نفرت کے تاجروں کو محبت کی آرزو

افتخار راغب

نفرت کے تاجروں کو محبت کی آرزو

دوزخ کے باسیوں کو ہے جنت کی آرزو

حکمت کی آرزو ہے نہ حیرت کی آرزو

اہلِ جنوں کو شدّتِ وحشت کی آرزو

رگ رگ میں جس کی جذب ہو مہر و وفا کا نور

دیوارِ عشق کو ہے اُسی چھت کی آرزو

آئیں ہر اِک شجر پہ محبت کے برگ و بار

پوری نہ ہو کسی کی شرارت کی آرزو

دل کی تڑپ ہلاک ہی کر دے نہ اب ہمیں

شدّت کا ذوق و شوق ہے شدّت کی آرزو

پروازِ فکر جانبِ ہفت آسماں رہے

پستی کا رُخ دکھائے نہ جدّت کی آرزو

نام و نشاں بھی مٹ گیا میرا تو غم نہیں

مٹنے نہ پائے حق کی حمایت کی آرزو

کیسے بتاﺅں کیسی قیامت اُٹھا گئی

صرف ایک آرزو پہ قناعت کی آرزو

پوری کہاں ہوئی کبھی دربارِ عشق میں

”بے جبر التفات و عنایت کی آرزو“

ذکرِ جہاد جن کے لبوں پر نہیں کبھی

راغب اُنھیں ہے مالِ غنیمت کی آرزو

⋆ افتخار راغب

افتخار راغب
تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے تین شعری مجموعۂ کلام، ’ لفظوں میں احساس‘ ، ’ خیال چہرہ ‘ اور ’غزل درخت‘ منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا چوتھا مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے