظ کی خوبی و رعنائی ماند ہوجائے یا ضائع ہو جائے۔ علامہ اقبال چونکہ دبستان داغ سے وابستہ تھے، اس لئے ان کے یہاں رنگ تغزل بھی ملتا ہے، داغ کے طرز اور ان کے اُسلوب سے متاثر اقبال کی مشہور غزل کے چند اشعارپیش خدمت ہیں:

نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی 
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی 

تمہارے پیامی نے سب راز کھولا 
خطا اس میں بندے کی سر کار کیا تھی

بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا 
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی 
تامّل تو تھا اُ ن کو آ نے میں قاصد 
مگر یہ بتا طرزِ انکار کیا تھی 

اس کے علاوہ اُن کی غزلوں میں اُن کا اپنا ایک خاص اور انوکھا رنگ موجود ہے جو کہیں بھی پھیکا یا ماند ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ علامہ اقبال کی غزلوں میں اُسلوبِ داغ کی شوخی و شیریں بیانی موجود ہے تو خود اقبالؔ کی انفرادیت بھی پوری شان و شوکت سے براجمان ہے۔ آج کے نا پرُ ساں دور میں اقبال کے اطراف موجود غلط فہمی کا ہالہ ختم ہو رہا ہے اور اقبال ؔ کا نام اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہورہا ہے جو خوش آئند ہے۔ مگر یہاں بھی ہونا یہ چاہیے کہ اقبال ؔ کی باز آباد کاری اُس کے اصل روپ میں ہو۔اقبال کا حقیقی تصوّر اُجاگر ہو۔ کیونکہ ہمیں وہی اقبال پیاراہے جو زبان، رنگ، نسل، وطن، اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہو، الحاد و مادّہ پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید کا دشمن ہو، اسلام کی اساسی تعلیمات پر پختہ یقین رکھتا ہو۔ وہیں مجھے یہ بھی یقین ہو چلا ہے کہ وہ وقت قریب آچکا ہے جب ہر قوم پکارے گی، اقبالؔ ہمارا ہے۔

اقبال اور ان کی عظمت و شان اور ان کی شاعری کی پر تیں بلا شبہ ایک وسیع موضوع ہیں جنھیں چند صفحات میں سمیٹنا یا ان پر تفصیلی گفتگو کرنا ممکن نہیں۔ لیکن یہ ایک ادنیٰ سی کوشش ہے ان کوسمجھنے کی جو یہاں پیش کی گئی۔ میں اپنی باتوں کو اقبال کے ان چند مصرعوں کے ساتھ ختم کرنا چاہونگی کہ :

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ ا سی نام سے ہے

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. آپ کا تجزیہ بہترین ہے۔
    لیکن علامہ اقبال رحمتہ اللہ کو شاعر کہنا درست نہیں۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ شاعر نہ تھے اور خود کو شاعر کہلوانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
    بلکہ ایک جگہ میں نے پڑھا تھا کہ جب اقبال لندن تشریف لے گئے تو شاعری کو خیرباد کہہ دیا۔ لیکن سر عبدالقادر اور اقبال کے استاد گرامی آرنلڈ نے اقبال کو شاعری ترک نہ کرنے کا کہا۔ اس کے راوی سر عبدالقادر ہیں۔
    اقبال رحمہ اللہ نے خود بھی فرمایا بلکہ اقرار کیا تھا۔
    نغمہ کجا و من کجا سازِ سخن بہانہ اسیت
    سوئے قطار می کشم ناقہ بے زمام را۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close