ادبتبصرۂ کتب

نمرہ اور نمل! (تیسری قسط)

عالم نقوی

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا!

مرض بھی تو ایک طرح کا ’خلل‘ ہی ہے!  بہت ممکن ہے کہ غالب نے یہ خیال ابن قیم  الجوزیہ سے مستعار لیا ہوجن کی قریب سات سو سال قبل لکھی گئی ایک  کتاب  کا  ترجمہ ’’ایک تسلی بخش جواب اُس کے لیے جس نے سوال کیا تھا ’دوائے شافی‘ کے بارے میں‘‘  کے عنوان سے اردو میں ہو چکا ہے مگر آسانی سے ہاتھ نہیں آتا ۔نمرہ احمد نے اپنی کتاب ’نمل ‘ میں کثرت سے ،ڈرامائی انداز میں اُس کے حوالے دینے کے ساتھ اگر اس کا نام درج نہ کیا ہوتا (نمل ج 3 ص  1406)تو ہم بھی ناواقف  ہی رہتے ۔ وہ شیخ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’’مریض محبت کو سب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی شخص کے قبضے سے اپنا دل چھڑانے کے لیے اس کو بھولنا یا اس سے نفرت کرنا ضروری نہیں ۔۔انسان کو چاہیے کہ اِس مرض کو یا تو پیدا ہی نہ ہونے دے لیکن اگر پیدا ہو چکا ہے تو اس کے علاج کے دو طریقے ہیں ۔اور پہلا طریقہ ہے ’’غَصّ ِ بَصَر‘‘ (نمل ج 2 ص 999) لیکن اس  سے پہلے محبت کو سمجھنا ہو گا ۔

محبت اور عشق میں فرق ہے۔ یہ جو لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ’’عشق‘‘ کا لفظ جوڑنا شروع کر دیا ہے یہ  شاید صحیح نہیں  کیونکہ دونوں الفاظ عربی کے ہیں ۔اور عربی میں عشق کا لفظ مرد اور عورت کی ایسی محبت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو معتبر نہیں سمجھی جاتی اس لفظ ِ(عشق) میں شرافت نہیں ہے۔ کیا کوئی بیٹا یا بیٹی یا بھائی بہن  اپنے ماں باپ  یا بھائی بہن کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اُن سے عشق کرتےہیں؟ اِسی طرح اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی محبت کے لیے بھی یہ لفظ قطعاً درست نہیں۔ رہی محبت، تو اُس کے بھی سات درجے ہیں: پہلا درجہ ’’علاقہ‘‘ ہے (اردو والا نہیں عربی والا ) کیونکہ اِس میں اِنسان کا اَپنے محبوب سے تعلق قائم ہوتا ہے ۔

علاقے کے بعد ’’الصبابہ‘‘ ہے اس میں انسان کا دل پوری گروِیدگی کے ساتھ محبوب کی طرف جھک جاتا ہے ۔وہ اُس کے سِحر میں گھِر جا تا ہے۔ تیسرا درجہ ’’الغرام ‘‘ ہے ۔قرآن میں ہے ’انَّ عَذَا بہا  کان  غراماً‘(بلا شبہ اس کا عذاب لازم ہونے والا ہے ) سو درجہ الغرام میں محبت قلب کے اندر ہمیشہ کے لیے لازمی طور پر جا بیٹھتی ہے اور پھر اس سے نکل نہیں پاتی ۔اور پھر سب کے آخر میں ہے عشق۔ محبت کی وہ انتہا جس کا تعلق مرد اور عورت کی جنسی کشش سے ہے اور جو، جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ معتبر  اور شریف نہیں سمجھی جاتی اس کے بعد محبت کا پانچواں درجہ ’’شوق ‘‘ہےجو دل کے اُس سفر کا نام ہے جو پوری تیزی سے محبوب کی طرف شروع کیا جائے۔ اس کا اطلاق پروردگار عالم کی طرف ہوتا ہے کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس کے دوست اس کی ملاقات (لقائے الٰہی ) کا شوق رکھتے ہیں اور اس کے بعد محبت کا  چھٹا درجہ  ہے  ’’التیتم ‘‘۔ یعنی انسان اپنے محبوب کی عبادت کرنے لگ جائے۔

اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے ہی جیسے کسی دوسرے انسان سے ’عبادت ‘ کے درجے کی محبت کرنے لگے تو یہ ’شرک ‘ ہے لیکن اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرنا، خود کو اُس کے سامنے جھکانا، اپنے چہرے کا ہر نقاب اتار کر ، اپنی ہر اَنا کو پسِ پُشت ڈال کر، اُس سے اَپنے دِل کا حال بیان کرنا ،اس کے آگے دعا مانگتے ہوئے عاجزی سے  رونا اور گڑگڑانا یہ ’’عبادت ‘‘ ہے جو محبت کی معراج ہے اور  جو اللہ کی عبادت نہیں کرتا وہ اس سے محبت بھی نہیں کرتا (نمل ج 3 ص 1176۔1178)

البتہ خود اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ ’’اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ اگر تم (واقعی)اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اِتبِّاع کرو  (پھر ) اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہر بان ہے (قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ ا للہ فا تَّبِعُونی ۔۔آل عمران 31) یہاں غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ  ’قل‘ کے بعد (یا ایھا الذین) ’آمنو  ‘کی ’’تخصیص ‘‘ نہیں ہے بلکہ لہجے میں  ’’تعمیم‘‘ ہے کہ ۔۔اے رسول کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو ۔۔تو ۔۔میرا اتباع کرو۔ یعنی یہاں سارا زور ’فا‘ پر ہے (’فا ‘کا ترجمہ تویا  پس ہے بعد ،پیچھے ،پیش کا متضاد Then )’تو پھر اللہ تم سے محبت کرے گا ۔یعنی اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم  سے محبت کرےتو ہمیں لازماً  نبی کریم ﷺ کی  سچی  اور مکمل پیروی کر نے والا ہونا چاہیے!

’’اور پھر ۔کمال ِمحبت ۔محبت کا آخری اور ساتواں درجہ ’’خُلَّت‘‘ ہے ۔یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں محبوب کے سوا نہ کسی کی گنجائش ہوتی ہے نہ دل کسی اور کی شراکت کو برداشت کرتا ہے ۔اسی خلت سے خلیل ہے اور خلیل اور حبیب کے منصب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے  اپنے دو برگزیدہ ترین بندوں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے آقا محمد مصطفےٰ ﷺ کو عطا فرمادیے ہیں (نمل ج  3 ص 1178) اب رہا  مرض ِعشق کا علاج ،تو اِس کے دو طریقے ہیں ایک ’’غَضِّ بَصَر‘‘اور دوسرے محبت !‘‘

غَضِّ  بَصَر  کا حکم سورہ نور کی آیات 30 اور 31 میں ہے ۔’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم۔۔اور ’و قل للمؤمنٰت یغضُضن من ابصا رھن ۔۔اے پیغمبر ! آپ مؤمنین سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں  اور اپنی شرم گاہوں کی حفا ظٹ کریں ۔۔اور مؤمنات سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں ۔۔

نمرہ احمد نے ابن قیم کے حوالے سے  مرض عشق کے علاج کے لیے غض بصر کے دس فائدے بیان کیے ہیں ’’پہلا  تو یہی کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور انسان کی فلاح تو حکم الٰہی کے ماننے ہی میں ہے انسان کی ناکامی کا بنیادی سبب حکم الٰہی کی خلاف ورزی ہی ہے ۔ دوسرے یہ کہ گندی  نظر کا جو زہر آلود تیر کسی کے دل تک پہنچ کر اُس کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے ،آنکھوں کی حفاظت سے وہ  بری نگاہوں کے زہریلے تیروں سے محفوظ رہے گا ۔ تیسرے یہ کہ نظروں کی حفاظت کے بعد ہی دل میں پوری توجہ سے اللہ کی محبت پیدا ہو سکتی ہے ۔آ وارہ نگاہی دل کو بھی آوارہ بنا دیتی ہے ۔اور چوتھے یہ کہ نگاہوں کی حفاظت دل کو مضبوط ہی نہیں پر سکون بھی بناتی ہے ۔نگاہوں کی چوری نہ صرف دل کو مغموم رکھتی ہے بلکہ چین سے  بھی نہیں رہنے دیتی۔

