لطف کا بزمِ سخن لندن کے ہوں منت گذار

احمد علی برقیؔ اعظمی

لطف کا بزمِ سخن لندن کے ہوں منت گذار

جس نے بخشا ہے مرے عرضِ ہُنر کو اعتبار

اُن کی اس برقیؔ نوازی کے لئے ممنون ہوں

میرے رخشِ فکر کی مہمیز ہیں جو میرے یار

میرؔ کی دلی میں ہوں اک شاعرِ گوشہ نشیں

اہل لندن کی نوازش ہے یہ وجہہِ افتخار

ہے مظفرؔ کی عنایت باعثِ عز و شرف

ہیں جو لندن میں مرے برسوں سے اک نادیدہ یار

ہے یہ سوشل میڈیا میرے لئے اک فالِ نیک

چھیڑتا رہتا ہے جو ہر وقت میرے دل کے تار

دی خبر بحرین سے فیضیؔ نے اس اعزاز کی

ان پہ اور سب پر ہو نازل رحمتِ پروردگار

چودھری احسان شاہد ہوں کہ وہ ضرار ہوں

شہر لندن میں ہیں سب برقیؔ کے یارِ غمگسار



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے