ادبشخصیات

مرزا اسداللہ خان غالب (قسط اول)

آصف علی

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے 
 کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

مرزا غالب اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

اردو زبان بلاشبہ جس شاعر پر فخر کر سکتی ہے اور جس کو عالمی ادب میں پیش کر سکتی ہے، وہ غالب اور صرف غالب ہے۔ ۔
غالب نے اپنی شاعری میں گہرے فلسفہ اور صوفیانہ نکات کو رومانوی پردے میں اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ دوسرا کوئی ان کی دھول کو بھی نہیں پکڑ سکا۔

اگرچہ غالب کی تمام زندگی مفلسی، تنگ دستی، آلام و مصائب میں گزری لیکن اپنے غموں سے جس طرح غالب ہنستے کھیلتے گزرے اس کی جھلک ان کی شاعری اور خطوط دونوں میں نظر آتی ہے۔ ۔۔۔ غالب کے یہاں گہرا طنز اور مزاح ملتا ہے۔

غالب کے خطوط کو جتنی شہرت حاصل ہوئی وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی ۔ ۔۔ ان کے خطوط کے دو مجموعے ان کی زندگی ہی میں شائع ہو چکے تھے ایک  ” عود ہندی ” اور دوسرا ” اردوئے  معلیٰ "۔ ۔۔۔ ان خطوط میں غالب کی ذاتی زندگی، اس زمانے کا رہن سہن کے علاوہ تاریخی واقعات بھی ملتے ہیں۔ ۔۔۔ غالب نے اپنے خطوط کو مکالمہ بنا دیا۔ شعر ہو یا نثر غالب نے ایک نئے اسلوب کو ایجاد کیا۔بقول مشتاق احمد یوسفی، غالب واحد شاعر ہے جو سمجھ نہ آئے تو دگنا مزہ دیتا ہے۔ آج دوصدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی غالب اپنے پورے قد و قامت سے کھڑے ہیں۔ ۔ اردو کے تمام ادیب و نقاد ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ شاعری سے کسی کو رغبت ہو نہ ہو، عام ان پڑھ آدمی بھی کسی شاعر کو نہ جانتا ہو لیکن غالب کو ضرور جانتا ہے۔

حیات نامہ غالب

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔آپ کاتعلق ایران کےشاہی خاندان پیش وادیوں سےتھا,جس کی بنیادکیومرث نے550قبل مسیح ڈالی تھی.اس خاندان میں بہت شان وشوکت اورجاہ وحشمت کےبادشاہ گذرےہیں سیامک, ہوشنگ,تہورس, جمشید,فریدون, تو,منوچہر,فودر, افراسیاب, اورذاتجیسےبادشاہوں نےاس خاندان کی عظمت کوبام عروج تک پہنچادیاتھاجب اس خاندان پرزوال آیاتوکیانیوں نےایران پراپنی حکومت قائم کرلی,مگرپیش وادیوں کاخاندان یکسرنیست ونابودنہیں ہوابلکہ اس خاندان کےلوگ نواح ترکستان میں آبادہوگئے.اسی قبیلہ کاایک شخص توقاق تھا,توقاق ترقی لفظ ہےجا کےمعنی کمان کےہیں ,یہ مسلمان ہوگیاتھایہ ترک لوگ جاڑوں میں بخارا میں رہتےتھےاورگرمی سمرقندمیں گذارتےتھے,توقاق کےبیٹےسلجوق نےایران میں ازسرنوحکومت قائم کی اس طرح ایران میں سلجوقیہ خاندانک ی بنیادپڑی  اس خاندان کےمشہوربادشاہ ,طغرل,الپ ارسلان,ملک شاہ وغیرہ گذرےہیں .جب سلجوقیوں پرزوال آیاتواس خاندان کےافرادمنتشرہوگئے.اس خاندان کےایک فردترسم خان نےسمرقندمیں اقامت اختیارکرلی ,اس کابیٹاتوقان خان اپنےباپ سےناراض ہوکرلاہورآگیااورنواب معین الملک کی ملازمت اختیارکرلی .ناب معین الملک کا1750میں ہوگیاتب توقان بیگ دہلی آگئےاورشاہ عالم کےدربارسےوابستہ ہوگئے.ان کوپچاس سواری منصب ملااورپھاسوکاعلاقہ بھی بخش دیاگیا.توقان بیگ کےبیٹے کانام عبداللہ بیگ تھایہی مرزاغالب کےپدربزرگوارتھے.

مرزاغالب دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں جب 5سا ل کےتھےتو یتیم ہو گئے تھےان ایک بھائی اوربہن بھی تھے..لیکن ان کابچپن عیش وعشرت میں گذرا کیوں کہ ان کےوالدرالورکےراجہ بختاورسنگھ کی حمایت میں مارےگئےتھےاس لیےریاست الور کی طرف سےغالب  کودوگاؤں مل گئےتھے.اس کےساتھ ہی ان کوروزینہ بھی ملتاتھا.والدکےانتقال  کےبعدان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔

اس میں شک نہیں کہ مرزاغالب کابچپن ننیہال میں لطف ومسرت کےساتھ گذرا,ان کےناناکےپاس کافی جائیدادیں تھیں .ان کےناناکاشمار آگرہ کے رووسامیں شمارہوتاتھا.باپ کی جائیداد,چچاکی وراثت اورناناحضورکی عطاکی ہوئی جاگیریں اس خاندان کےحصہ میں آئیں. آگرہ میں کئی بازاراوردکانیں ان کی جائیدادمیں شامل تھیں .نہایت معقول آمدنی تھی. یہی وجہ ہےکہ غالب کوآگرہ میں کافی آسائش حاصل تھی وہ اس دورمیں کافی فارغ البال اورآزادتھےنہایت شاہانہ طورکے ٹھاٹھ تھے.مرزااسداللہ خاں کوعیش وآرام اورتفریح کےسواکوئی کام ہی نہ تھااور18.7میں شعروشاعری کاآغازہوا,ابتدامیں اسدتخلص کیا.

تعلیم وتربیت اورشادی

غالب کی تعلیم آگرہ کےایک عالم فاضل بزرگ شیخ معظم کی خدمت میں بٹھادیا.مرزااسداللہ خان بڑےذہین تھے.مروجہ علوم میں کمسنی ہی میں خاصی دستگاہ حاصل کرلی,1811 میں ایک پارسی نومسلم عبدالصمدایران سےہندوستان آئےتومرزاغالب دوسال ان کی صحبت میں رہےاورفارسی زبان وادب کاعمدہ ذوق پیداکیا،چنانچہ غالب ایک فارسی خط میں تحریرفرماتےہیں کہ:

٫٫میں نےایام دبستان نشینی میں شرح ماتہ عامل تک پڑھابعداس کےلہولعب اوراس کےآگےفسق وفجور،عیش وعشرت میں منہمک ہوگیا.فارسی زبان سےلگاؤاورشعروسخن کاذوق فطری وطبعی تھا،ناگاہ ایک شخص ساسان پنجم کی نسل میں مع ہذامنطق وفلسفہ میں مولوی فضل حق مرحوم کانظیراورمومن وموحدوصوفیِ صافی تھا،میرےشہرمیں واردہوااورلطائف فارسی بحت اورغوامض فارسی آمیختہ بہ عربی اس سےمیرےحالی ہوئے،،

غالب سن شعورکوپہنچنےسےپہلےہی اردو زبان میں شعرگوئی کی طرف کرنےلگےاورفارسی زبان میں نثرنگاری کی طرف مائل ہوئے,اس عہدمیں مرزااسدتخلص کرتےتھے.18.9میں ادبی محفلوں میں جاناشروع کیا,مشاعروں میں شرکت کاذوق بڑھا,غزلیں کہتےاورمشاعروں میں سناتےہم عمردوست خوب داددیتے,اورجھوم جھوم کران کےشعرپڑھتے.مرزااسدلڑکپن میں مردانہ حسن وجمال کااعلی نمونہ تھے,متناسب الاعضا,کشادہ پیشانی,بھربھرےرخسار,کھلتاہوارنگ,بڑی بڑی بادام جیسی آنکھیں ,لانبی پلکیں ,چوڑا چکلاسینہ, بھربھرابدن,مسی مالیدہ دانت,اس پرخوش پوشاک غرض ایسےجوان رعناتھےکہ جس طرف سےنکل جاتےکہ لوگوں کےپہلوسےدل نکل جاتےاورجس محفل میں شرکت کرتےہیں ایک منفردحیثیت نظرآتی تھی,شہرمیں انکے حسن وجمال کاچرچاہوتاتھا.
مگرجب1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو ئی،غالب کواپنی بیگم سےبڑی محبت تھی،بیگم صاحبہ بھی اپنےشوہرکی راحت وآسائش پراپنی جان قربان کرتی تھیں .اگرچہ اعمال کےلحاظ سےزوجین میں نمایاں فرق تھا،غالب فطرتاًرندتھےان کی بیگم صاحبہ بےحدپرہیزگاراورعبادت گذارخاتون تھیں .حالی نےلکھاہےکہ:

بیگم نےازراہ کمال اتقاءاپنےکھانےپینےکےبرتن الگ کرلیےتھےاس لیےکہ غالب کم ازکم شرب ونوش کےباب میں متقی نہ تھےلیکن اس کےباوجودطرفین میں گہری محبت والفت آخری دم تک قائم رہی.

مرزاکےکل سات اولادیں ہوئیں لیکن کوئی بھی پندرہ ماہ سےزیادہ زندہ نہ رہا.   شادی کے بعدغالب نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی توان کی زندگی سےخوش حالی وفارغ البالی رخصت ہوگئی.

غالب اورزندگی کی تلخیاں

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

مرزاغالب نے1828میں جب کلکتہ کاسفرکیا،اس وقت ان کی انااورخودداری کوبہت ٹھیس لگی،وہ کلکتہ اپنی پنشن کےتصفیہ کے سلسلے میں گئےتھےجس میں ان کوناکامی ہوئی،یہی نہیں بلکہ کلکتہ میں ان کےکلام پراعتراضات کیےگئےاورثبوت وسندمیں قتیل کے اشعارپیش کیے گیے. مرزاغالب قتیل کوکوئی مستندشاعرنہیں سمجھتےتھےاس لیےانہوں نےاہل کلکتہ کےاعتراضات کوٹھکرادیااورایک مثنوی”بادمخالف”کےنامسےشائع کی جس میں اپنی غریب الوطنی اوراہل کلکتہ کی بےمروتی کی شکایت کی.اس واقعہ نے مرزاغالب کوبہت بد دل اورمایوس کردیا.

مرزاغالب جب کلکتہ سےناکام واپس آئےتوکچھ قرض خواہوں نےان پردیوانی عدالت میں دعوی’دائرکردیااورڈگری حاصل کرلی. مرزاغالب کےلیےڈگری کی رقم اداکرنادشوارتھااس لیےجیل جانےکےعلاوہ کوئی چارہ نہ تھامگرچونکہ غالب صاحب شہرکے ممتازلوگوں میں شمارکیےجاتےتھےاس لیےان کےساتھ یہ رعایت کی گئی کہ عدالت کاچپراسی ان کےگھربیٹھارہتاتھایہ ایک قسم کی قیدخانہ نشینی ہوگئی،مرزاغالب پریہ واقعہ بہت شاق گذرا.

1835میں غالب کوایک اورمصیبت کاسامناکرناپڑا,1832میں نواب احمدبخش نےاپنی جائیدادکابٹوارہ کیااورفیروزپورجھرکہ کی ریاست اپنےبیٹےنواب شمس الدین کےنام لکھ دی،جومیواتی بیوی بہوخانم کےبطن سےپیداہوئےتھےاورلوہاروکی جاگیراپنی دوسری بیوی بیگم جان کےبیٹوں امین احمدخان اورضیاءالدین احمد خان کےنام منتقل کردی،نواب احمدبخش کی وفات کےبعدنواب شمس الدین خان نےکوشش کی کہ لوہاروکاعلاقہ بھی ان کومل جائےاوران کےدوچھوٹےبھائیوں کےلیےجونابالغ تھےپنشن مقررکردی جائے،حکومت ہند نےان کی یہ تجویزمنظورکرلی،مگرولیم فرنیرونےجواس وقت دلی کاریزیڈنٹ تھاگورنرجنرل کےیہاں سےفیصلہ کرادیاکہ لوہاروامین احمدخان اورضیاءالدین احمدخان کوہی ملے.نواب شمس الدین اس فیصلہ سےسخت برہم ہوئےکوشش کرکےریزیڈنٹ کوقتل کرادیا،
اس جرم کےسلسلہ میں انگریزی سرکارنےتفتیش کی اورغالب سےبھی بازپرس کی گئی اگرچہ غالب کاہاتھ قتل میں نہ تھاتاہم اس تفتیش سےصدمہ پہنچااوران کی شان خود داری کوبہت ٹھیس لگی،آخرمیں یہ پتہ چل ہی گیاکہ نواب شمس الدین نےریزیڈنٹ کوقتل کرایااس لیےان کواکتوبر1835میں کشمیری دروازےکےباہرپھانسی دےدی گئی.اس سےزبردست ایک اورواقعہ غالب کی زندگی میں رونماہوایہ واقعہ1847کاہے،