(5) نگاہوں کو پست رکھنے سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے ۔سورہ نور میں غَضِّ بَصَر کی دونوں آیتوں کے بعد ہی آیہ نور ہے کیونکہ نظروں کی حفاظت کے بغیر دل میں نور داخل ہی نہیں ہو سکتا ! جب دل نورانی ہو جائے تو ہر طرف سے خیر و برکت انسان کی طرف دوڑتی ہے اور جن کے دل اندھیر ہوں اُن کو طرح طرح کے شر اور تکلیفوں کے بادل گھیرے رہتے ہیں۔

(6) اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ایک اصول یہ ہے کہ اگر  آپ اُس کے لیے  کوئی چیز چھوڑیں گے تو وہ  لازماً آپ کو اُس سے بہتر عطا کرے گا آپ نگاہ چھوڑیں گے تو بدلے میں وہ آپ کو  ’بصیرت ‘  اور ’فراست ‘عطا کرے گا ،اور اللہ کی عطا کردہ فراست کبھی خطا نہیں کرتی جس مؤمن کو وہ مل جائے پھر وہ ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جا سکتا ! حدیث میں آتا ہے کہ مؤمن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کی آنکھ سے دیکھتا ہےاور اللہ کی یہ آنکھ اُسی کو ملتی ہے جو اللہ کے لیے اپنی آنکھوں کو جھکائے رہتا ہے اور غض بصر کی پوری پابندی کرتا ہے ۔

(7)آزاد نگاہی ویسے بھی انسان کو ذلیل کر کے چھوڑتی ہے ۔مگر جو اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتا ہیے اللہ اس کو عزت دیتا ہے لوگوں میں بھی اور فرشتوں میں بھی۔

(8) بد نگاہی  کے ذریعے ہی شیطان  تیزی سے  دل میں  جا پہنچتا ہے اور گناہوں کو دلکش بنا کر پیش کرتا ہے ،گناہوں کی گمراہ کن اور غلط تاویلیں کرتا ہے اور انسان گناہ کی آگ میں یوں جلتا  ہے جیسے بکری کو تنور میں ڈال کر بھونا جائے ۔ اِسی لیے  شہوت پرستوں کو قیامت کے دن آگ کے تنور میں ڈالا جائے گا !

(9)اور غض بصر سے دل کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ورنہ جن کی نگاہیں آوارہ ہوں خواہ سڑکوں پر یا فلم ،ٹی وی،لیپ ٹاپ  اور موبائل کے اِسکرینوں پر اُن کے دل اِتنے زیادہ اُلجھے رہتے ہیں کہ کسی بھی اچھی چیزکی طرف متوجہ ہونے یا کسی بھی نیکی پر غور و فکر کرنے کی فرصت اور  فراغت اُنہیں نصیب ہی نہیں ہوتی۔

 (10)اور آخری  فائدہ غض بصر کا یہ ہے کہ انسان کے دل اور آنکھ کے درمیان ایک سوراخ ہے، ایک راستہ ہے۔ جس کام میں آنکھ مشغول ہو اُسی میں دِل بھی مشغول رہتا ہے، ایک کے فساد سے دوسرا بھی مبتلائے فساد رہتا ہے اور اسی طرح  ایک کی اصلاح سے دوسرے کی اصلاح اپنے آپ ہو جا تی  ہے اس لیے ’مریض ِعشق ‘ کو چاہیے کہ اپنی نگاہوں کو صاف رکھیں اُدھر نگاہ نہ کریں جدھر  دیکھنا حرام ہے۔ غض بصر  انسان کو اپنی نگاہوں کا مالک  بناتا ہے اور جو اپنی نگاہ کا مالک ہوتا ہے اس کا دل بھی اسی کے پاس رہتا ہے کسی ایرے غیرے کے پاس نہیں!

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close