ادبتبصرۂ کتب

نمرہ اور نمل! (چوتھی قسط)

عالم نقوی

بس دوہی راستے: شکر یا کفر!

’’یقیناً انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ۔یقیناً ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنا دیا ہے یقیناً ہم نے اسے راستے کی ہدایت کر دی ہے اب چاہے تو وہ شکر گزار بندہ ہو جائے یا  کفران نعمت کرنے والا بن جائے (سورہ دہر ۔1۔3)

فارس نے حنہ سے کہا کہ ’’جب میں جیل گیا تھا تو میں نے وہاں بہت سی ایسی باتیں سیکھیں جن کا مجھے زندگی میں پہلے کبھی تجربہ نہ ہوا تھا ۔میں نے سیکھا کہ اگر کوئی آپ کے عقائد پر حملہ کرے تو زبان سے جواب دو ۔اگر کوئی آپ کے جسم پر حملہ کرے تو ہاتھ سے جواب دو ۔اگر کوئی آپ کے خلوص نیت پر شک کرے تو اپنے اچھے عمل سے جواب دو ۔اگر کوئی آپ کی دیانت داری پر انگلی اٹھائے تو دلائل سے جواب دو لیکن ۔۔اگر کوئی آپ کے کردار پر ،آپ کی عزت پر حملہ کرے تو کوئی جواب نہ دو ‘‘تو پھر کیا کرو ؟ حنہ نے پوچھا ۔’’ اُن کو تڑپا تڑپا کے مارو Then you make them bleed  (نمل جلد 4 ص 1807۔1808)

’’اے پیغمبر ! آپ ان سے کہ دیجیے کہ اللہ تو ملک کا مالک ہے جس کو چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلب کر لیتا ہے ۔جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے ۔سارا خیر تیرے ہاتھ میں ہے  اور تو ہی ہر شے پر قادر ہے (آل عمران 26)اور اسی کا فرمان ہے کہ ’’ اللہ تمہارے دلوں میں نیکی دیکھے گا تو تمہیں اس سے بہتر عطا کرے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور وہ تمہیں بخش بھی دے گا (سورہ انفال 70)اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر نہ کوئی کسی کو بے عزت کر سکتا ہے نہ ذلیل و رسوا(نمل ج 4 ص 1822)

’’اور جب (ابراہیم ؑنے ) اپنے پالنے والے باپ سے کہا کہ آپ ایسے کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ کچھ سنتا ہے ،نہ دیکھتا ہے اور نہ کسی کے کام آنے والا ہے ۔اور میرے پاس تو وہ علم آچکا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا لہٰذا آپ میرا اتباع کریں میں آپ کو سیدھے راستے کی ہدایت کردوں گا ۔بابا!شیطان کی عبادت نہ کیجیے ۔شیطان تو بس رحمان کی نافرمانی کرنے والا ہے ۔بابا ! مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کو رحمان کی طرف سے کوئی عذاب کہیں اپنی گرفت میں نہ لے لے ۔اور آپ شیطان کے دوست قرار پا جائیں ۔ تو اس نے (آذر ،ابراہیم کو پالنے والے باپ نے ) کہا کہ ابراہیم کیا تم میرے معبودوں سے (جن کی میں پرستش کرتا ہوں ) کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہو ؟ تو یاد رکھو اگر اگر تم اپنی اِس رَوِش سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگ سار کر دوں گا ۔تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجاؤ۔تو ابراہیم نے کہا کہ اللہ آپ کو سلامت رکھے ،میں عنقریب اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت طلب کروں گا کہ وہ میرے حال پر بہت مہر بان ہے ۔اور آپ کو آپ کے معبودوں سمیت چھوڑ کر الگ ہو جاؤں گا اور اس طرح میں اپنے پروردگار کی عبادت سے محروم نہ رہوں گا پھر جب ابراہیم نے اُنہیں (آذر کو ) اور ان کے (جھوٹے ) معبودوں کو چھوڑ دیا تو ہم نے انہیں اسحٰق اور یعقوب جیسی اولاد عطا کی اور سب کو نبی قرار دیا (سورہ مریم 42۔49)

’’لوزَر،سُپر لوزَر ۔۔یہی کہا تھا نا تم نے مجھے ؟ (نوشیر واں ) تلخی سے بولا تھا ۔تم دونوں کو کبھی احساس ہوا حنین کہ تم لوگ اپنے احساس برتری میں مجھے کتنا ہَرٹ کر جاتے تھے ۔میری کتنی بے عزتی کرتے تھے ؟ تم  لوگوں نے کبھی میری عزت نہیں کی۔ ‘‘ صحیح ! حنین نے (کہا ) ۔ہم نے واقعی آپ کو بہت ڈی گریڈ کیا ہے ،کیونکہ ہم  ’‘’لوگ ‘‘ تھے اور ۔’لوگوں ‘کا کام ہی باتیں کرنا ہے۔آپ کو ’ لوگوں ‘ کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی ۔’مگر آپ بھی کیا کرتے،کیونکہ۔’ لوگ ‘  جب ہمارے بارے میں (دل دکھانے اور بے عزت کرنے والی )  باتیں کرتے ہیں توبہت تکلیف ہوتی ہے ۔ہمیں لگنے لگتا ہے ہم اب کبھی سر اٹھا کے جی نہیں سکیں گے ۔ (آپ کو معلوم ہے ) بدکاری کی سزا سنگ سار کرنا ہوتا ہے یعنی بر سرِ عام پتھر مار مار کر ہلاک کرنا ۔یہ ایک توہین آمیز سزا ہوتی ہے (قرآن بتاتا ہے کہ ) ابراہیم علیہ ا لسلا م کو اُن کے بت پرست باپ نے یہی سزا سنائی تھی اُن کی عزت ختم کرنے کے لیے کیونکہ ان کے لوگ ان کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اسی نے ہمارے بتوں (معبودوں ) کو توڑا ہے۔ وہ سچے تھے مگر اُن کے باپ سمیت سمیت زمانے بھر نے اُن کو تنہا کردیا ،اُن کو گھر سے نکال دیا ،جب آگ میں نہ جلا سکے تو ملک سے نکال دیا لیکن ۔۔ پھر یہ ہوا کہ ۔۔اللہ نے ابراہیم ؑ کو اسحٰق و یعقوب بھی دیے اور اسمٰعیل بھی (جو سب کے سب اپنے باپ کی طرح نبی بھی تھے )تو جناب ابراہیم کو(جنہیں اُن کی قوم سنگسار کرنا چاہتی تھی اور جنہیں نمرود نے زندہ جلا کر مار ڈالنے کے آگ میں ڈلوا دیا تھا اُنہیں )  اللہ نے یہ صلہ دیا  کہ نہ صرف اپنا گھر کعبۃ ا للہ بنانے کا شرف اُن کے نام کر دیا بلکہ اُن کے نام کو رہتی دنیا تک ہماری نمازوں اور ہمارے درود کا حصہ بنا دیا ۔اور آج یہ حال ہے کہ دنیا کے تین بڑے آسمانی مذاہب  کے پیروکار ۔یہود و نصاریٰ اور مسلمان ۔۔اس بات پر (فخر کرتے) ہیں کہ ابراہیم ہمارے ہیں ! سب اُنہیں  کو اپنے دین میں داخل دکھاتے ہیں جن کو اُن کے گھر (اور بستی) والوں نے نکال دیا تھا (اور جو انہیں ذلت کے ساتھ سنگسار کرنا اور جلانا چاہتے تھے )!اُن کو اللہ نے ’’صدیق نبی ‘‘ کا درجہ عطا فرمادیا (سورہ مریم 41)!

 مگر ہم ہیں کہ سب بھول جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ ہمیں بے عزت کریں گے تو ہماری عزت اور نیک نامی چلی جائے گی ہم رُسوا ہو جائیں گے ۔ ’’لوگ ‘‘ ہمارے بارے میں باتیں کریں گے تو ہم کبھی سر نہیں اُٹھا سکیں گے ۔ حالانکہ لوگوں کا تو کام ہی ہوتا ہے باتیں کرنا ۔ کسی انسان کی عزت لوگوں کی زبان سے نہیں بندھی ہوتی کہ وہ زبان کھولیں گے تو عزت زمین بوس ہو جائے گی ۔ عزت اور ذلت اللہ اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔کسی کی عزت انسان کے ہاتھ میں نہیں ۔ہمارا سارا خاندان (پورا معاشرہ )ہماری بے عزتی کرے اور اللہ ہماری عزت باقی رکھنا چاہے تو اُن سب سے کئی گنا زیادہ لوگ پیدا کر دے گا جو ہماری عزت کریں گے !

