ادبافسانہ

چراغ کی لَو

زائرحسین ثالثی

(جعفرآباد)

مولوی حسین علی کے دروازے پر مجمع کثیرہے کچھ لوگ اندر بیٹھے ہوئے ہیں مگر قبرستان ساسناٹا چھایا ہوا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے ہاتھ میں تسبیح اور دُعاؤں کی کتابیں ہیں۔ درمیان میں مولوی حسین علی بیٹھے ہوئے ہیں۔ سامنے  اونچائی پر ایک چراغ جل رہا ہے سب کی نگاہیں جلتے ہوئے چراغ کے اوپر ہیں پلکیں ساکت ہیں لیکن تسبیح اورہونٹوں کی پنکھڑیوںکی حرکت کے ساتھ آہستہ آہستہ ذکر خدا جاری و ساری ہے۔ آنسو آنکھوں کی پاسداری میں لگے ہوئے ہیں۔

چراغ کی مدہم اور تیز ہوتی لَو کے ساتھ ہی سب کے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگتے ہیں اور دل کی دھڑکنوں کے ساتھ سانسیں بھی تیز تیز چلنے لگتی ہیں۔ اس قدر بھیڑ ہونے کے بعد بھی اتنی خاموشی کسی واقعہ کی طرف اشارہ رہی ہے۔

انگریزوں کا زمانہ ہے۔ انگریز کرنل جانسن ؔجب بھی گاؤں میں آتا لوگوں کو پریشان کرتا محلہ سے قریب اُتّری علاقے پر پولیس چوکی ہے۔ گاؤں کے لوگ جب بھی ٹونس ندی کے مولوی کھاٹ پر نہانے جاتے توانگریز کرنل جانسن سب کو بلاوجہ پریشان کرتا۔ ایسے ہی ایک دن گاؤں کے کچھ بزرگ اور نوجوان جس میں حاجی بدل، دادو خان، ملا جعفر،حسنین،ہاشم، شمع،فیضی، ندی سے اشنان کرکے آرہے تھے۔ ابھی کالی ماں کے مندر کے پاس ہی پہنچے تھے کہ کرنل جانسن نے ان کا راستہ روک لیا۔ بندوق کی نوک سے حاجی بدل کے بازو کو زخمی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اوبڈّھے ’’ تم ہندوستانی ہم انگریزوں کے غلام ہو، تمھاری حیثیت میرے جوتے کے تلوے سے زیادہ نہیں چل پہلے میرے جوتے صاف کر نہیں توبندوق کی گولیاں ہوں گی اور تمھارا سینہ۔ حاجی بدل زخم سے کراہ اُٹھے۔ بازو کے رستے ہوئے خون نے چند لمحوں میں سفید کُرتے کی آستین کو سُرخ کر دیا۔ روزروز کا ظلم آج اپنی زندگی کی حدیں پار کر چکا تھا۔ یہ ظلم ان کے ساتھیوں سے نہ دیکھا گیا آناً فاناًملاّجعفرکا ہاشم کو اشارہ ہواہاشم نے جھپٹ کر کالی ماں کی مورتی میں لگے ہوئے ترشول کو حاجی بدل کی طرف پھینکا۔ اس سے پہلے کہ کرنل جانسن سنبھل پاتا حاجی بدل نے ترشول کولپکا اور کرنل کے سینے میں اتاردیا۔ کرنل زمین پر گر پڑا سب وہاں سے اس کو مردہ سمجھ کر بھاگے۔ بات آگ کی تیزی سے پھیل گئی جب اِنسپکٹر (Inspector) میکالے کچھ سپاہیوں کے ساتھ اس کے پاس پہنچا تو وہ زندہ تھا۔ تھانے دار نے کچھ زیادہ جاننے کی کوشش کی مگر چند ہی بات کے بعد کرنل ٹھنڈا ہو چکا تھا۔

 محلے میں تلاشی ہونے لگی جب پتہ نہ چل سکا تو اِنسپکٹرمیکالے نے دو دن کے بعد ناگ پنچمی کے دن سب کو صحن اکھاڑہ پر اکھٹا ہونے کا فرمان سنا دیا۔ صحن اکھاڑہ وطن کے جنوبی کنارے کی طرف ایک بڑا چبوترہ جہاں ۱۰؍صفر کوبی بی سکینہؐ کا تابوت اٹھتاہے اور ناگ پنچمی کا تیوہار بھی منایا جاتاہے۔

