ادبغزل

میں مر مٹا ہوں آہ ترے سرخ ہونٹ پر

افتخار راغبؔ

میں مر مٹا ہوں آہ ترے سرخ ہونٹ پر

اک بوسہٴ نگاہ ترے سرخ ہونٹ پر

آیاتِ حسن حرفِ مقدّس کی ہے چمک

اے دشمنِ گناہ ترے سرخ ہونٹ پر

تیری نصیحتوں پہ ہوا دل فریفتہ

کیسی ہے درس گاہ ترے سرخ ہونٹ پر

چہرے پہ لگ رہا ہے کہ دو آفتاب ہیں

ٹکتی نہیں نگاہ ترے سرخ ہونٹ پر

کس کی محبتوں سے منوّر ہے تیرا دل

جھلمل ہے کس کی چاہ ترے سرخ ہونٹ پر

کس کس کا تیری سرخیِ لب نے کیا ہے خون

ہے عکسِ قتل گاہ ترے سرخ ہونٹ پر

ایسا لگا کہ میں تو دل و جان سے گیا

آیا دلِ تباہ ترے سرخ ہونٹ پر

ایسا نہ ہو کہ تیرے تغافل سے آکے تنگ

لکھ دوں میں لب سے آہ ترے سرخ ہونٹ پر

ہو جائے معتبر ترے راغبؔ  کی اِک غزل

آجائے واہ واہ ترے سرخ ہونٹ پر

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close