ادبدیگر نثری اصناف

نسیم حجازی کی ناول نگاری (قسط 3)

نسیم حجازی بیک وقت ایک انتہائی کامیاب صحافی بھی رہے اور ایک مقبول ادیب بھی۔

آصف علی

نسیم حجازی نے میرے سامنے ملت اسلامیہ کے ان سرفروشوں کی داستانیں پیش کیں کہ جنہوں نے اپنے آہنی عزم و استقلال اور جذب و جدان سے عظمتوں کے لالہ زار اور جرآتوں کے شاہ کار ترتیب دیے. نسیم حجازی ملت اسلامیہ کا وہ سرمایہ ہیں جن کے بغیر نئی نسل یہ کبھی جان ہی نہ پاتی کہ وہ درویش صفت اور خوابیدہ طبع انسان کون تھے جنہوں نے عالم عشق و مستی میں آواز کے سفر کی طرح وقت کے منجدھار اور جرآتوں کی رصد گاہ میں کھڑے ہو کر تاریخ کی لکیروں پر اپنی ملت کی تقدیر اور توقیر کے الفاظ جلی حروف میں تحریر کیے. نسیم حجازی کے پیغام کا خلاصہ یہی تھا کہ آج بھی اگر نوجوان مسلم اپنے دلوں میں ولولہ لیے اٹھیں تو جس طرح ہمارے آباء نے سنسناتے تیروں اور کوندتی شمشیروں سے ستاروں کے ترانے اور بہاروں کے افسانے کھڑے کیے، کچھ عجب نہیں کہ وہ تاریخ خود کو ایک بار پھر دوہرانے پر بے تاب ہو جائے. اقبال نے کیا خوب منظر کشی کی ہے:

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے؟
وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا؟
تجھےاس قوم نے پالا ہے أغوش محبتِ میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاوُں میں تاج وسردارا

قارئین جب کسی  کی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان کے دل میں شخصیت کے بارے میں جاننے کا بھی اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ہم  بھی نسیم حجازی کی زندگی کا  ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں۔

نسیم حجازی کانام محمدشریف تھا۔ ان کی پیدائش 19/مئی 1914/کوسوجان پور ،دھاریوال، ضلع گورداس پورپنجاب میں ہوئی اور  انتقال شدید بیماری اور مسلسل نقاہت کے بعد  82 سال کی عمر میں بروز پیر یکم مارچ 1996 کو ہوا ۔ آپ کےوالدکانام چودھری محمدابراہیم اوروالدہ کا نام عمربی بی تھا۔ نسیم حجازی ذات کےآرائیں تھے۔  ان کےوالدنےملازمت کوترجیح دی اورمحکمہ انہارمیں ملازمت کی۔

نسیم حجازی انتہائی سادہ زندگی گذارتےتھے۔عام طورپرسفید شلوارقمیص استعمال کرتےتھے, لیکن تقریبات میں گہرے رنگ کےسوٹ پہن لیا کرتے تھے۔ کھانےمیں مچھلی مرغوب تھی۔ دہی توہمہ وقت استعمال کرتےتھے۔

چھ بھائی بہنوں  میں نسیم حجازی سب سےبڑےتھے۔ ان کے بعد محمد یعقوب، عبدالحکیم، فاطمہ، محمدی بی بی اور لطیفہ بی بی تھے۔ والدہ کے انتقال کے وقت نسیم حجازی  کی عمرچودہ سال تھی۔چوں کہ بھائی بہن چھوٹےتھے اوران کی دیکھ بھال کےلیےگھرمیں  ایک خاتون کی ضرورت تھی، اس لیے  ان کےوالدنےدوسری شادی کرلی۔اس شادی کےنتیجےمیں ایک لڑکی پیداہوئی۔ سوتیلی ماں سے ان کے تعلقات خوش گوارنہ  رہ سکے جس کااظہارباوجوداصرارکےوہ کبھی واضح طور پرنہیں کرتے تھے بلکہ اس سوال کوٹال دیاکرتےتھے۔صرف اتنابتایاکہ:

