ادبدیگر نثری اصناف

نیر مسعود کے افسانوں میں تجربے کی نوعیت

احسن ایوبی

(شعبہ اردو ،علی گڑھ) 

اردو افسانے کی تاریخ میں نیر مسعود واحد افسانہ نگار ہیں جنھوں نے خارجی دنیا کی آئینی تصویریں اپنے افسانوں میں پیش کی ہیں جوابہام،پیچیدگی اورناقابل بیان عناصر پر مبنی ہیں۔ ا گر ان افسانوں میں بیان کردہ واقعات کو گرفت میں لینے کی کوشش کی جائے تو چند گمشدہ کڑیوں کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ ان نامانوس عناصر کی وجہ سے دوران قرأت پیدا ہونے والے سوالات کا حل کسی خارجی وسیلہ سے برآمد کرنا مشکل ہے۔ کیو نکہ مصنف کا منشا ہی یہی تھا کہ روایتی کہانی سے مختلف کچھ غیر معمولی تجربے کیے جائیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں کچھ کلیدی لفظ متعین کر لیے ہیں جو افسانوی خلا میں وقفہ بہ وقفہ آفاقی معنی پیدا کرتے ہیں یہ نیر مسعود کی مخصوص تکنیک ہے جسے برتنے کے لیے انھوں نے ہر افسانے میں کچھ اشارے کیے ہیں جو اگلے مجموعہ کے افسانے میں سامنے آتے ہیں۔ ہر افسانہ میں ایسا منظر موجود ہے جس کی بازیافت بعد کے مجموعوں میں ہوتی ہے۔ افسانوی مجموعہ ’’سیمیا‘‘ میں شامل افسانہ ’’اوجھل ‘‘کا راوی جس زمانے میں خوف اور خواہش کے احساسات سے دوچار ہوتا ہے اسی زمانے میں ایک عورت اسے بازار میں ملتی ہے جسے وہ پیشہ ور عورت گمان کر تا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ راوی کے لیے با لکل اجنبی ہے۔ لیکن دوران ملاقات ان دونو ں کی گفتگوسے اندازہ ہوتا ہے وہ ماضی میں ایک دوسرے سے انتہائی قریب رہ چکے ہیں۔

’’ادھر کون رہتا ہے ؟ ‘‘

بتایا تو، کوئی نہیں جلد باز !‘‘

’’تم بالکل نہیں بدلے ہو‘‘۔

’’تم بھی نہیں بدلیں ‘‘۔

اس مختصر گفتگو سے یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے سے گہرا رابطہ رہا ہے لیکن تعلقات کی نوعیت ،وقت اور زمانہ کا کوئی تعین نہیں ہوتا۔ سرراہ ملاقات ہونے سے لے کر گھر پہنچنے ،روزانہ کی آمد و رفت اور طویل ملاقاتوں کے پورے سلسلے میں نہ کہیں ان دونوں کے مکالمے ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی احساس جس سے گزشتہ زمانے کی قربت اور تعلق کا اندازہ ہو سکے۔ اس عمل کی وجہ سے ایک طرف تو خلا کا احسا س ہوتا ہے اور دوسرے اس کے ذریعہ راوی نے بڑی مشاقی سے پر اسرار فضا تخلیق کی ہے۔ لیکن یہ اسرار و طلسمی فضا داستانوں اور مثنویوں سے قدرے مختلف ہے۔ نیر مسعود کے افسانوی بیانیہ کی خصوصیات اگر معروضی طور پر بیان کی جائیں تو ا ن تمام عناصر کا ذکر ضرور آئے گا جو داستانوں سے مخصوص کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر تحیر اور خوف کا احساس ان کے ہر افسانے میں ہے لیکن وہ داستانوں سے مختلف ہے۔ دونوں کے درمیان تفریق کا جو عنصر ہے بالکل متضادہے۔ داستانوں میں جن ،بھوت ،پری ،گرجدار آواز ،ماورائی قوتوں کے تفصیل در تفصیل واقعات کے ذریعہ خوف اور حیرت پیدا کی جاتی ہے۔ جبکہ نیر مسعودکے یہاں خاموشی اور سناٹے میں ابھرنے والی سنسناہٹ سے خوف کی فضا ابھرتی ہے۔ داستانوں میں بیان مشکوک ہوتا ہے لیکن نیر مسعودکے راوی کا ہر بیان واقعیت پر مبنی ہوتا ہے اس کی صحت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ واقعیت اور شبہ کا یہ تاثر پیدا کرنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ بظا ہر نہایت ہی آسان و عام فہم ہے لیکن سوائے نیر مسعود کے اب تک کوئی اس انداز کو برت نہیں سکا۔ افسانہ ’’جانشیں ‘‘میں بظاہر تو مافو ق الفطرت عناصر کا غلبہ ہے لیکن اس افسانے کی ابتدا میں جو باتیں بیان نہیں کی گئی ہیں صرف محسو س کی جا سکتی ہیں انھیں اگر تعقلی بنیاد پر دیکھا جائے تو بات حقیقی معلوم ہوتی ہے افسانہ میں لڑکی پر واحد متکلم کی مو جودگی میں آسیب کا اثر ختم ہوجاتا ہے اسی وجہ سے اس کی شادی راوی سے کر دی جاتی ہے۔ لیکن اسے اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے توصاف واضح ہوتا ہے کہ راوی سے جذباتی لگائو اس قدر تھا کہ اس کی موجودگی میں لڑکی کے ذہن سے سارے توہمات اور الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح’’آنتیں نکل کر باہر آجانا ‘‘ اپنے آپ میں کسی جرم کی سزا کا اشاریہ معلوم ہوتا ہے۔ راوی نے اس کی فوق فطری توجیہہ پیش کی ہے یعنی کسی آسیب زدہ شخص کی آمد کی وجہ سے یہ وہم پیدا ہوا ہے۔

