ادبغزل

قطرہ ہوں ابھی ایک میں دریا تو نہیں ہوں

احمد علی برقی اعظمی

قطرہ ہوں ابھی ایک میں دریا تو نہیں ہوں

جیسا وہ سمجھتے ہیں میں ویسا تو نہیں ہوں

ساکت ہے قلم ، گُنگ زباں ذہن ہے ماؤف

بے جان کوئی خاک کا پُتلا تو نہیں ہوں

بازیچۂ اطفال سمجھتے ہیں جو مجھ کو

میں ان کے لئے ایک تماشا تو نہیں ہوں

ترجیح نہ دے بزمِ ادب میں مجھے کوئی

اعلیٰ نہیں پر اتنا بھی ادنیٰ تو نہیں ہوں

گلچیں کی  طرح  سب مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں

میں غنچہ و گُل کے لئے خطرہ تو نہیں ہوں

انگشت بدنداں ہیں مجھے دیکھ کے سب کیوں

اک حادثۂ حوصلہ فرسا تو نہیں ہوں

کیوں تیری گاہوں میں کھٹکتا ہوں میں آخر

گلزارِ جہاں کا کوئی کانٹا  تو نہیں ہوں

دیوانہ سمجھتے ہیں مجھے اہلِ جہاں کیوں

بے وجہہ کسی سے کبھی اُلجھ تو نہیں ہوں

گُلشن میں نظر آتے ہیں آثار خزاں کے

میں جس میں ابھی ٹوٹ کے بکھرا تو نہیں ہوں

اللہ محافظ ہے مری کشتیٔ دل کا

’’میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں‘‘

جس طرح دکھاتا ہے مجھے میڈیا برقی

ایسا کوئی مکروہ میں چہرہ تو نہیں ہوں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close