"میں چودہ پندرہ برس کی عمرمیں ماں کی شفقت سےمحروم ہوگیا۔ اس کےبعدسوتیلی ماں کےساتھ رہااورخوب خوب مشاہدہ کیاکہ سوتیلی ماں اورسوتیلی اولاد کاتعلق کیاہوتاہے۔اس موقع پراپنےاعتمادکےسہارےآگےبڑھتارہااورچوں کہ ادیب ذکی الحس اورانتہائی حساس ہوتاہےاس لیےان واقعات کوزیادہ محسوس کرتاہے۔ وہ ایک خراش کوبھی ایک گہرےزخم کی مانندسمجھتاہے۔ دوسری ماں سےایک بہن بھی تھی جس کےساتھ ہمارارویہ بہت اچھاتھا۔ہم تینوں بھائیوں نےمل کراس کی شادی کےتمام اخراجات برداشت کیے۔”

نسیم حجازی کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی ہوئی ۔ مزیدتعلیم مشن ہائی اسکول دھاریوال ضلع گورداس پورسےحاصل کی۔میٹرک 1932 میں پاس کیااور 1938 میں اسلامی کالج لاہورسے  بی اے کیا۔

دوران تعلیم ہی لکھنےلکھانےکاشوق پیداہوگیاتھا۔آپ کاپہلاافسانہ "شودر” ماہ نامہ حکایت اسلام، جنوری/1936 میں محمدشریف نسیم متعلم اسلامی کالج کےنام سےشائع ہوا۔جب کہ دوسراافسانہ جستجو،،محمدشریف نسیم سوجان پوری متعلم اسلامی کالج کےنام سےاسی سال فروری میں شائع ہوا۔

نسیم حجازی نےاپنےنام کی وضاحت اپنےایک انٹرویومیں یوں کی تھی:

"جب میں نےلکھنےکاآغازکیاتھاتوان دنوں میں سوجان پورضلع گورداس پورمیں رہتاتھااوروہاں کےمولوی غلام مصطفی سے اکثر ملاقات ہواکرتی تھی۔ایک روزبولےکہ تمہیں لکھنےپڑھنےکاشوق تو ہےلیکن تم اپناتخلص نہیں کرتے،اس وقت میں محمدشریف ہی لکھا کرتا تھا۔میں نےان سےپوچھاکہ کیانام رکھوں؟ تووہ کہنےلگےکہ تم سرزمین حجازسےتعلق رکھتےہواس لیئےسرزمین حجاز سے ہی  کوئی تخلص رکھ لو۔ لہذامیں نےاس بات پرغورکیااورمحمدشریف کی بجائےنسیم حجازی لکھناشروع کردیا۔ جوبعدمیں میری پہچان بن گیا۔”

نسیم حجازی کی شادی ان کےزمانہ طالب علمی میں ہی 22/اکتوبر 1937 کومولاناغیاث الدین صاحب کی صاحب زادی نجاہت النساء سے ہوئی۔ ان کےسسرایک بلندپایہ عالم اورفاضل شخصیت کےمالک تھے،اورمولاناعطاءاللہ شاہ بخاری کےاحباب میں شمارکئےجاتےتھے۔

نسیم حجازی نےاپنی شادی پرانٹرویومیں کہاکہ:

"بیاہ کردلہن بن کرجب وہ میرےگھرآئیں تومیں نےان سےکہاکہ اب تک زندگی کےبوجھ کواکیلااٹھایاتھااب چاہتاہوں کہ مل کرچلیں۔ میں نےایک کاغذاورقلم انہیں دیااوراملاکرایا۔ جوکچھ انہوں نےلکھااسےمیں نےدیکھا،اس میں کوئی غلطی نہیں تھی۔ میں نے  کہایہ میرے چھپنے والے پہلےناول کی وہ سطور ہوں گی جنہیں کبھی تبدیل نہیں کروں گا۔‘‘

نسیم حجازی کےتین بیٹے ہوئے۔سب سےبڑے، خالدنسیم۔منجھلے جاویدنسیم جن کی انیس سال کی عمرمیں ایک حادثےمیں وفات ہوگئی، اورچھوٹے احسن نسیم تھے۔

نسیم حجازی نےاپنی صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا-  ساتھ ہی ادبی زندگی بھی شروع ہو گئی۔ اس طرح زندگی بھر وہ بیک وقت ایک انتہائی کامیاب صحافی بھی رہے اور ایک مقبول ادیب بھی۔  ان کی شخصیت کو ادیب اور صحافی  میں تقسیم کرنا بھی بہت مشکل ہے کیونکہ دونوں کا ایک دوسرے پر گہرا اثر ہے۔