جس طرح حقیقی زندگی میں بعض چیزیں حافظہ سے محو ہو جاتی ہیں ، چند لمحہ یاکچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسے حتمی انداز کے بجائے شاید یا لیکن کے ساتھ بیان کیا جا تا ہے اسی طرح نیر مسعود کاواحد متکلم راوی اپنے ہر بیان میں غیر متعین کیفیات کے ذریعہ تحقیق و تفتیش کی جہتیں خلق کر دیتا ہے۔ ان پوشیدہ جہات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے حرف بہ حرف متن کی قرأ ت لازم آتی ہے۔ بعض افسانوں کی تفہیم کے لیے ماقبل کے افسانوں کی طرف رجوع کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔ مثال کے طور پر سیمیا کے سارے افسانوں میں گزشتہ افسانے سے کسی منظرکومختصراًضرور دہرایا گیا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی وجہ سے قاری موجود اور غیر موجود کے درمیان معلق ہو کر رہ جاتا ہے۔ ’’اوجھل ‘‘میں ڈوبنے والی عورت کا ذکر ’’سیمیا ‘‘میں اس طرح کیا گیا ہے کہ ڈوبنے کا منظر لمحہ موجود کا واقعہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مناظر ایسے ہیں جو خواب آسا معلوم ہوتے ہیں۔ افسانہ ’’تحویل ‘‘کا آخری نوروز (جو خود کو ’’ساسان ‘‘کے نام سے متعارف کراتا ہے ) جنگل میں رونما ہونے والے جو مناظر بیان کرتا ہے وہ حقیقت اور غیر حقیقت کی کشمکش پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ منظر جب دو عورتیں قصبہ کے ایک آدمی سے نوروز کے متعلق کچھ دریافت کرتی ہیں لیکن واحد متکلم اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا مگر رات میں وہ کچھ تلاش کرنے کی غرض سے خود کو جنگل میں پاتا ہے۔ یعنی یہ کہ ان عورتوں کی تفتیش اسے ذہنی طور پر نوروز کی تلاش پر آمادہ کرتی ہے اور تلاش کے لیے نکل جاتا ہے۔ لیکن افسانہ میں یہ منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ تلاش حقیقی ہے یا محض خواب ہے :

’’پھر بھی اس دن آدھی رات کے وقت میں نے خود کو جنگل کے دہانے پر پایا۔ دیر تک جنگل کے سنسان اندھیرے کو گھورتے رہنے کے بعد میں واپس آگیا۔ تیسری رات میں نے دہانے کے سامنے کھڑے کھڑے زیادہ انتظار کیا اور جنگل کے اندر کچھ سننے کی کوشش کی۔ مجھے پورے جنگل میں ایک سنسناہٹ اور واہمہ سا بھرا ہوا محسوس ہوا یہ ہوا کی آواز نہیں تھی ،بلکہ یہ کسی بھی جنبش کی آواز نہیں تھی۔ کھنڈروں کی آواز،میں نے سوچا اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے سامنے دہا نے کے بجائے کوئی آنکھ ہے اور اندھیرے میں چھپے ہوئے کھنڈر اس کے سیاہ حلقے سے مجھے گھور رہے ہیں۔ پھر بھی دیرتک اس سنسناتے ہوئے اندھیرے میں دیکھنے کی فضول مشق کر کے میں واپس آگیا۔ ‘‘

