ادبغزل

مرے پہلو میں وہ بیٹھا ہوا تھا

کسی کی یاد میں کھویا ہوا تھا

مقصود عالم رفعت

مرے پہلو میں وہ بیٹھا ہوا تھا

کسی کی یاد میں کھویا ہوا تھا

یوں چہرہ چاند کا نکھرا ہوا تھا

اجالا دور تک پھیلا ہوا تھا

اچانک   پاس  دولت آ گئی تھی

سو اس کا لہجہ ہی بدلا ہوا تھا

مکیں اس میں کوئی رہتا بھی کیسے

مکان  دل ہی جب ٹوٹا ہوا تھا

میں عادی تھا سدا حق بولنے کا

سر محفل جو میں رسوا ہوا تھا

نہیں  تھا بے وفا محبوب میرا

یقینا عشق کا سودا ہوا تھا

منانے وہ مجھے آئیں گے رفعت

میں بس یہ سوچ کر روٹھا ہوا تھا

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

Close