ادبافسانہ

فرشتے زمین پر

 پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

رمضان المبارک افطاری سے آدھا گھنٹہ قبل لا ہور شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا سیلاب اُمڈ ا ہوا تھا۔ شہر کی ساری گا ڑیاں سڑکوں پر آنے کی وجہ سے سڑکیں محدود ہو تی نظر آرہی تھیں ۔نوجوان ‘بو ڑھے ‘عورتیں ‘ڈرائیور حضرات مختلف مزاج کے لو گ ‘مزاجوں کا یہ اختلا ف ٹریفک کے بگا ڑ کا مو جب بن رہا تھا۔ ہر کسی کو جلدی گھر جانے کی پڑی تھی لوگ اخلا قیات اورٹریفک قوانین کی پامالی کر تے نظر آرہے تھے۔ ‘انسا ن فطری طو ر پر جلد باز ‘بے چین ‘بے صبرا ہے اِس کا عملی نمو نہ نظر آرہا تھا۔ ‘بمپر سے بمپر ٹکرا رہا تھا گاڑیاں ایک دوسرے سے رگڑ کھا تی چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھیں ہم بھی افطاری کے لیے منزل مقصود کی طرف رینگ رہے تھے ۔وہ گا ڑیوں کے بیچوں بیچ اپنی مو ٹر سائیکلیں گھسیڑتے نظر آرہے تھے ۔انسانوں کی اکثریت کا مزاج یہ ہو تا ہے کہ جب ماحول اور چیزیں اُن کے مزاج کے مطا بق نہ ہوں تو وہ مسئلے کا حل نکالنے کی بجا ئے غصے اور فرسٹریشن کا شکا ر ہو جاتے ہیں ۔

یہاں بھی انسانوں کا یہی رویہ نظر آرہا تھا۔ دوسروں کو جگہ دینے کی بجا ئے ہر کسی کو جلدی جانے کی پڑی ہو ئی تھی ‘خو د کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھتے ہو ئے ہر کو ئی آگے بڑھنے کی کو شش کر رہا تھا ‘۔بے پنا ہ رش دیکھ کر ٹریفک عملہ بھی بھا گ چکا تھا۔ نفسا نفسی کا دور تھا انسان جانوروں کی طرح نظر آرہے تھے۔ ٹریفک جو سست روی سے جا ری تھی نوجوان منچلوں کی شرارتوں سے اور ہما ری روڈ پر آگے سے ٹریفک آنے کی وجہ سے اچانک رک گئی۔ اب ہم ٹریفک کے کھلنے کا انتظا رکرنے لگے کہ کب ٹریفک کھلے اور ہم منزل مقصود پر پہنچ سکیں ۔ لیکن ٹریفک تو برف کی طرح منجمد ہو چکی تھی اب وہ ایک انچ بھی آگے سرکنے کو تیا ر نہیں تھی ۔

 اب لوگ گا ڑیوں سے سر نکا ل نکال کر آگے دیکھ رہے تھے چند لو گ با ہر نکل کرحالات کا جا ئزہ لینے کی کو شش کر نے لگے ‘ٹریفک دور حد نگا ہ تک جام ہو چکی تھی ٹریفک کی لمبی قطا ر بنا رہی تھی کہ آج افطا ری روڈ پر ہی ہو گی اب انتظار کی گھڑیاں طو یل ہو نا شروع ہو گئیں اور ہم ٹریفک کے کھلنے کا انتظار کر نے لگے اور پھر آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا افطا ری میں جب 5 منٹ رہ گئے تو ابھی تک ٹریفک جام تھی اب لوگ ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ افطا ری کے لیے کیا کریں اچانک چند لڑکے نظر آرہے جو ہا تھوں میں پیکٹ لیے مختلف گا ڑیوں میں وہ پیکٹ دیتے نظر آئے اُن پیکٹوں میں جو س کھجوریں اور پا نی کی بو تل تھی وہ محبت سے پر گاڑی کے پاس جانے مسافروں کی تعداد کا مطابق پیکٹ دے کر آگے بڑھ جا تے۔ اُن نوجوانوں کو دیکھ کر خو شگوار حیرت کا احساس ہو ا تھا میں نے با ہر نکل کر دیکھا ایک دوکان دار بہت سارے پیکٹ دوکان کے سامنے سجائے اپنے لڑکوں کے ذریعے افطاری کے یہ پیکٹ پیا رو محبت سے با نٹ رہا تھا۔

 بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہاں پر تقریبا روز ہی ٹریفک اِ سطرح جام ہو تی ہے اور یہ دوکان داراور کچھ اور بھی دوکان دار اِسی طرح ہی روزانہ لوگوں کی افطاری کرا تے ہیں ۔ میں خو شگوار حیرت اُس دوکان دار اور اُس کے لڑکو ں کو دیکھ رہا تھا جو نیکی اور قرب الٰہی کے عظیم جذبے کے تحت یہ سامان بانٹ رہے تھے جانوروں کی طرح ایک دوسرے میں گھتم گھتا انسانوں میں فرشتوں جیسے یہ لو گ ایمان اور کردار کا نو ر بانٹ رہے تھے میں خو شگوار حیرت فرشتہ نما خدمت خلق کے پرونوں کو دیکھ رہا تھا اور پھر افطا ری کے بعد ٹریفک چلنا شروع ہو تی تو مجھے ایک اور خو شگوار منظر نظر آیا اب ہم لاہور کے ایسے علا قے میں تھے جہاں فیکٹریاں تھیں سڑک پر ہی سینکڑوں لوگ قطا روں میں بیٹھے ہو ئے تھے چند آدمی ان کے سامنے روٹیاں اور سالن رکھ رہے تھے اور پھر مجھے وہ فرشتہ نماانسان بھی نظر آیا جس نے اِس افطا ری کا بند وبست کیا تھا دودھ کی طرح سفید کپڑوں میں ملبوس سر اور چہرے پر سفید با ل اور وہ بھرتی سے اپنے بندوں کو ہدا یات دے رہا تھا۔