ایک روزمرزاغالب چوسرکھیل رہےتھے،فیض الحسن شہرکےکوتوال کوکچھ دشمنوں نےخبرکردی،مجسٹریٹ نےکوتوال شہرکی رپورٹ پرغالب صاحب کو  6 ماہ قیدبامشقت اور 2 سوروپیہ جرمانہکی سزاکاحکم دیا.مرزاکواگرچہ قیدخانےمیں کوئی تکلیف نہ تھی مگروہ اس ذلت کوبرداشت نہ کرسکے.کچھ حاکموں کی سفارش سےمجسٹریٹ نےتین ماہ کےبعدان کی رہائی کاحکم صادرکردیا .مرزاغالب نےرہائی کےبعداس واقعہ کاذکرایک فارسی خط میں کیاجس کاترجمہ حالی نےیادگارغالب میں کیاہے،مرزاغالب تحریرفرماتےہیں کہ:

میری آرزوہےکہ اب دنیامیں نہ رہوں، اوراگررہوں توہندوستان میں نہ رہوں .روم ہے،مصرہے،ایران ہے،بغدادہے.یہ بھی جا نےدوخودکعبہ آزادوں کی جائےپناہ اورآستانہ رحمتہ للعالمین دلدادوں کی  تکیہ گاہ ہے.دیکھیےوہ وقت کب آئےگاکہ درماندگی کی قیدسےجواس گذری ہوئی قیدسےزیادہ جان فرساہے،نجات پاؤں اوربغیراس کےکہ کوئی منزل مقصودقراردوں سربہ صحرانکل جاؤں .

اس عبارت سےیہ صاف ظاہرہےکہ غالب کس قدربد دل اورمایوس ہوگئےتھے. مرزاغالب کوغدرکےزمانےمیں بھی بہت سےمصائب کاسامناکرناپڑاجب دلی پرانگریزوں کاقبضہ ہوگیاتوشہریوں کاقتل عام  شروع ہوگیا.اس کےعلاوہ گھروں کےاندرگھس گھس کرانگریزوں نےلوٹ مارشروع کی اوربہت سےشہریوں کوقیدکرلیا.اسی زمانہ میں کچھ گورےغالب صاحب کےگھرمیں بھی داخل ہوگئےتھےانہوں نےغالب صاحب کواورمرزاعارف کےدوبچوں کواوران کےنوکروں کوگرفتارکرکےکرنل براؤن کےسامنےبحیثیت ایک قیدی حاضرہوناپڑااس واقعہ سےمرزاغالب کی خود د اری  مجروح ہوگئی.

غدرکےزمانہ میں ایک اورزبردست سانحہ درپیش ہوا،ان کےچھوٹےبھائی مرزایوسف پانچ دن کی شدیدعلالت کےبعدانتقال کرگئے.ان کوبڑی مشکل سےپٹیالہ کےسپاہیوں کی نگرانی میں ایک مسجدمیں دفن کیاگیا.مرزایوسف کی موت نےمرزاغالب کی کمرتوڑ دی.
غدرکےبعدمرزاصاحب کی مالی حالت بالکل پست  ہوگئی تھی،برٹش گورنمنٹ نےان کی پنشن بندکردی تھی،کیوں کہ ان پرالزام تھاکہ وہ بہادرشاہ ظفرکےدربارسےوابستہ تھےان کی پنشن تین سال تک بندرہی،اس دوران میں انہوں نےزیوراورکپڑےبیچ کراپنی زندگی گذاری.بالآخرسرسیداحمدخان کی سفارش سے1860 میں مرزاکی پنشن دوبارہ جاری ہوگئی اوران کوتین سال کابقایابھی مل گیا،کچھ عرصہ بعدان کودرباریاعز ازاورخلعت سےبھی سرفرازکیاگیا..

