ادبغزل

نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

ڈاکٹر احمدعلی برقیؔ اعظمی

مرے حالِ زبوں پرمجھ پہ کوئی مہرباں کیوں ہو

’’ نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو‘‘

میں ہوں حَرفِ غلط جس کو مٹانے پر تُلے ہیں سب

کوئی میرے لئے آخر جہاں میں نوحہ خواں کیوں ہو

چیچنیا ہو کہ برما ہو، فلسطیں ہو کہ غزہ ہو

جہاں میں سرخیٔ اخبار میری داستاں کیوں ہو

ااس اندھے ، گونگے اور بہرے جہاں میں بے زباں ہوں میں

مرا سوزِ دروں اقوامِ عالم پر عیاں کیوں ہو

ہوں میں بھی ابن آدم اور مجھے بھی حق ہے جینے کا

ہمیشہ بجلیوں کی زد پہ میرا آشیاں کیوں ہو

میں جن سے پوچھتا ہوں جھانکنے لگتے ہیں وہ بغلیں

مری ہی بستیوں میں ہر جگہ آہ و فغاں کیوں ہو

کرے عرضِ تمنا کیسے برقیؔ اعظمی اُن سے

وہ کہتے ہیں کہ تم میرے لئے بارِ گراں کیوں ہو

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close