اگر ہم نے اپنے گناہوں پر سچے دل سے توبہ کرلی ہے اور اللہ سے معافی مانگ لی ہے اور ہم دوسروں کا بھلا سوچنے لگ گئے ہیں  اور ہماری نیت دُرُست ہے تو اللہ ہمیں کسی انسان کے ہاتھوں رُسوا نہیں کرے گا ۔ اگر ہم انسانوں کی بھلائی سوچیں اور اپنی نیت کو ٹھیک رکھیں تو ہمیں وہ عزت ملے گی جسے کوئی انسان داغدار نہیں کر سکے گا ۔ اس لیے ہمیں (لوگوں کے ) اِن بُتوں سے ڈرنا نہیں چاہیے ۔ابراہیم ؑ کی طرح کلہاڑا مار کے انہیں توڑ دینا چاہیے ۔سو آپ عزت پانا چاہتے ہیں تو لوگوں کی بھلائی کے کام کرنا شروع کریں (نمل ج 4 ص 1823۔1825)اور اگر تمہیں کبھی کوئی کہے کہ انسان کے کیے گئے ظلم گھوم پھر کے اس کے پاس ایک دن ضرور لوٹتے ہیں تو یقین کر لینا ،کیونکہ ایسا ضرور ہوتا ہے (نمل ج 4 ص 1630)

’’اور جب اللہ نے شیطان کو جنت کے باغوں سے دھتکار  کر دنیا میں بھیجا اور  اسے مہلت دی تو اس نے کہا جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں ضرور اُن کی تاک میں تیری سیدھے راستے پر بیٹھوں گا پھر اُن کے پاس اُن کے آگے سے  ،اُن کے پیچھے سے  ،اُن کے دائیں  سے اور اُن کے بائیں سے آؤں گا اور تو اُن میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا ۔(الاعراف 16۔17)

سیدھے راستے کا مسئلہ یہ ہوتا ہے  کہ اس سے ذرا سا بھی ترچھا چلیں تو شروع میں تو وہ کجی نظر نہیں آتی مگر جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے ،سیدھے راستے (صراط مُستَقیم ) سے دور ہوتے چلے جائیں گے ۔ اور جب دور نکل جائیں گے تو ظاہر ہے کہ پھر ہمیں وہ صراطِ مستقیم والی منزل تو ملنے کی نہیں ! لہٰذا شیطان اس سیدھے راستے ہی پر بیٹھتا ہے تا کہ ہم اس کے بہکاوے میں آکر  صراط مستقیم چھوڑ کر اِدھر یا اُدھر ہٹ جائیں اور با لآخر اپنی منزل کھوٹی کر لیں ۔

تو سب سے پہلے وہ آگے سے آتا ہے ۔اور آگے مستقبل ہوتا ہے تو وہ ہمیں مستقبل کا خوف دلاتا ہے ۔یہ کروگے تو تمہارا کیریر نہیں بنے گا ! پھر تمہارے مستقبل کا کیا ہوگا !تم یہ اچھا کام کروگے تو بالکل اَینٹی سوشل ہو جاؤگے ۔ ۔پھر وہ ہمارے پیچھے سے آتا ہے اور ہمیں اپنے ماضی کے  برےکام  اور گناہ یاد دلاکر  ہمیں اس درجہ ان کے گِلٹ میں مبتلا کر دیتا ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت سے اتنا مایوس کر دیتا ہے کہ ہم پھر کوئی اچھا اور نیک کام کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے ۔ وہ کہتا ہے ’ تمہارے تو ماضی میں اتنے ’افیئرز‘ رہے ہیں اب تو تمہاری شادی بھی اپنے ہی جیسے بد کردار سے ہوگی ۔تم نے ماں باپ کا اتنا دل دکھایا ہے اب تو تم کبھی ہدایت پا ہی نہیں سکتے۔تم نے نمازیں چھوڑی ہیں تم نے روزے قضا کیے ہیں تم تو اب کبھی چاہو بھی تو نیک اور اچھے نہیں بن سکتے !

 اس کے بعد وہ دائیں سے آتا ہے ۔اچھے کاموں کے نام پر ہم سے گناہ کرواتا ہے ۔ثواب کا جھانسہ دے کر بدعات و خرافات میں لگا دیتا ہے ۔اور دین میں نئے نئے داخل ہونے والوں سے کہتا ہے کہ اسلام تو ساری خواہشات کا گلا گھونٹ دینے کا نام ہے ۔اب تو تمہیں ٹاٹ پر سونا ہوگا اور صرف روکھی سوکھی کھانا پڑے گی ۔تمہارے سارے قریبی عزیز رشتے دار حرام کی کھا رہے ہیں ،اُن سے پوری طرح ناتہ توڑ لو ۔سب سے پہلے اپنے ماں باپ وغیرہ کو اُن کے گناہوں پر کھلے عام ٹوکو ۔ہر وقت دوسروں کے عیوب ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کو نصیحت کرتے رہو ۔اس طرح  شیطان ہمیں ’دین ‘ کے نام پر  خالص بے دینی کے کاموں میں لگا دیتا ہے ۔