جب ہم غالب کےحالات زندگی پرنظرڈالتےہیں توہم کومحسوس ہوتاہےکہ ان کو زندگی میں کچھ ناکامیوں کاسامناکرناپڑااس میں شک نہیں کہ غالب صاحب کی قدر دانی بھی ہوئی،مولوی فضل حق،نواب امین الدولہ،نواب حسام الدین اورنواب مصطفی خان وغیرہ ان کےقدردان تھےان کودلی کالج کی پروفیسری کےلیےبھی مدعوکیاگیامگرانہوں نےانکارکردیا.مرزاصاحب کی  رسائی بہادرشاہ ظفرکےدبارتک بھی ہوگئی تھی وہ ولی عہدسلطنت شہزادہ فتح الملک کےاستادبھی رہےان کی وفات کےبعدوہ مرزافخروکے استادہوئے. 1854 میں جب ذوق کاانتقال ہوگیاتوتومرزاغالب بہادرشاہ ظفرکےکلام پراصلاح دینےلگے.اس طرح ان کوہمیشہ مغل دربارسےکسی نہ کسی صورت مشاہرہ ملتارہا.

اس کےعلاوہ نواب یوسف علی خان والی رام پورنےبھی غالب کی شاگردی اختیارکی،اس زمانہ میں غالب صاحب کی پنشن بندتھی،مگرنواب یوسف علی خان نےان کوایک معقول مشاہرہ دیناشروع کردیا تھانواب یوسف علی خان کی وفات کےبعدنواب کلب علی خان نےبھی اس مشاہرےکوباقی رکھا.

بہرحال غالب کی ان کےدورمیں کچھ نہ کچھ قدردانی ضرورہوئی مگروہ اس قدردانی  سےمطمئن نہیں تھےان کی رگوں  میں پیش وادیوں اورسلجوقیوں کاخون دوڑرہاتھا،اس لیےوہ شاہانہ زندگی بسرکرناچاہتےتھےمگرچونکہ مغل حکومت کاشیرازہ بکھررہاتھااس لیےمرزاغالب کی ان کےحوصلہ کےمطابق عزت افزائی نہ ہوسکی.غالب کامندرجہ ذیل شعران کی ساری زندگی کانچوڑ ہے.

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرےارمان، لیکن پھربھی کم نکلے

غالب پرناکامی حیات کی وجہ سےمحرومیت اوریاسیت چھائی ہوئی تھی،بعض اوقات ایسامحسوس ہوتاہےکہ غالب دنیاسےبےزار تھے اسی بناپروہ دنیاسےکنارہ کشی اختیارکرناچاہتےتھےان کےمندرجہ ذیل اشعاردنیاسےان کی کنارہ کشی کی غمازی کرتےہیں.

رہیےاب ایسی جگہ چل کرجہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہواورہم زباں کوئی نہ ہو
بےدرودیوارسااک گھربناناچاہیے
کوئی ہم سایہ نہ ہواورپاسبان کوئی نہ ہو
پڑیےگربیمارتوکوئی نہ ہوتیماردار
اوراگرمرجائیےتونوحہ خواں کوئی نہ ہو

ان اشعارکےعلاوہ ان کےبہت سےایسےاشعارہیں جوان کےاس رجحان کوواضح کرتےہیں مثلاً جہاں کہیں غالب نےدشت وصحرا کاذکرکیاہےان سےان کی کنارہ کشی کےرجحان پرروشنی پڑتی ہے.

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کودیکھ کےگھریادآیا

شوق اسےدشت میں دوڑائےہےمجھ کوکہ جہا ں  
جادہ غیر ازنگہ دیدہ تصویر نہیں

اللہ رےذوق دشت نوردی کہ بعدمرگ
ہلتےہیں خودکو مرےاندر کفن کےپاؤں

اگ رہاہےدرودیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اورگھرمیں بہارآئی ہے

غالب اورسرسید

1855 میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح کر کے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھا۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔

غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا، مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کردیا۔

دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثارالصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے وہ کلیاتِ غالب میں موجود ہے مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصدا ً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ابوالفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔

سر سید کہتے تھے کہ:

” جب میں مرادآباد میں تھا، اس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے، میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں۔ میں فورا سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔”

ظاہرا جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا وہ مرزا سے اور مرزا ان سے نہیں ملے تھے اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا اور اسی لئے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی ان کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے اور پالکی سے اُترے تو ایک بوتل ان کے ہاتھ میں تھی انہوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی۔ سر سید نے کسی وقت اس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا توبہت گھبرائے، سرسید نے کہا:

” آپ خاطر جمع رکھئے، میں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے۔”

مرزا صاحب نے کہا، ” بھئی مجھے دکھا دو، تم نے کہاں رکھی ہے؟

” انہوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دکھا دی۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے کہ،
” بھئی ! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے، شاید اسی لئے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی، حافظ نے سچ کہا ہے:

واعظاں کایں جلوہ در محراب و منبر می کنند 
چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر می کنند

سرسید ہنس کے چُپ ہو رہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی، رفع ہو گئی، میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے۔
سرسید کے ذہن میں یہ نکتہ بیٹھ گیا اور اس کی باقی ماندہ زندگی ,مردہ پروردن, کے کار نامہ مبارک سے بلند ہوکر مردہ قوم میں زندگی کا تازہ خون دوڑانے کی مبارک و مسعود کو ششوں میں بسر ہوئی.

غالب کی شاعری

غالب کی شاعری کی مشکل پسندی کی عام طو رپرشکایت تھی،بڑےبڑےسخن فہم اصحاب سن سن کرحیران رہ جاتےتھےاوراکثراحباب آسان کہنےکی فرمائش کرتےتھے,چنانچہ ایک مشاعرہ میں غالب شریک ہوئےتوایک نوجوان خوش مزاج نےطرحی غزل کےسلسلہ میں قطعہ پڑھاجس میں مرزاصاحب سےخطاب کیاگیاتھا.

اگراپناکہاتم آپ ہی سمجھےتوکیاسمجھے
مزہ کہنےکاجب ہےاک کہےاوردوسراسمجھے
کلام میرسمجھےاورزبان میرزاسمجھے
مگران کاکہایہ آپ سمجھیں یاخداسمجھے

چوں کہ غالب کی طبیعت انتہائی بےنیازواقع ہوئی تھی اس لیےآپ نےفوراًاس کےجواب میں فرمایا:

نہ ستائش کی تمنانہ صلہ کی پروا
نہ سہی گرمرےاشعارمیں معنی نہ سہی

نظم کابدیہی اورواقعات پرمبنی لکھناجس قدرمشکل ہےاس کااندازہ سخن فہم اصحاب بخوبی لگاسکتےہیں، غالب کوچندتقریبوں پربدیہی کلام کہنےکاموقع ملا,جب غالب صاحب کلکتہ تشریف لےگئےتومولوی اکرم حسین نےایک چکنی ڈلی(چھالیہ)پیش کرکےکہاکہ اس پرکچھ طبع آزمائی فرمائیں توآپ نےبرجستہ قطعہ موزوں کیا:

ہےجوصاحب کف دست پہ چکنی ڈلی
زیب دیتاہے،اسےجس قدراچھا کہیے
خامہ انگشت بدنداں کہ اسےکیالکھیے
ناطقہ سربگریباں کہ اسے کیاکہیے
اخترسوختہ قیس سےنسبت دیجیے
خال مشکیں رخ دل کش لیلی کہیے
حجرالاسودو دیوارحرم کیجےفرض
نافہ آہو سے بیابان ختن کاکہیے
صومعہ میں اسےٹھہرائےگرمہرنماز
مےکدہ میں اسےخشت خم صہباکہیے
مسی آلودہ سرانگشت حسیناں لکھیے
سرپستان پر نیراد سے ماتاکہیے
اپنےحضرت کے کف دست کودل کیجےفرض
اور اس چکنی سپاری کو سویداکیجے

اسی طرح ایک روزجب کہ مرزاغالب روپیوں، پیسوں سےبالکل خالی بیٹھےتھےآپ کاصاحب زادہ آیااورکہاکہ اباجان ہمیں مٹھائی منگوادو.جواب ملاکہ پیسےنہیں .وہ بےچارہ سادہ دل لڑکابکس کھول کراس کی تلاشی لینےلگا,مرزاصاحب نےفوراًفرمایا:

درم ودوام اپنےپاس کہاں
چیل کےگھونسلےمیں ماس کہاں

شمس العلمامولوی حسین آزادصاحب اپنے٫٫تذکرہ،،میں تحریرکرتےہیں کہ:

ایک روزاستادمرحوم(حضرت ذوق)سےمرزاغالب کےاندازنازک خیالی اورفارسی تراکیب کااورلوگوں کی مختلف طبیعتوں کاذکرتھا,میں نےکہاکہ ٫٫بعض شعرصاف بھی نکل جاتاہےتوقیامت ہی کرجاتاہے،،فرمایا:خوب, پھرکہاکہ: جومرزاکاشعرہوتاہےاس کی لوگوں کوخبربھی نہیں ہوتی،شعران کےمیں تمہیں سناتاہوں، کئی متفرق شعرپڑھےتھے.ایک اب تک خیال میں ہے.

دریاسےمعاصی تنک آبی سےہواخشک
میرا سر دامن  بھی ترنہ ہوا تھا

اس میں کلام نہیں کہ وہ اپنےنام کی تاثیرسےمعانی ومضامین کےشیرتھے,دوباتیں ان کےاندازکےساتھ خصوصیت رکھتی ہیں اول یہ کہ:
معنی آفرینی اورنازک خیالی ان کاشیوہ خاص تھا۔ دوسرےچونکہ فارسی ک مشق زیادہ تھیاوراس سےانہیں طبعی تعلق تھااس لیےاکثرالفاظ اس طرح ترکیب دیےجاتےتھےکہ بول چال میں اس طرح مستعمل نہیں، لیکن جوشعرصاف نکل گئےہیں وہ ایسےہیں کہ جواب نہیں رکھتے.

اخیرزمانہ میں مرزاغالب اپنےبعض احباب کی فرمائش سےآسان کہناشروع کیاچنانچہ دیوان کاآخری حصہ بسہولت سمجھ میں آتاہے.اس میں شک نہیں کہ ہرشاعرکارنگ جداگانہ ہوتاہےاوراس کواپنی روش خاص کافخرہوتوبیجانہیں .

ذوق اورغالب کےکلام دیکھنےسےواضح فرق نظرآتاہےاوربادی النظرمیں کہاجاتاہےکہ اپنی اپنی جگہ دونوں ہی استادہیں لیکن سخن فہم اصحاب کہتےہیں کہ ملک الشعراکاخطاب اوربادشاہ کی استادی کےلیےزیادہ موزوں مرزاغالب ہی تھےمگربقول شخصے:

ایں سعادت بہ زوربازونیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

بہادرشاہ ظفرکےعزیزبیٹےمرزاجواں بخت ولی عہدسلطنت کی شادی کی تقریب پرایشیاکی شان وشوکت اورشاہی تزک واحتشام دکھانےمیں لاکھوں روپئےصرف ہوئےتھے.مرزاغالب نےایک نہایت نفیس سہرالکھ کربادشاہ کی خدمت میں پیش کیاامیدتھی کہ شاہ سےبیش بہاانعام ملےگامگروہاں غالب کی تدبیرالٹی پڑگئی کیوں کہ غالب نےمقطع میں لکھاتھاکہ:

ہم سخن فہم ہیں غالب کےطرفدارنہیں
دیکھیں اس سہرےسےکہہ دےکوئی بہترسہرا

بادشاہ نےخیال کیاکہ یہ ہمارےاستادذوق اورخودہم سےچھیڑہےکہ اس سےبہترکوئی سہرانہیں لکھ سکتا،حضوربادشاہ ابھی اسی فکرمیں بیٹھےتھےکہ استادقلعہ میں تشریف لائے،ان کومرزاکاسہرادکھلایااستادشاہ نےمعمولی الفاظ میں توصیف کی.بادشاہ نےفرمایامیں نےاس لیےآپ کویہ سہرانہیں دکھایابلکہ اس سےغرض ہےکہ آپ بھی اسی زمین میں سہرالکھیں گےمگرذرامقطع پرنظررہے،
حضرت ذوق وہیں دوات وقلم لےکربیٹھ گئےاورچندگھنٹوں میں سہرالکھ کرحضورمیں پیش کردیااب بادشاہ نےدونوں سہروں کومشتہرکرادیابلکہ اکثرطوائفوں کوازبرکراکےمحفل رقص منعقدکرائیں، دوسرےروزدونوں سہرےاخبارات میں مشتہرہوگئے.اس میں شک نہیں کہ استادذوق کاسہراغالب کےسہراسےبہت بڑھ گیاتھاجب اس واقعہ کی اطلاع غالب کوہوئی تووہ سٹپٹاگئےاورجھٹ قطعہ معذرت لکھ کربادشاہ کےحضورپیش کیا.

