ادبغزل

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے

احمد علی برقی اعظمی

بزم عرفاں میں کوئی محرمِ اسرار بھی ہے

’’ مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے ‘‘

خود شناسی کے لئے کیا کوئی تیار بھی ہے

خوابِ غفلت سے کہیں پر کوئی بیدار بھی

رہنما قوم کا سب خود کو سمجھتے ہیں مگر

عہدِ حاضر میں کوئی قافلہ سالار بھی ہے

کیا نہ ہوگا کوئی سرسید و اقبال کبھی

آج کیا ہم میں کوئی صاحبِ کردار بھی ہے

جس کو دیکھو ہے اسے درہم و دینار عزیز

ملک و ملت کا کوئی اپنے طرفدار بھی ہے

طور و موسیٰ کی کہانی تو پڑھی ہے سب نے

اُس تجلی کا کوئی طالبِ دیدار بھی ہے

ہے کوئی دے دے جو برقی کے سوالوں کا جواب

عالمی سطح  کا اپنا کوئی اخبار بھی ہے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close