ادبغزل

مانا جیا کیے ہیں بڑی کمتری سے ہم

بہتر ہزار سال کی خواجہ گری سے ہم

ادریس آزاد

 مانا جیا کیے ہیں بڑی کمتری سے ہم
بہتر ہزار سال کی خواجہ گری سے ہم

جھولی میں، دل میں، گھر میں کوئی جا بچی نہیں
تنگ آگئے ہیں آپ کی دریا دلی سے ہم

مالک! ہمیں یہ جبرِ مسلسل نہیں پسند
کرتے ہیں احتجاج بڑی عاجزی سے ہم

ورنہ تجھے کبھی نہ لگاتے کسی کے ساتھ
واقف نہیں تھے دل تری دیوانگی سے ہم

آپ آئے ہائے ہائے، یہ عزت ! زہے نصیب
مر ہی نہ جائیں آج کہیں اس خوشی سے ہم

اے دل ! حریف ِ جاں! تری دعوت کی خیر ہو
اپنی شکست مان رہے ہیں ابھی سے ہم

اک دوسرے کے ساتھ میں چلنا محال ہے
کچھ ریتلے سے آپ ہیں کچھ دلدلی سے ہم

چپکے سے چاندنی میں نکلتی ہے نصف شب
دریا پہ مل کے آئے ہیں جس جل پری سے ہم

رشتہ کوئی قریب کا ممکن ہے کس طرح
جب مستقل سے آپ ہیں اور عارضی سے ہم

کرتے ہری ہری رہے اے سرزمین ِ دل
اپنے بدن کی شاخ کو تیری نمی سے ہم

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close