مالک عرش بریں میری مدد فرمایئے!

 شفیع اللہ شفیع ؔبہرائچی

رحمۃ اللعالمین میری مدد فرمایئے

ہادیٔ دنیا و دیں میری مدد فرمایئے

پیشوائے مرسلیں میری مدد فرمایئے

یا شفیع المذنبیں میری مدد فرمایئے

تاج فرق مرسلیں میری مدد فرمایئے

دل شکستہ غمزدہ ہوں یا محمد مصطفیٰ

لیجئے میری خبر یا شافع روزِ جزا

کیجئے حل میری مشکل اے مرے مشکل کشا

دکھ کا آفت کا مصیبت کا ہوں میں مارا ہوا

ہوں بہت اندوہگیں میری مدد فرمایئے

لب پہ ہے جان حزیں میری مدد فرمایئے

میں ہوں دکھیا تم ہو داتا وقت ہے امداد کا

اب دھرم تورے ہاتھن ہے موری فریاد کا

اور ناہیں کوؤ ہے مجھ خانما ں برباد کا

توہی تارن ہار ہے موری ہر اک افتاد کا

اے شہ دین و دنیا میری مدد فرمایئے

رحمت اللعالمیں میری مدد فرمایئے

اب دیالو پر کرو صدقہ خلیل اللہ کا

اب سو بھل پیت کرو صدقہ کلیم اللہ کا

اب تنک موری سنو صدقہ ذبیح اللہ کا

اے گیاں مان لو صدقہ اسد اللہ کا

سبز گنبد کے مکیں میری مدد فرمایئے

پیارے ختم المرسلیں میری مدد فرمایئے

اے مدینہ کے کنھیا اے عرب کے دلربا

اے حبیب کبریا اے شافع روز جزا

کہدیا گزرا ہوا اپنے جو دل کا حال تھا

یہ بھی پورا کیجئیو اپنے شفیعؔ کا مدعا

جب ہو وقت واپسیں میری مدد فرمایئے

رحمۃ اللعالمیں میری مدد فرمایئے



⋆ شفیع اللہ شفیع ؔبہرائچی

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے