ادبشخصیاتنظم

متین طارق باغپتی کے فن اور شخصیت پریک روزہ نیشنل سیمینار پر منظوم تاثرات

احمد علی برقیؔ اعظمی

فکر و فن پر متین طارق کے
ایک دن کا ہے آج سیمینار

تھے وہ صالح ادب کے اک معمار
ذات تھی جن کی باغپت کاوقار

اُن کے ادبی نقوش چوالیس
اُن کے عرض ہُنر کے ہیں شہکار

تھی عزیز اُن کو فکر اسلامی
’’ شمعِ عرفاں ‘‘ میں جس کا ہے اظہار

روح پرور ہے ان کی فکر جمیل
اُن کا انسان دوستی تھا شعار

ان کے اسلوب میں ہے رعنائی
جس کا اظہار ان کے ہیں اشعار

کہیں تنبیہ ہے کہیں اصلاح
کرتے ہیں جو ضمیر کو بیدار

ان کے فرزند ہیں ذکیؔ طارق
داد و تحسین کے ہیں جو حقدار

کاش یہ کام پہلے ہوجاتا
ہیں پس از مرگ سرخرو فنکار

وہ ہیں برقیؔ کو جان و دل سے عزیز
ہیں جو شعر و ادب کے خدمتگار

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close