ادب

وفاؔ نقوی کے کلام میں سائنس

انجینئر محمد عادل ؔفراز

  (علی گڑھ، یوپی)

شاعری کی دنیا ایک ایسی طلسماتی دنیا ہے جو اپنے ذرے ذرے میں بے کراں وسعت رکھتی ہے جس کی گہرائی اور گیرائی تک پہنچنا سہل نہیں ہوتا۔ جب ایک با شعور اور صاحبِ فہم قاری اس راہ کا مسافر ہوتاہے تو لمحہ لمحہ نئی فکر سے آشنا ہوتا چلا جاتاہے۔ اُس کی آنکھوں میں ایسے ایسے ابواب روشن ہوتے ہیں کہ جن تک عام قاری رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ پل بھر میں صدیوں کی مسافت طے کرکے اہلِ زمانہ کو متحیر کردیتا ہے۔ ایک ایسا صاحبِ نظر جس کا مختلف علوم و فنون سے رشتہ ہو اور مطالعہ وسیع ہو وہی شاعری کی تہہ میں اُتر کر گوہرِ مراد حاصل کرتا ہے۔ شاعری جہاں ایک فن ہے وہیں شعر شناسی بھی کسی طرح فنِ شاعری سے کم نہیں۔ اچھی شاعری محدود نہ ہوکر زمان و مکان کی قید سے باہر ہوتی ہے اور مختلف زاویوں سے متاثر کرتی ہے۔

       بظاہرشاعری اور سائنس کا الگ الگ میدان ہے لیکن پھر بھی ایک منطقی شعور کم و بیش سائنس اور ادب دونوں میں اپنے ہونے کی مثال پیش کرتا ہے اور سماج کو ترقیوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور یہ بات بھی روزِروشن کی طرح ظاہر ہے کہ جدید دور میں سماج کی ترقی کا دار و مدارسائنس کی ترقی پر مبنی ہے اور اس کی ترقی معاشرے کی ترقی ہے۔ اور یہی انسان کو بلندی کی راہ پر گام زن کرتی ہے۔ انسان کے ذہن میں ایک شعور بیدارکرتی ہے جس سے تخلیقات و انکشافات کے لئے راہ ہموار ہوتی ہے۔ سائنس کم و بیش زندگی کے ہر شعبے میں کارفرمائی انجام دیتی ہے۔ اگر ہم اردو غزلوں پر غور و فکر کریں تو ہم پائیں گے کہ دور حاضرکی غزلیں ہوں یا دورِ قدیم کی غزلیں ان میں سائنسی رجحانات کسی نہ کسی طریقہ سے موجود ہیں۔ بس ہمیں شعروں کو سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ دیکھنے میں شاعر اور سائنسداں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لیکن دریافت کا ایک مشترکہ احساس، اور قدریں دونوں میں پائی جاتی ہیں۔ جس طرح ایک ماہر سائنس داں اپنے غور و فکر اور تجزیہ سے کسی شے کو دریافت کرتا ہے اسی طرح ایک شاعر بھی اپنے تجربات و تجزیات کا اظہار اپنے اشعار میں کرتا ہے۔ انگریزی ادب کے شاعر اور سائنسی مفکر’’شریک کارکولرج‘‘ کے مطابق ایک شاعر کی ذہنی صلاحیتیں ایک سائنسداں سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہیں وہ 1802میں چھپنے والے مجلہ”Lyrical Ballads”  میں ایک جگہ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’’سرآئزک نیوٹن جیسی پانچ سو ارواح ملائی جائیں تو ملٹن یاشیکسپئیر کی ایک روح بنتی ہے۔ ‘‘

 موجودہ دور کی سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی انسان کی جستجو، کاوشوں، اور اس کی ہزاروں برس کی تلاش کا ثمرہ ہے جو وہ قدیم دور سے کرتا رہا ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے تجسس سے پہیہ، ہل اورتیرکمان ایجاد کئے تھے سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوئے۔ یہ سب انھیں عظیم لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اپنے اطراف میں نقل و حمل اور جدید رسل و رسائل کا ایک جال دیکھتے ہیں جس کے سبب آج کی دنیا سکڑ کر انسان کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ میڈیکل سائنس کی ترقیوں کے باعث ہم ایسے مہلک امراض کا علاج دریافت کر سکے ہیں جن کو لاعلاج تصوّرکیا جاتا تھا۔ مثلاً انفلوئنزا، ہیضہ، میعادی بخار (ٹائیفائڈ) وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ زراعت کے میدان میں بھی اہم ترقی رونما ہوئی ہیں پودوں کی جینے ٹک انجینیرنگ ((Genetic Engineeringکے سبب سبز انقلاب وجود میں آیا۔ اور آج کے دور کاانسان ان ترقیوں کی راہ پر گام زن ہے جن کو قدیم دور کا انسان تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ آج سمندروں کی گہرائی، اور خلائوں کی بلندی پر جا پہنچا ہے، اورچاند اور مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے، اور آج بھی اس کی جستجو خوب سے خوب تر چیزوں کی تلاش میں جاری ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کی نظر کہاں جا کر ٹھہرتی ہے۔

ہے آرزو کہ ہو بہتر سے بہتری کا سفر

نظر کہاں پہ ٹھہرتی ہے دیکھنا یہ ہے۔

 وفاؔ نقوی

     اس مضمون میں وفاؔ نقوی کی شعری کاوشوں کے حوالے سے شاعری اور سائنس کے ربطِ باہم پر نگاہ کرنا مقصود ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وفاؔ نقوی کی شعری صلاحیتیں کس حد تک قارئین کو متاثر کر سکتی ہیں۔ وفاؔ نقوی کا نام سید بصیر الحسن نقوی ہے آبائی وطن شکارپور ضلع بلند شہر ہے۔ علی گڑھ جیسی علمی و ادبی سرزمین ان کا وطنِ ثانی ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی۔ اکثر و بیشتر جرائد و رسائل میں ان کی شاعری چھپتی رہتی ہے۔ جلدہی ان کا مجموعہ کلام ’’رنگ خوشبو صبا‘‘ منظرِ عام پر آنے والا ہے۔

سائنسی انکشافات کی بنا پر 118 عناصر کی دریافت ہو چکی ہے۔ تمام عناصر میں تین چوتھائی حصّہ دھاتیں اور ایک چوتھائی ادھاتیں ہیں۔ ہماری صحت کی حفاظت اورزندگی کے لئے بھی یہ بہت اہم ہیں۔ انسانی جسم میں 99% عناصر جو بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں ان میں ’’آکسیجن، کاربن، ہائیڈروجن، نائڑوجن، کیلشیم اور فاسفورس‘‘قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ پوٹاشیم، گندھک، سوڈیم، میگنیشیم، تانبے، زنک، سیلینیم، مولبڈینم، فلورین، کلورین، آئیوڈین، مینگیج

(Manganese) کوبالٹ، آئرن جیسے عناصر بھی ہماری انسانی جسم میں موجود ہوتے ہیں جو اس کی نشونمامیں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان عناصر کی کمی  یا زیادتی کے سبب انسانی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اور ہمارے جسم میں بہت سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ مثلاً’’ہڈیوں کا کمزور ہونا، اوسموٹک توازن کا بگڑنا، دانتوں کی بیماریاں، لیور کا متاثر ہونا، ہیموگلوبن کی کمی ہونا، گھیگھوا(Goitre) کا بننا‘‘وغیرہ وغیرہ۔ گویا جس انسان کو شاعری میں خاک کے پتلے سے تشبیہ دی جاتی ہے وہ صرف خاک کا وجود نہیں ہے بلکہ اس کا وجود مختلف اقسام کے عناصر سے وجود میں آیا ہے۔ اور اس کی ترتیب میں آیا ذرا سا بدلائو  زندگی کے لئے پریشانیاں پیدا کر سکتا ہے۔

خاک انسان کا وجود نہیں

سب یہ ترتیب ہے عناصر کی

وفاؔ نقوی کا یہ شعر انسانی وجود میں اہم رول ادا کرنے والے عناصر کی اہمیت کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شعر میں آیا لفظ ’’خاک ‘‘جیسا لفظ بھی بہت سے معنی و مفاہیم سمیٹے ہوئے ہے مثلاً جو عناصر مٹّی یعنی خاک میں بھی موجود ہوتے ہیں وہ کم و بیش انسانی جسم میں بھی پائے جاتے ہیں۔

ہماری زندگی کو رواں دواں رکھنے میں لہو یعنی خون کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس کی تعریف میں شاعروں اور ادیبوں نے بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ خون ہمارے جسم میں گردش کرنے والاایک سیال مادّہ ہے جس میں مختلف اقسام کے خلیات، غذائی و دیگر مادے تیرتے رہتے ہیں اور پورے جسم میں خون کے ساتھ چکّر لگاتے ہیں اس عمل کو  دورانِ خون(Blood circulation)  کہتے ہیں۔ اس میں موجود سیال(Fluid)  کو پلازمہ(Plasma) کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خون میں تین اقسام کے خلیات بھی موجود ہوتے ہیں جن کو سرخ خونی خلیات(Red blood cells) ، سفیدخونی خلیات(White blood cells) سوئم صفیحات (Thrombocytes)  کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عام آدمی کے لئے خون صرف ایک سرخ رنگ کا سیال مادّہ ہے جو اس کی رگو ں میں بہتا ہے۔ لیکن یہ بات  بہت دلچسپ اور حیرت انگیز ہے کہ کس طرح یہ سیال مادہ ہمارے پورے جسم میں سفر کرتا ہے۔ اس دوران بہت سے حیران کن معجزے ہمارے جسم میں رونما ہوتے ہیں۔ مثلاً جتنی دیر میں ہم پلکیں چھپکتے ہیں اتنی دیر میں کم سے کم بارہ لاکھ سرخ خلیے اپنے افعال مکمل کر کے مر جاتے ہیں۔ اور اسی دوران اتنے ہی نئے خلیے بن کر ہمارے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کام ہماری  ہڈیوں کا گودا (Bone Marrow)  انجام دیتا ہے۔ سرخ خلیوں کی عمر120 دن ہوتی ہے اس دوران ہمارا خون 75 ہزار مرتبہ ہمارے دل سے جسم تک اور جسم سے دل تک کا سفر طے کر چکا ہوتا ہے۔ ہمارے جسم میں موجود پلازمہ اور سرخ خلیے ایک منٹ میں تقریباً 72 مرتبہ اپنے صارفین کو اُن کی ضرورتیں مکمل کرتے ہیں۔ اس دوران انھیں 75 ہزار لمبی شریانوں اور وریدوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ وفاؔنقوی بہت ہی خوب صورتی سے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

گھروں میں آئے پلٹ کر تو یہ ہوا احساس

ہمارے ساتھ ہمارے لہوکی ہجرت تھی

’’ہمارے ساتھ ہمارے لہوکی ہجرت تھی‘‘ مصرع میں آیا لفظ’’ ہجرت‘‘  خون کو جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچانے اور اس کی کارکردگی کی طرف اشارہ کرتا ہوانظر آتا ہے۔

   شہری پھیلائو (Urbanization) ، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی نظام نے ماحولیات کی آلودگی کے ساتھ ساتھ سمندر، اور زیرِزمین موجود پینے کے پانی کے ذخیروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جس کے سبب آج پینے لائق پانی کی دستیابی کا مسئلہ در پیش ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان کی حکومتیں بھی اس کے لئے بڑے اقدامات کر رہی ہیں ساتھ ہی 2015-16  کو پانی کے تحفظ (Water Conservatio) سال کے طور پر منایا گیاہے۔ یہ بات ہم کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پینے کے پانی کا تحفظ کرنا زندگی کے لئے بہت لازم ہے۔ دنیا میں تین چوتھائی اور تقریباً 70  فی صد حصّے میں سمندر ہونے کے باوجود اس کے کھارے ہونے کی وجہ سے اس کے پانی کو پینے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔

شہروں میں لوگوں کو مجبور ہو کرپینے کے پانی کے لئے ایک اچھی خاصی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔

جھیلوں میں مچھلیوں کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہاں پر ہونے والی بارش میں تیزابیت زیادہ ہے۔ کیوں کہ تیزابی بارش کی صورت میں مچھلیوں میں انڈے دینے کی اور ان کے بچوں کے زندہ رہنے کی صلاحیت کافی گھٹ جاتی ہے۔ فیکٹریوں اور ملوں سے ٹھوس اور سیال مادے جب نالیوں کے ذریعہ دریائوں میں جا ملتے ہیں یا زرعی مقاصد کے لئے ڈالی گئی کھاد، چھڑکائو کی ہوئی جراثیم کش دوائیاں اور فضا میں پائے جانے والے مرکبات بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر دریائوں میں شامل ہوتے ہیں تو ان کا پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ یہ پانی نہ شہریوں کے استعمال کے لائق رہتا ہے اور نہ اس کو آبپاشی اور دیگر صنعتوں کے لئے کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اگر آلودہ پانی کو پینے کے استعمال میں لایا جائے تو کئی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جن میں ہیضہ، ٹائفائیڈ، جگر اور پیٹ کی بیماریاں قابلِ ذکر ہیں۔ اس پانی میں مچھلیوں کے علاوہ آبی پودوں اور جانوروں کا زندہ رہنا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ تحقیق کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچھلے پچاس برسوں میں سمندری پانی کے آلودہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً ایک ہزار آبی پودوں اور جانداروں کی نسلیں ناپید ہو چکی ہیں۔ یورپی ماہرین کے مطابق پانی کے جہازوں سے نکلنے والی گندک پر مشتمل دھواں آئے دن تیزابی بارش برسانے کی وجہ بنتا ہے۔ سائنس دانوں  نے اس بات کا پتہ لگایا ہے کہ فضاء میں میتھین(Methane) گیس سے متاثر ہونے والی تیزابی بارش گہرائی میں پائے جانے والے کئی جانداروں کے ناپید ہونے کا سبب بنی ہے وفاؔنقوی اس حقیقت کی عکّاسی کرتا ہوئے کہتے ہیں۔

مچھلیوں میں زہر کیسے آرہا ہے رات دن

 آج پانی میں ذرا اُترا تو اندازہ ہوا 

آبادی میں اضافہ ہونے کے سبب شہروں کی وسعت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی شہرخوب پھیلتے گئے اور جنگلات سمٹنے لگے۔ پیڑ پودوں کی بے تحاشہ کٹائی ہونے لگی۔ لیکن انسان یہ نہیں سمجھ سکاکہ وہ پیڑوں پر نہیں بلکہ اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا رہا ہے۔ اپنے قدرتی ماحول اور زندگی کو بربادی کی راہ پر گام زن کر رہا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس نے اپنے لالچ کی خاطر پیڑ پودوں سے حاصل شدہ فائدے کو در کنارکر دیا۔ اس نے جس تیزی سے جنگلات کاخاتمہ کیا اتنی رفتار سے پیڑ پودوں کو نہیں لگایا۔ ماحول سے آلودگی دور کرنے کے لئے آج زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ماحولیاتی توازن برقراررکھنے کے لئے جنگلات بے حد لازمی ہیں۔ در اصل جنگلات ایک ایسا قدرتی سرمایا ہے جس سے انسان کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ پھر بھی ترقی اور جدیدیت کی حمایت کرنے کا دعوہ کرنے والے افراد آج اس کی کٹائی کر رہے ہیں۔ ایک وقت ہوا کرتا تھا جب زمین کا 70 فی صد رقبہ 12ارب 80کروڑ ہیکٹیر جنگلات سے بھرا ہوا تھا جو آج سکڑ کر صرف 16 فی صد 2ارب ہیکٹیر ہی رہ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگلات کی اندھا دھن کٹائی کے سبب بارش کی مقدار، زیر زمین پانی کی سطح اور پانی کے دیگر قدرتی ذخیروں میں کمی آئی ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر سیلاب، خشک سالی، زمین کا کھسکنا(Land Slide) جیسے حالات رونما ہونے لگے ہیں۔