مرزاکاقطعہ معذرت

منظورہےگذارش احوال واقعی
اپنابیان حسن طبیعت نہیں مجھے
سوپشت سےپیشہ آباسپہ گری
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے
آزادہ روہوں اورمرامسلک ہےصلح کل
ہرگزکبھی کسی سےعداوت نہیں مجھے
کیاکم ہےیہ شرف کہ ظفرکاغلام ہوں
ماناکہ جاہ ومنصب وثروت نہیں مجھے
استادشہ سےمجھےپرخاش کاخیال
یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
جام جہاں نماہےشہنشاہ کاضمیر
سوگنداورگواہ کی حاجت نہیں مجھے

اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیل کی بلندی اور شوخی فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشدت سے محسوس کرتے ہیں۔

غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انہیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔

غالب کی شاعری کا اثرحواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پرایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسی ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں۔ ان کے موضوع میں جووسعتیں اور گہرائیاں ہیں اس کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظرآتا ہے۔ ان گنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔
حسن کے بارے میں غالب کے تصورات کا سراغ لگانے کے لئے اُن کے محبوب کی تصویر دیکھنا ہوگی اس لئے کہ ان کے محبوب کی ذات میں وہ تمام خصوصیات جمع ہوگئیں ہیں _ایک طرف تو غالب نے روایتی تصورات سے استفادہ کیا ہے,اور دوسری جانب بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو قدیم تصورات سے مختلف ہیں۔

ان کے خیال میں , حسن میں سادگی و پرکاری دونوں ہونے چاہئیں۔ غالب کو دراز قد، دراز زلف، شوخ و شنگ، سادہ و پرکار، شان محبوبی کا مالک، لمبی لمبی پلکوں والا,چاند چہرے کا مالک، ستارہ آنکھوں والا محبوب پسند ہے اور وہ اسی کے حسن کے قصیدے گاتے ہیں۔

سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کوتغافل میں جرا ت آزما پایا

اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
ہاتھ آئیں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

جال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جاکرے کوئی

ڈاکٹر فرمان فتح پور ی لکھتے ہیں:

"غالب کے اقوال و بیانات کے سلسلے میں خصوصاً محتاط رہنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہ بنوٹ باز شاعر ہیں قدم قدم پر پینتر ے بدلتے ہیں اور اپنی خود داری اور انانیت کے باوصف مصلحت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ”

عبادت بریلوی لکھتے ہیں:

” غالب ایک بڑی رنگین ایک بڑی ہی پر کار اور پہلو دار شخصیت رکھتے تھے اور اس رنگینی، پر کاری اور پہلو داری کی جھلک ان کی ایک ایک بات میں نظرآتی ہے۔“

بقول رشید احمد صدیقی،

”مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا۔ تو میں بے تکلف یہ تین نا م لوں گا غالب، اردو اور تاج محل۔“

بقول ڈاکٹر محمد حسن۔۔

”دیوان ِ غالب کو ہم نئی نسل کی انجیل قرار دے سکتے ہیں۔ “

بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی:

”اردو میں پہلی بھرپور اور رنگارنگ شخصیت غالب کی ہے۔“ ایک اور جگہ لکھتے ہیں، ”غالب کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے متنوع موضوعات کو غزل کے سانچے میں ڈھالاہے۔“

وفات

غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا_

نمونہ شاعری

فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شورِ سودائے خطّ و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصّور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں ‌طاقت، جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا "قمار خانۂ عشق”
واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور 
کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات 
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ابرو سے ہے کیا اس نگۂ ناز کو پیوند 
ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے 
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور

ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا 
ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور

مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جاے 
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور

لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا 
ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور

لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین 
کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے 
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے 
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close