ادبتبصرۂ کتب

لباس فکر: جذبات و احساسات کی شاعری

 وصیل خان

خالد اعظم شاعر ہی نہیں ایک خوش فکر شاعر ہیں ان کا تعلق قصبہ ٹانڈہ سے ہے جو کبھی سلطنت اودھ کے  اولین دارالخلافہ فیض آباد کے زیر نگین تھا لیکن انقلابات زمانہ کے سبب اب وہ امبیڈکر نگر کے زیر انتظام ہے ۔دریائے گھاگھرا ( سرجو ) کے کنارے آباد یہ قصبہ اپنی گونا گوں خصوصیات کے اعتبار سے ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔اس زر خیز خطے سے اٹھنے والی شخصیات نہ صرف علاقائی بلکہ ملک گیر سطح پر اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ صاحب عرفان صوفی میاں چاند شاہ ؒ اور مشہور عالم دین اور مجاہدآزادی مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ،ان کے رفقائے کار مولانا علیم اللہؒ،  مناظر اسلام علامہ نور محمد مظاہر ی ؒ،فارسی و عربی ادب کے امام الوقت مولانا جمیل احمد مظاہریؒ ،مولانا نصیر احمدؒ ، مولانا ظہورالحسن شاہ ؒ( سجادہ نشین آستانہ میا ں چاند شاہ ؒ)جیسی نابغہ ٔ روزگار شخصیات نے تحریک حصول آزادی کے علاوہ مختلف شعبہ حیات میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔سیاسی و ادبی معرکوں میں بھی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ، مختار احمد قدوائی ، ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد اور محمودالٰہی زخمی اور سید عبدالباری جیسے افراد اسی سرزمین سے اٹھے جن کی شہرت چہاردانگ پھیل گئی ۔

خالد کی شاعری میں جو ایک خاص قسم کا رچاؤ اور معیاردکھائی دیتا ہے وہ انہی اسلاف کی علمی و فنی روایات کا پرتو ہے جس کا اعتراف انہوں نے اپنے اولین شعری مجموعے ’ لباس فکر‘ کے ابتدائی صفحات میں بڑی سعادت مندی سےکیا ہے ۔کتاب کا انتساب انہی کے نام معنون کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ ان بزرگوں کے نام جن کے قدموں کے نقوش ہمارے لئے مشعل راہ ہیں جو ہمیں راہ عمل پر گامزن کرکے سربلندی اور کامیابی کی اس منزل پر پہنچا دینا چاہتے ہیں جو آج بھی اہل دنیا کیلئے باعث رشک ہے ۔‘‘ خالد کی شاعری عام شاعری نہیں اس کا اختصاص یہ ہے کہ انہو ں نے زندگی کے مختلف النوع حقائق کا بڑی گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے کسی داخلی یا خارجی دباؤ قبول نہیں کیا، بلکہ کھلے دل اور ذہنی آزادی کے ساتھ ان تمام حقائق کا سامنا کیا ہے ۔یہی سبب ہے کہ ان کے اشعارسے اگر گلہائے رنگا رنگ کی خوشبوپھوٹتی ہے تو کہیں شمشیر و سناں کی آبدار اور چمکتی ہوئی تیزی دلوں کو گھائل کرتی چلی جاتی ہے۔ وہ سرسری، ہلکی پھلکی اور تفریحی شاعری سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں وہ اسے اصلاح معاشرہ کیلئے ایک ایسا کارگر ہتھیار بنانا چاہتے ہیں جس سے ان روایات کی حوصلہ شکنی ہوسکے جو آج شاعری کے تعلق سے اپنا لی گئی ہے جس کے سبب وہ صرف اور صرف تفنن طبع اور تفریح کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے ۔وہ شاعری کو نہ تو چیستاں بناتے  ہیں نہ ہی ژولیدہ و پیچیدہ ،نہ ہی ابہام و ایہام کا سہارا لیتے ہیں بلکہ سب کچھ پوری وضاحت اور شرح صدر کے ساتھ بیان کردیتے ہیں لیکن اس التزام کے ساتھ کہ فصاحت و بلاغت قائم رہے اور کلام میں سوقیانہ روش داخل نہ  ہوسکے ۔ ایک مثال لیجئے ۔