اِن تین راستوں کے بعد وہ آتا ہے بائیں جانب سے ! ہم سمجھتے ہیں کہ وہ صرف آتا ہی بائیں طرف سے ہے لیکن یہ تو شیطان کا آخری راستہ آخری آپشن ہوتا ہے ۔ وہ ہمیں علانیہ برے کاموں کو اچھا دکھا کر ،انہیں جسٹی فائی کر کے برائی کی ترغیب دیتا ہے، جھوٹ، چوری ،قتل ،فحش کام یہ سب تو وہ  سب کے  آخر میں کرواتا ہے جب اس کو ہمارے بگڑنے یا بگڑا ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔ وہ ان کاموں سے شروع کبھی نہیں کرتا۔

 آدم علیہ ا لسلام اور بی بی حوا کے پاس بھی  وہ ’’آگے ‘‘ سے   آیا تھا ! اُن کو مستقبل کا ایک دل فریب خواب دکھایا تھا ۔ سو شیطان والے کام صرف ’’علانیہ غلط ‘‘ کام ہی نہیں ہوتے بلکہ ’مستقبل کا خوف ‘ ، ماضی کا غم ، اور نیکی میں انتہا پسندی  اور بدعات و خرافات بھی شیطان کے جھانسوں میں شامل ہیں !ویسے ،وہ صرف ’کہتا ‘ ہے ’کرتے‘ تو ہم خود ہیں !لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم بے بس ہیں۔ شیطان نے اللہ سے صرف چار سمتوں سے انسان کو بہکانے کی اجازت مانگی تھی آگے ،پیچھے ،دائیں اور بائیں ۔ دو راستے تو اس نے کھلے چھوڑ دیے یا پھر اللہ نے اپنی حکمت سے اسے بقیہ دو سمتیں بھلا دیں ،اوپر آسمان کی طرف ’’دعا ‘‘ کا راستہ  اور نیچے زمین پر ’’سجدے ‘‘ کا راستہ ! وہ ان دو راستوں پر کبھی نہیں بیٹھ سکتا ۔نوٹ کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس نے کہا تھا کہ اے اللہ تو انسانوں کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

تو دراصل سارے مسئلوں کا حل ہے ’’شکر ‘‘! اور شکر کہتے ہیں ’قدر دانی ‘ کو ۔ جو کشتی میں  عافیت (محفوظ رہنے)کی قدر کرتا ہے، اُسے ڈوبنے کا خوف نہیں ہوتا ۔جو گمراہی کے بعد ہدایت پا لینے کی قدر کرتا ہے اور زیادہ  سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ،ماضی کے گناہ اس کو غمزدہ نہیں کرتے ۔جو اپنے دین کی آسانیوں  کی قدر کرتا ہے ، شیطان اس کو دین کے نام پر بہکا نہیں سکتا ۔ اور چونکہ قدر دان اور شکر گزار انسان دوسرے انسانوں کی ایک خامی یا ایک برائی کو دیکھ کر اس کی ساری خوبیوں کی قدر کرنا  نہیں چھوڑتا اس لیے وعظ و نصیحت کے نام پر شیطان اس سے دوسرے انسانوں کے جذبات مجروح نہیں کر وا سکتا ۔ اور جس کو اللہ کی قدر ہوتی ہے وہ برے اور فحش کاموں کی طرف نہیں لپکتا ۔ کیونکہ ایسی تسکین کس کام کی جس میں بندہ اپنے اللہ ہی کو کھو بیٹھے ۔

تو جو قدر کرنا جانتا ہے ۔۔جان کی ۔امان کی ۔رشتوں کی ۔ دولت اور وقت کی ۔ ہدایت کی ۔ اس کے اوپر(دعا ) اور نیچے ( سجدے )  کے راستے کھلے رہتے ہیں اور وہی، دعا اور سجدے  اُس کی ’ڈھال ‘ بن جاتے ہیں ۔ ۔لہٰذا ۔۔جو ہے اس کی قدر کیجیے۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہیے ۔۔پھر یہ ہوگا کہ جو آپ کے پاس نہیں ہے وہ نہ آپ کو ڈرا ئے گا نہ آپ کو غم زدہ کر سکے گا ! اور ناکامی اور تہی دامنی کے خوف سے بھی باہر نکل آئیں گے ۔ ( نمل ج 4 ص 1757۔1758)

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close