 سینکڑوں انسان اپنے شکم کی آگ بجھا رہے تھے پتہ چلا کہ پورا رمضان یہ نیک انسان اسی طرح روزانہ یہاں سینکڑوں روزہ داروں کو افطاری کرا تا ہے اِس فرشتے کو دیکھ کو مجھے بے شما ر اور بھی فرشتے یا دآئے جو اسی طرح لوگوں کو افطاری کرا تے ہیں جنہوں نے دستر خوان کھول رکھے ہیں جو سارا سال کا روبار کر تے ہیں اور رمضان کا انتظا رکر تے ہیں اور پھر رمضان المبا رک میں یہ اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں اِس معاشرے میں بے شمار اپنے کاروباری لو گ ہیں جنہوں نے اپنے کا روبارمیں خدمت خلق کے لیے حصہ مقرر کر رکھا ہے کہ اپنی دولت کا اتنا حصہ خد اکے نام پر نیک کاموں میں لگا یا جائے گا جو سارا سال کما تے ہیں اور پھر ضرورت مندوں میں تقسیم بھی کر تے ہیں یہ لو گ ضرورت مندوں کی تلاش میں رہتے ہیں جیسے ہی کو ئی ضرورت مند اِن تک پہنچے تو یہ راز داری سے اُس کی مد د کر تے ہیں ۔

 ہما رے ہی معاشرے میں بے شما ر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے بیوائوں مسکینوں یتیموں کے وظیفے مقرر کر رکھے ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں اپنی زکوۃ دیتے ہیں جنہوں نے ایسے بہت سارے ادارے بنا رکھے ہیں جہاں ضرورت مند وں کی ضرورتیں پو ری ہو تی ہیں یتیم بچیوں کی شادی سے لے کر مستحق طالب علموں کے تعلیمی اخراجات پو رے ہو تے ہیں ایسے دولت مندوں کی زندگی کا مقصد دولت کما کر ضرورت مندوں میں تقسیم کر نا ہے یہ دنیا میں دولت اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیا دہ کما تے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دولت اللہ کا انعام ہے اُس کا کرم ہے او رپھر یہ اللہ کے اِس انعام اور کرم کو ضرورت مندوں میں بانٹتے ہیں ہمارا با نجھ معاشرہ ایسے ہی لوگوں کے دم قدم سے آباد ہے کہ فوری طور پر اُس کا ہاتھ اپنی جیب میں چلا جا تا ہے یا وہ خاموشی سے اندر جا کر پیسے آپ کے ہا تھ میں تھما جا تے ہیں ۔

اِن مخیر حضرات میں زیا دہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو خود سامنے آنا بھی نہیں چاہتے یہ اِس خا موشی سے کسی کی مدد کر تے ہیں کہ اُن کے دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلتا میں ایسے بے شما ر کا روبار ی حضرات کو جانتا ہوں جنہوں نے بہت سارے ملا زم بغیر کسی ضرورت کے رکھے ہو تے ہیں جنہوں نے ساری عمر کسی ملازم کو نو کری سے نہیں نکالا جو یہ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کس کے رزق کی وجہ سے اُس کا کاروبار چلا جو ملا زموں کو بھی تو نہیں آپ کہہ کر بلا تے ہیں جن کے مرنے پر سینکڑوں بے آسرا لو گ کہتے ہیں آج ہما را باپ مر گیا ۔آج ہما رے سروں سے چھت اٹھ گئی یہ لوگ نیکی کر کے جتا تے ہیں بلکہ دعا کر تے ہیں کہ اُن کی یہ حقیر کو شش خدا کی با رگاہ میں قبو ل ہو جائے۔

 یہی وہ لو گ ہیں جن کہ آنکھیں کسی ضرورت مند کو دیکھ کر بھیگ جا تی ہیں جو کسی کی ضرورت پر تڑپ جا تے ہیں جو دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں ایسے ہی سخاوت کے علمبردار لوگ ہو تے ہیں جو جانتے ہیں کہ سخا وت سے اللہ کے نا م پر دینے سے ان کے کاروبار نے دن دگنی رات چوگنی تر قی کی ہے یہ مخلوق کے درد کو دل سے محسوس کر تے ہیں ایسے لوگ عطیہ خدا وندی ہو تے ہیں فرشتوں جیسے یہ لو گ غرور تکبرسے پا ک ہو تے ہیں جو ہر نیکی کے بعد اور عاجز ہو جا تے ہیں خو ش قسمت ہو تے ایسے معا شرے جہاں پر خدا ئے بزرگ برتر رحیم کریم فرشتوں جیسے یہ لوگ اتا رتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے وجود سے ہما را بانجھ معا شرہ آج بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close