مقتل کی سرزمین سا اخبار سرخ ہے

   گھر جل رہے ہیں خون سے تلوارسرخ ہے

جھلسارہی ہے دل کو حوادث کی تیز دھوپ

 ہے وہ تپش کہ زیست کا رخسار سرخ ہے

ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ وہ موجودہ دور کی تیزی سے بدلتی صورتحال کا مکمل ادراک رکھتے ہیں،  ان کی اسی حساسیت نے انہیں پہلو بدلنے پر اکسایا اور حیات کے رنگین زاویوں سےاغماض کرتے ہوئے پیامی شاعری کی طرف اپنی توجہ مبذول کردی اس کے لئے انہوں نے ضروری سمجھا کہ انسانی نفسیات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور پھر وہی پہلو، ان کی شاعری کا نمایاں مقصد بن گیا اوریہی  اچھی شاعری کا ماحصل بھی ہے ۔وہ حالات کی سفاکیت اوربربریت کوبطور موضوع اپنا ہدف ضرور بناتے ہیں لیکن ا س طرح کہ ان کا نشتر زخموں کے فاسد مادوں کو جسم سے الگ کردے تاکہ بقیہ حصہ سلامت و صحت مندر ہے۔

اس تعلق سے شرافت حسین کے مضمون کا یہ اقتباس بھی قابل تو جہ ہے جس میں شاعر کے افکار و خیالات کا خوبصورت محاکمہ کیا گیا ہے ۔

’’ خالد کی شعری شخصیت میں بالیدگی اور توازن ہے ، اس میں رچاؤ اور گھلاوٹ ہے ، جذبات و احساسات کی متلاطم لہروں کا رقص ہے، جس سے تجربات کی شعاعیں پھوٹتی ہیں اور ایک مخصوص ذہنی پس منظر کا تعمیری پہلو روشن ہے ۔وہ نہ صرف عام لوگوں کے قریب رہتے ہیں بلکہ ان کی  مسرتوں ، حسرتوں اور خوابوں کے شریک بھی ہیں  ان کے اشعار علامات کے تابع نہیں لیکن مقصد کی بو باس ہر جگہ موجود ہے جو انہیں عام شعرا ء سے الگ کرتی ہے ۔ ‘‘

لفظیات کی تراکیب،  زبان و بیان، اسلوب اور ترسیلی رَو میں اگرچہ ابھی اتنا استحکام نہیں آسکا ہے لیکن محنت و توجہ اس کا ضرور ازالہ کرسکتی ہے، جس کے لئے انہیں مزیدقوت و کوشش کی ضرورت ہے، بشرطیکہ انہماک قائم رہے ۔چنداشعار تمثیلا ً درج کئے جارہے ہیں ۔

جنگ و جدال شیوہ ٔ انسانیت نہیں

  پیغام امن دنیا میں لائے ہوئے ہیں ہم

سرپہ لٹکی ہوئی تلواریں ہیں

  امتحانوں کا وقت آیا ہے

ہیں سرابوں کی طرح صرف چمکتے رشتے

ہے کہیں پیار کی خوشبو نہ مہکتے رشتے

تمام شہر سلگتا الاؤ ہو جیسے

 ہر ایک شخص کے سینے میں گھاؤ ہو جیسے

پھر تری یاد نے بے چین کیا ہے دل کو

پھر مجھے یاد تری راہ گزر آئی ہے

علم ناقص ہیں ہوش والوں کے

   ان سے اچھے تو ہم دوانے ہیں

نام کتاب:  لباس فکر ( شعری مجموعہ ) شاعر :خالد اعظم , قیمت: 200/- روپئے ، صفحات  : 192,طباعت:حراآفسیٹ پریس ٹانڈہ، امبیڈکر نگر ,ملنے کے پتے : آدرش ٹریڈرس وبک ڈپو نزد برما سیل ٹانڈہ ،موبائل : 9450490675

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close