ماہرینِ نباتات و جنگلات کے مطابق 50ٹن وزن کا ایک صحت مند درخت اگر50سال تک زندہ رہتا ہے تو وہ 2لاکھ 50ہزار روپوں کی قیمت کی آکسیجن، 20ہزار روپوں کی پروٹین، 2لاکھ 5ہزار روپوں کے برابر مٹّی کا تحفظ، 3 لاکھ روپوں کے برابرآبی کنٹرول 2لاکھ50 ہزار کے برابر پرندوں کی حفاظت اور ساتھ ہی کیڑوں، پتنگوں کو بھی محفوظ کرتا ہے۔ اگر درخت سے حاصل شدہ پھل، پھول، لکڑی اورجڑی بوٹیوں سے حاصل شدہ آمدنی کا اندازہ لگایا جائے تو ایک درخت ہم کو تقریباً 18لاکھ روپوں کا فائدہ پہنچاتا ہے۔ درخت زمین کے محافظ ہوتے ہیں ان کی جڑیں پانی کو جزب کر لیتی ہیں اور وہ دور دور تک پھیل کر مٹّی کے کٹائو کو روکتی ہیں۔ اور وہ مٹّی کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں۔ جس زمین پر پیڑ پودے اور ہریالی نہیں ہوتی اس کی زرخیزی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے ساتھ ہی سیلاب اور بارش کے پانی کے سبب مٹّی کے کٹائو کے امکانات بڑھنے لگتے ہیں۔ درختوں کی اندھا دھن کٹائی انسانی زندگی کے لئے بہت بڑے خطرہ کی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ وفاؔنقوی اپنے اشعار میں درختوں کی کٹائی کے سبب ہونے والے نقصانات کی ترجمانی کچھ اس طرح کرتے ہیں۔

        درخت کاٹنے والوں نے یہ نہیں سوچا

        کہ اپنی موت کا سامان کر رہے ہیں ہم

         تودۂ خاکِ بدن آبِ رواں خوب ہوا

            اب کے برسات میں مٹّی کازیاں خوب ہوا

  قوس قزح کا بننا ایک انوکھا اور حسین منظر ہوتا ہے۔ اس کا وجود آسمان میں اکثربارش ہونے کے بعدعمل میں آتا ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر سے قوسِ قزح آسمان میں اس وقت دکھائی دیتا ہے جب بارش ہونے کے بعد پانی کے قطرات ہوا میں ٹھہرجاتے ہیں، سورج کی کرنیں جب ان قطرات پرپڑتی ہیں تو قطرے منشور(Prism) کی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح منشور روشنی کی کرنوں کو مختلف رنگوں میں تقسیم کر دیتا ہے بالکل اسی طرح یہ پانی کے قطرات سورج کی روشنی کو سات مختلف رنگوں کی شعاعوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ جس کے سبب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک خوب صورت اور دلکش قوسِ قزح یا دھنک(Rain Bow) ظاہر ہوتا ہے یہ ایک کمان کی شکل میں ہوتا ہے اس لئے اس کو’’ اندردھنُش‘‘ سے بھی پکارا جاتا ہے۔ وفاؔنقوی کی غزل کا یہ شعر دھنک کے رنگوں کے وجود میں آنے سورج اور آسمان کے باہمی اور انوکھے رشتہ کو اس طرح بیان کرتا ہے۔