اس سے کہیں زیادہ سیمیامیں سفید چبوتروں پر سیاہ پایوں والا منظر ،بائی کے ماتم دار میں دلہن کا ہار راوی کے بٹن میں پھنس جانے کا واقعہ ،سلطان مظفر کا واقعہ نویس ،شیشہ گھاٹ ،وقفہ اور اکلٹ میوزیم وغیرہ کے کئی مناظرخواب کا زائیدہ معلوم ہو تے ہیں۔ اسی لیے پروفیسر قاضی افضال حسین نے لکھا ہے کہ

 ’’غیر موجود کو موجود کی لفظیات میں (یعنی واہمہ ؍غیر مرئی کو ،مرئی ؍واقعہ کی زبان میں ) بیان کرنا نیر مسعود کا خاص فن ہے۔‘‘ (نیر مسعود کا افسانہ ،قاضی افضال حسین ،مشمولہ کتابی سلسلہ ،کہانی گھر ،لاہور ۲۰۱۲ ،ص:۹۸)

عدم تعین اور سراسیمگی نیر مسعود کے افسانوں کی خصوصیت ہے اور ان کے افسانوں کی مبہم فضا پر اسرار زندگی سے عبارت ہے۔ جس طرح انسانی زندگی پیدائش سے لے کر موت تک مکمل اسرار ہے اسی طرح نیر مسعود کے افسانوں کی تہہ میں مختلف طرح کے اشارے پوشیدہ ہیں جنھیں پوری طرح گرفت میں لینا ممکن نہیں۔ ’’مارگیر ‘‘میں زہر مہرہ کا غائب ہونا اور اس پر مارگیر کا یہ کہنا کہ ’’ایسی چیزیں واپس ملنے کے لیے غائب نہیں ہوتیں ‘‘؍’’بستی یوں ہی ختم ہو رہی ہے ‘‘اور مارگیر کے مکان میں ہر طرف مردہ سانپوں کا پڑا رہنا ایسی مبہم باتیں ہیں جوتعبیر کی گرفت میں نہیں آتیں۔ ان کے مدعا کی تفہیم کے سلسلے میں محض اتنا دعوی کیا جاسکتا ہے کہ اس پیچیدہ بیانیہ میں زندگی کی لا یعنیت کو پیش کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے استعارے اور علامتیں وضع نہیں کی ہیں اس کے باوجود  مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی ہر کہانی ایک استعارہ ہے۔ زندگی کی بے معنویت بیان کرنے لیے انھوں نے ایک خاص انداز اختیار کیا ہے جس طرح انسان کی زندگی کا اختتام سمجھ میں نہیں آتا اسی طرح ان کے افسانوں کا اختتام غیر واضح ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ کسی خاص نقطہ تک پہنچنا ناممکن سا لگتا ہے۔ افسانہ ختم ہونے کے بعدقاری خاموشی اور سناٹوں کی منطق سمجھنے میں غلطاں و پیچاں ہو جاتا ہے۔

نیر مسعود نے زبان کی لکنت ،کپکپاتی ،لہراتی اور لرزاں آوازوں کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ غیر موجود اور خاموشی کو بیانیہ میں اظہار کی سطح پر شامل کرنے کا فن آسان نہیں لیکن نیر مسعود نے بڑی خوبی کے ساتھ خاموشیوں کی آئینی تصویریں پیش کر دی ہیں۔ افسانہ ’’سیمیا ‘‘میں لکھتے ہیں :۔

’’چند قدم پیچھے ہٹ کر میں نقش دیکھ رہا تھا۔ اس وقت مکان کے کسی دور افتادہ حصے میں آہٹ ہوئی یہ زمین پر ننگے پیروں کے پڑنے کی آواز تھی جو میری طرف آرہی تھی۔ ‘‘

