ادبغزل

نظر کو خواب قدم کو سفر دیا جائے

ہر ایک عضو کو اک اک ہنر دیا جائے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

ہر ایک عضو کو اک اک ہنر دیا جائے
"نظر کو خواب قدم کو سفر دیا جائے”

حکومتوں کا یہی کام رہ گیا ہے اب
کہ بے گناہوں پہ الزام دھر دیا جائے

مری دعا سے لرز جائے قصرِ باطل بھی
مری دعا میں خدا وہ اثر دیا جائے

ہمیں تو صرف ہمارے حقوق چاہئے تھے
یہ کب کہا کہ ہمیں تو قمر دیا جائے

یہ راحتیں ہوں جہاں والوں کو مبارک سب
مجھے تو موت کا ہر لمحہ ڈر دیا جائے

مجھے نہیں ہے طلب تیرے میکدے کی اب
بس ایک جام مرے نام کر دیا جائے

جو ہنس رہے ہیں مری چاک دامنی پہ خدا
ذراسا موت کا ان کو بھی ڈر دیا جائے

بجھا رہے ہیں محبت کی شمع جو ہادؔی
انہیں کے دل کو محبت سے بھر دیا جائے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Close