میں اُفق ہوں مرا سورج سے ہے رشتہ گہرا

 ایک دو رنگ نہیں ساری دھنک ہے مجھ میں

وفاؔنقوی

  انسانی دماغ ایک حیرت انگیز معجزہ ہے۔ بظاہر یہ ہمارے جسم کا ایک حصّہ ہے لیکن ہماری شخصیت، ہمارے ردِعمل، پسند اور ناپسند، صلاحیتوں، سوچ ا ور فکر، جزبات، احساسات، خیالات سے اس کا گہرا رشتہ ہے۔ آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پیر کے چلنے اور کام کرنا سب دماغ  کے احکامات کے مطابق عمل کرنا ہے یعنی ہمارے جسم کی ہرحرکت اس کے حکم کے طابع ہے۔ بھوک، پیاس کا لگنا، سردی، گرمی کا محسوس ہونا، ڈرا ور خوف، گھبراہٹ وغیرہ یعنی ہر خواہش اورموڈ کے بارے میں یہی ہم کو معلومات فراہم کرتا ہے۔ جب انسان جزبات و احساسات کی منزل سے گزرتا ہے یا بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو اس مرحلہ پر انسان کے دل کی ڈھرکن بڑھنا لازمی ہوتا ہے کیوں کہ اس وقت دورانِ خون میں تیزی آجاتی ہے جو ایک فطری عمل ہے۔ لیکن اس عمل کا تعلق بھی ہمارے دماغ کے سبب ہی ممکن ہے۔ جب انسان کسی کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے یا اس پر جنونی کیفیت طاری ہوتی ہے تو اس وقت انسانی دماغ میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ وفا ؔنقوی اس بات کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کیا جانے کب اترنے لگے وہ دماغ پر

کوئی جنوں کا وقت مقرر نہیں ہوا

   بغور دیکھیں تومندرجہ بالا شعرمیڈیکل سائنس کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس بات کی تصدیق آج کے  Neurologists بھی کرتے ہیں برطانویNeurologists کایہ کہنا ہے کہ عشق ایک خاص دماغی عمل ہے جس کے دوران دماغی حصّے متاثر ہوتے ہیں اور دماغی حصّوں میں تحریک تیز ہوجاتی ہے۔

ماہرینِ فلکیات کے مطابق کائنات کا وجود ایک بڑے دھماکے(Big Bang)کے بعد وجود میں آیا۔ دھماکے کے بعد ایک زور دار ہلچل ہوئی اور خلاء میں دور دور تک ملبہ پھیل گیا جس سے کہکشائیں وجود میں آئیں اور اب بھی یہ مسلسل گردش میں ہیں اور پھیل رہی ہیں۔ ہمارا نظامِ شمسی بھی اسی طرح بنا  ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج کے چکّر کاٹنے والے ہمارے نظامِ شمسی کے سیارے ـــ’’عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون، پلاٹوــ‘‘ بھی سورج کے ہی ٹکڑے ہیں جو ایک طاقت ور ہلچل کے سبب ٹوٹ کر سورج سے نکلے ہیں۔ آج کے جدید دور میں ماہرینِ فلکیات  نے ان آسمانی ہلچل اور اجرامِ فلک کا مشاہدہ کرنے کے لئے بڑی بڑی دوربینوں (Telescopes) اور سیٹلائٹ ڈیزائن کئے ہیں تاکہ رات دن خلائوں میں ہونے والی ہلچل پر ہر لمحہ نظر رکھی جاسکے۔