اس پورے منظر میں راوی کہیں یہ نہیں بتاتا کہ اس کے مکان میں دو اجنبی شخص داخل ہو گئے تھے۔ لیکن ان کے چلنے سے پیدا ہونے والی آہٹ اور ان کی بے احتیاطی کی وجہ سے ابھرنے والی آوازوں سے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ دونوں اجنبی تھے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر انھوں نے جائے واردات کی کیفیت بیان کرنے کے بجائے ابھرنے والے آوازوں کی کیفیت بیان کر دی ہے جس سے واقعہ ؍ یا حادثہ کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ نیر مسعود نے آوازوں سے کیفیت اور عمل دونوں کا تعین کیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے کردار بھی بہت کم گو اور خاموش مزاج ہوتے ہیں یہی نہیں ان کے بیشتر افسانوں میں راوی یا کسی کردار کے خاموش ہو جانے کا واقعہ ضرور ملتا ہے۔ ’’اوجھل‘‘ میں راوی کا بولنا ،چھوڑ دینا ،نصرت میں جراح کی کم گوئی ،’’مارگیر‘‘ میں مارگیر کی خاموش مزاجی ،’’سیمیا ‘‘میں فضا کی پر اسرارخاموشی ،’’مسکن ‘‘کے آخر میں ایک بیمار شخص کا خاموش ہونا،’’بائی کے ماتم دار‘‘ میں دلہن ،بائی ،اور ان کے شوہر کے خاموش عوامل ،’’تحویل‘‘ میں راوی کے بیشتر سوالات پر نوروز کا جواب نہ دینا ،’’بن بست ‘‘میں موجود عورت کی یکسر خاموشی کے بعد مختصر اور کرخت جوابات اور’’ شیشہ گھاٹ ‘‘میں راوی کی ہکلاہٹ سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے تلخ حقائق بیان کرنے میں زبان ساتھ نہیں دے رہی ہے اور انسان کی حیثیت ایک خاموش تماشائی کی سی ہوگئی ہے۔ ان تمام افسانوں کے خاموش کردار اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ خاموشی اختیار کرتے ہیں اس لیے اسے حقیقت تک نطق کی نارسائی کے المیہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

نیر مسعود کے افسانے فلسفیانہ شدت سے عبارت ہیں۔ جہاں حزن و ملال اور خاموشی کو انکشاف ذات تصور کیا جا تا ہے۔ اسی لیے ان کی افسانوں میں بیماری اور گہرے زخم کا ذکر ہوتا ہے ،ایسا زخم جس کے نشانات مشکل سے ختم ہوتے ہیں۔ نیر مسعود کی تحریریں واضح کرتی ہیں کہ فکشن حقیقت کی نمائندگی نہیں بلکہ حقیقت کے متضاد کوئی رازہے۔ اس کی بہترین مثال ’’بن بست ‘‘ہے۔ اس میں ایسی افسانوی اور تخیلاتی فضا تشکیل دی ہے جس کا پورا وجود سراب کی مانند لگتا ہے۔ ’’عطر کافور ‘‘پریشان خیالی اور مدفون جذبات کو ابھارنے کی کہا نی ہے۔ لیکن اس خیال کو مصنف نے عطر بنانے کے عمل سے اس طرح واضح کیا ہے کہ پورا بیان غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کے افسانوں کے متعلق یہ خیال عام ہے کہ ان کی کہانیاں قاری کو غیر حقیقی ہونے کا دھوکہ دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ نیر مسعود کے نزدیک ادب کا مقصد حقیقت کی بازیافت نہیں بلکہ وجود کے پر اسرار اور مخفی گوشوں کی دریافت ہے کیوں کہ روز مر ہ کے خارجی حقائق واقعہ نہیں بلکہ غیر مرئی چیزیں جو صرف محسوس کی جاتی ہیں انھیں آئینہ کر دینے سے افسانوی ادب میں واقعہ ظہور پذیر ہوتاہے۔

اردومیں تہذیبی ، سیاسی ،سماجی ،معاشرتی و معاشی مسائل پر کہانیاں لکھی گئیں ہیں لیکن نیر مسعودنے ’’طائوس چمن کی مینا ‘‘  ’’مارگیر ‘‘  ’’گنجفہ ‘‘ جس انداز سے لکھی ہے اب تک اس درجہ کی کوئی کہانی سامنے نہ آسکی۔  نیر مسعود کے افسانوں کے مطالعہ کے بعد کوئی منطقی نقطہ بآسانی گرفت میں نہیں آتا تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے یہاں خلا، ابہام، خاموشی ، آوازیں وغیرہ ایک خاص احساس پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی غرض سے ابھاری جاتی ہیں۔ وہ خاص احساس وجود کو تسکین دینے کا احساس ہے۔ انسانی وجود کے ہونے اور زندگی کی بے معنویت دونوں کے تجربے انھوں نے ایک ساتھ پیش کیے ہیں۔ تنہائی ،بیماری ،شکست وغیرہ اسی نقطہ کو بیان کرنے کے چند مخصوص حربے ہیں۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close