ادبغزل

میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

احمد علی برقی اعظمی

جینے کا ابھی حوصلہ ہارا تو نہیں ہوں

میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

قدرت نے عطا کی ہے مجھے چشم بصیرت

میں تیری طرح عقل کا اندھا تو نہیں ہوں

کرسکتا ہوں میں تجزیہ گردش حالات

از فضل خدا گونگا و بہرہ تو نہیں ہوں

حالات کے مارے ہیں مری طرح کئی اور

اس بحر حوادث میں میں تنہا تو نہیں ہوں

میں خوب سمجھتا ہوں کنکھیوں کے اشارے

بالغ ہوں جہاں دیدہ ہوں بچہ تو نہیں ہوں

آنکھوں میں میں رہ رہ کے کھٹکتا ہوں تری کیوں

گل ہوں اسی گلشن کا میں کانٹا تو نہیں ہوں

اظہار ندامت ہے مجھے اپنی خطا پر

انسان ہوں میں کوئی فرشتہ تو نہیں ہوں

جی چاہے گا جو میرا کروں گا وہی برقی

اک تیرے میں شطرنج کا مہرا تو نہیں ہوں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close