رات کی تاریکی میں جب ہم آسمان کامشاہدہ کرتے ہیں تو ہم کو ستاروں سے منّور ایک حسین منظر نظر آتا ہے۔ ہم کو ستاروں کے بے شمار جھرمٹ نظر آتے ہیں جن کو ہم اعداد و شمار میں بھی نہیں لا سکتے ہیں۔ ہمارا سورج خود ایک ستارہ ہے اس کا تعلق ایک تقریباً ہزار ملین ستاروں کے جھرمٹ سے ہے۔ اجرامِ فلک کا یہ جھرمٹ کہکشاں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی کہکشاں میں ہماری زمین اور نظامِ شمسی میں شامل سیّارے بھی ہیں۔ لیکن سیّاروں میں اپنی روشنی نہیں ہوتی ہے یہ سب سورج کی روشنی کے عکس کے پڑنے پر چمکتے ہیں اور رات میں ہم کو ایسا دھوکاہوتا ہے جیسے یہ سیّارے نہ ہوکر خود ستارے ہیں، مثلاً مشتری، زہرہ، مریخ، زحل میں ایسی چمک دکھائی دیتی ہے جس سے ان کا ستارے ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیّاروں کے گرد گردش کرتے ہوئے چاند بھی ایک چمک دار منظر پیش کرتے ہیں۔ کچھ ستارے پھیلتے اور سکڑتے ہیں، کچھ ستاروں کی مسلسل روشنی نہیں ہوتی، کچھ ہماری قوتِ بینائی سے اتنی دور ہیں جن کی روشنی ہماری آنکھوں تک نہیں پہنچتی، کچھ ایسے بھی ہیں جن کی روشنی سفر میں ہے، کچھ ہمارے سورج سے ہزار گنا وسیع ہیں لیکن دور ہونے کے سبب چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ اسپیس ریسرچ میں مصروف ناسا جیسی ایجنسیوں نے اپنے تجربات اور دوربینوں کے مشاہدات کے ذریعے اس بات کی ترجمانی کی ہے کہ ہماری کائنات میں صرف ہمارا ہی سورج اور نظامِ شمسی نہیں ہے اس کے علاوہ بھی کائنات میں اربوں کہکشائوں اور آفتابوں کا وجود موجود ہے۔ نظامِ شمسی میں آفتاب کے ساتھ ساتھ سیارے موجود ہیں

اور ان سیاروں کے ارد گرد چاند گردش کر رہے ہیں جن کا حقیقی اندازہ لگانا بھی دشوار ہے لیکن اگر ہمارے نظامِ شمسی میں اگرسیاروں کے 63 چاند دریافت ہو چکے ہیں تو ہماری کائنات میں موجود ان لاکھوں ستاروں کے نظام میں کروڑوں چاند وں کی موجودگی سے ہرگز انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ہیں کہیں چاند اور کہیں تارے

دیکھتا ہوں میں آسماں کتنے

موصوف کا یہ شعر آسمانوں اور خلائوں کی وسعت کا ترجمان ہے۔

 جس طرح ہماری کائنات لگاتارپھیل رہی ہے اسی طرح اس کا خاتمہ بھی ایک ممکنہ صورت’’ بگ کرنچ‘‘(Big Crunch)کے سبب ہوگا جس میں ایک عظیم دھماکا ہوگا اور مسلسل پھیل رہی یہ کائنات سکڑنا شروع کردے گی یہ عمل بالکل ’’بگ بینگ‘‘ کے عمل کا الٹا ہوگا جس کے نتیجہ میں کائنات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ وفاؔ نقوی بہت ہی خوب صورت انداز میں اس کی ترجمانی کرتے ہیں۔

رشتہ نہ ٹوٹ جائے خلاء کے مکان سے

سورج کا بوجھ اٹھتا نہیں آسمان سے

وفاؔنقوی

   المختصر اختصار کے مدّ نظر آخرِ مضمون میں یہ بات کہہ کر اختتام کیا جاتا ہے کہ شاعر اور سائنس داں میں جہاں بہت سی باتوں میں فرق ہے وہیں ان میں بعض مقامات پر یکسانیت بھی پائی جاتی ہے چونکہ وہ دونوں اپنی آس پاس کی دنیا اور اپنے ماحول کو اپنی مخصوص نگاہوں سے دیکھتے ہیں ان کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سائنس داں حقیقتوں کے انکشافات سے اپنی تحقیق آگے بڑھاتا ہے اور ایک شاعر خیالات و تصورات کی دنیا کو حقیقت بنا کر اپنے وجود کا حصّہ بنا لیتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close