 آپ مارچ 1941ء مین روزنامہ ‘حیات’ سے وابستہ ہوئےاور صرف تین ماہ کے بعد روزنامہ ‘زمانہ’ کے  مدیروںمیں شامل ہوگئے۔ ٔ لیکن یہ ملازمت بھی صرف سات ماہ رہی کیونکہ وار فنڈ سے ملنے والے دو ہزار روپئے بھی ان کی زبان کو خاموش نہ کر سکے اور انہوں نے اداریہ کے ساتھ ہی استعفی بھی لکھا ۔ اس کے بعد ایک مختصر عرصہ ،شاید تین ماہ ،ایک اسکول میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے کام کیا اور وہاں سےبھی اپنے لکھے ہوئے اداریہ کی بنیاد پرعلیحدہ کردیےگئے۔

اسی دوران بلوچستان کی مشہور شخصیت میر جعفر علی خان جمالی کواپنےبچوں کےلیئےاتالیق کی ضرورت محسوس ہوئی اوران کی نظرانتخاب نسیم حجازی پر پڑی ۔اس طرح نسیم حجازی کراچی سےکوئٹہ منتقل ہوگئے۔

کوئٹہ میں آپ نے پھر اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ہفت روزہ اخبار ‘ تنظیم’ کی ذمہ داریوں سے کیا۔ حالانکہ تنظیم ہفت روزہ تھا لیکن مگر مقبولیت کے باعث بعض اوقات اس کی اشاعت ضمیمے کے طور پر روزانہ ہونے لگی ۔ اسی کے ساتھ  آپ کی پس پردہ سیاسی زندگی کابھی آغازہوا۔ آپ  نے اپنے  اخبار اورشخصی تعلقات کی بناپرقیام پاکستان کےلیے بلوچی سرداروں کو مسلم لیگ کا ہمنوا بنانے کی  کامیاب سعی  بھی کی۔

آزادی کے بعد نسیم حجازی نے محسوس کیا کہ اب بلوچستان میں ان کا کام پورا ہوچکا ہے اور وہ وہاں سے ایبٹ آباد منتقل ہوگئے۔ اس دوران آپ روزنامہ تعمیر راولپنڈی سے بھی  منسلک ہوئے لیکن انتظامیہ کی پالیسی اور پابندیوں کی وجہ سے  جلد ہی اس سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنے ساتھی عنایت اللہ کے ساتھ مل کر روزنامہ ‘ کوہستان’ جاری کیا۔  یہ اخبار  راولپنڈی سے شائع ہوتا تھا لیکن اس کادائرہ اثر لاہور اور ملتان تک پہنچا۔

کوہستان کی شہرت اس کی بے باکی اور آزاد صحافت کی بنیاد پر قائم ہوئ۔  اس میں شائع ہونے والے  نسیم حجازی کے اداریے بہت شوق سے پڑھے جاتے تھے ۔اس اخبار کے زریعہ نسیم حجازی مسئلہِ ختم نبوت پر عوامی شعور بیدار کرنے کی کوشش   بھی کرتے رہے۔

کوہستان نے سب سے پہلے آفسٹ طباعت کو اختیار کیا اور مذہبی کالم ، خواتین اور بچوں کے صفحات، کارٹون وغیرہ شروع کیے ۔ اس طرح روزنامہ ملک کے  صفِ اول کے روزناموں میں شمار کیا جانے لگا ۔ اس اخبار پر قدغن لگانے کے عملہ کے ایک  رکن کو استعمال کیا گیا جس نے اخبار میں ایک  جھوٹی خبر شائع  کردی۔  اس بہانہ سے  حکومت نے نسیم حجازی کو جیل بھیج دیا اور انہیں  اور اخبار  بند کرنا پڑا ۔ اس کے بعد  ان پرمسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا  اور لالچ دیے جاتے رہے لیکن وہ کسی قسم کی مصالحت پر تیار نہ ہوۓ۔  جب قوت برداشت جواب دے گئی تو آپ  نے 1966 میں کوہستان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اخبار کنونشن مسلم لیگ نے خرید لیا ۔ یہ ایوب خان کا دور تھا ۔ انہیں ادارت کی پیشکش ہوئی ۔ آپ نے جواب دیا:

"صدرِ محترم اب اخبار آپ کا ہوگا۔ پالیسی آپ کی چلے گی ۔ اس کے لیے نسیم حجازی کا قلم استعمال نہیں ہوسکتا ۔اسے معاف فرماۓ اور یہ اعزاز کسی اور کو بخشیے۔”

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

Close