ادبغزل

مری حقیقت مری کہانی سے مختلف ہے

احمد کمال حشمی

یہ خامشی ہے، یہ بے زبانی سے مختلف ہے
یہ لفظ اپنے سبھی معانی سے مختلف ہے

جو نقش اول ہے نقش ثانی سے مختلف ہے
مری حقیقت مری کہانی سے مختلف ہے

نہ بام اپنا، نہ در ہے اپنا، نہ گھر ہے اپنا
یہ لامکانی ہے، بےمکانی سے مختلف ہے

مرے لبوں پر جو مسکراہٹ تھی، وہ نہیں اب
نئی جو تصویر ہے، پرانی سے مختلف ہے

ہے اہلِ دیروحرم نے دیروحرم میں لکھا
ندی کا پانی ندی کے پانی سے مختلف ہے

غریب کے دل میں بھی تمنا جواں ہے، لیکن
کنیز ہے وہ، محل کی رانی سے مختلف ہے

حسیں بہت ہیں مگر وہ سب سے الگ حسیں ہے
سمجھ لو جیسے شراب پانی سے مختلف ہے

بغیر سینچے غموں کی فصلیں نمو ہیں پاتی
یہ دل کی کھیتی تو باغبانی سے مختلف ہے

کماؔل اِس میں خسارہ ہے، فائدہ ہے اُس میں
غزل کا لہجہ قصیدہ خوانی سے مختلف ہے

مزید دکھائیں

احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی مغربی بنگال کے مستند و معتبر شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اربابِ نظر سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ’سفر مقدر ہے‘، ’ردعمل‘، ’آدھی غزلیں‘، ’چاند ستارے جگنو پھول‘ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال اور بہار اردو اکادمیوں سمیت مختلف ادبی اداروں سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ احمد کمال حشمی ادب کی بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں، مختلف ادبی اداروں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اس کے علاوہ نئے ادیبوں اور شاعروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کروانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف حکومت مغربی بنگال کے محکمہ اراضی میں افسر ہیں اور ان دنوں کولکاتا میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close