ادبغزل

پھر سرِ شام مل گیا کوئی 

پھر سے صحرا میں گل کھِلا کوئی

مجاہد ہادؔی ایلولوی

پھر سرِ شام مل گیا کوئی
پھر سے صحرا میں گل کھِلا کوئی

پھر کسی کا سہاگ اجڑا ہے
"پھر نشیمن کہیں جلا کوئی”

پھر کسی نے ضمیر بیچا ہے
کارواں پھر سے لُٹ گیا کوئی

آسماں پر دھنوا بتاتا ہے
"پھر نشیمن کہیں جلا کوئی”

رب کے دربار میں بھی جانا ہے
تم سے سرزد نہ ہو خطا کوئی

اس کو آرام کرنے دے ائے موت
آیا ہے پھر سے رَت جگا کوئی

جو بچالے بھنور سے کشتی کو
ہے کہیں ایسا ناخدا کوئی

کس خطا کی مجھے سزا دی ہے
کیوں مجھے دے گیا دغا کوئی

بت کدے میں اذاں دے جو پھر سے
ایسا  ہے  بندہ  خدا  کوئی

کس کی چوکھٹ پہ سر جھکائیں ہم
رب نہیں تیرے ماسوا کوئی

مجھ کو اس ملک سے محبت ہے
یہ خطا ہے, تو ہے سزا کوئی

میں عدالت سے تھک گیا یا رب
اب تو ہی کردے فیصلہ کوئی

ہے محبت کی مجھ کو بیماری
اس مرض کی ہے اب دوا کوئی

سب کو مخمور کردے جو ہادؔی
نغمہ ایسا تو بھی سنا کوئی

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close