تمام لوگوںنے طے کیا کہ جب اِنسپکٹر کچھ پوچھے تو سب مل کر کہیں گے کہ ہم نے مارا ہم نے مارا سب بچ جائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

ناگ پنچمی کا دن آگیا آج یہاں ناگ پنچمی کا تیوہار نہیں تھا بلکہ موت اور زندگیکی آہٹیںدور نزدیک سے محسوس ہورہی تھیں۔ سب اکٹھا تھے۔ اِنسپکٹرمیکالے لا تعداد سپاہیوں کے ساتھ کُرسی پہ بیٹھا ہے۔ خاموشی اس قدر ہے کہ درختوں کے پتوں کے کھڑکنے کی آواز صاف سنائی دے رہی ہے۔ اِنسپکٹرمیکالے کھڑا ہوتا ہے اور اپنی بات شروع کرتا ہے کہ ہمارے کرنل نے ہم سے مرنے سے پہلے یہ بیان دیا کہ اس کو اسی محلہ کے کچھ بڈھوں اور نوجوانوں نے مل کر مارا ہے۔ اس کے آگے کچھ اور کہتے کہ ان کو موت آگئی۔ قاتل اپنے آپ کو ہمارے سامنے پیش کر دیں۔ نہیں تو آج ہمارے سپاہی خون کی ہولی کھیلنے کے لئے تیار ہیں۔
سب ایک دوسرے کا منھ دیکھنے لگے۔

اِنسپکٹرمیکالے خاموش ہو گیا سب ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملاتے کہ  پہلے ہی حاجی بدل،ملا جعفر، دادوخان،فیضی، ہاشم نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ سب کو ہتکڑیاں پہنائی جانی لگیں۔ شمشہ اپنے چھت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ ادھر ہاشم کے ہاتھ میں جیسے ہی ہتکڑی ڈالی گئی شمشہ اپنے چھت سے یہ منظر نہ دیکھ سکی چیخ مار کر گری اور بے ہوش ہوگئی۔ آج ہی کے دن ناگ پنچمی کے موقع پر جس جگہ شمشہ کی نگاہیں ہاشم سے ٹکرائی تھیں۔ آج اس کا ہاشم اسکی نگاہوں کے سامنے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

 شام ہو رہی تھی شفق کی سرخی آسمان کے نیلگوںکنارے کو لالہ زار بنارہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی کے قتل کا پیغام دے رہی تھی۔ ایک طرف مولوی حسین علی کے گھر دعا کا سلسلہ جاری تھا تو دوسری طرف شمشہ مصلّے پر بیٹھی بارگاہ ربّ کریم میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے ہوئے تھی۔ آنسو موتیوں کی صورت میں بکھرتے جارہے تھے جن کو سمیٹنے والا اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا تھا۔

 شمشہ ماضی کے حسین لمحات میں گم ہوگئی۔ ناگ پنچمی کا دن تھا یہ تیوہار  ہندوؤںکے ساتھ مسلمان بھی مناتے۔ ناگ پنچمی کے دن اکھاڑے پہ دنگل ہو رہاتھا ہاشم اور شمع میں کشتی ہو رہی تھی دونوں ایک دوسرے کو چت کرنے کے دُھن میں تھے کچھ دیر ہاتا پائی ہوئی آخر ہاشم نے موقع پاکر شمع کو چاروں خانے چت کر دیا۔ تالیوں سے پورا صحن گونج رہا تھا ہاشم ہاتھ کی مٹی جھاڑتے ہوئے جیسے ہی کھڑا ہوا سامنے چھت پر شمشہ کھڑی تھی نگاہیں ٹکرائیں ہاشم ساکت کھڑا اس کی تصویر اپنے دل میں اتارنے لگا کچھ نوجوان اس کا اشارہ بھانپ گئے تالیوں کے ساتھ سیٹیوںکا شور بھی بلند ہو گیاکشتی جیتنے کے بعد اب محبت کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔ اس خیال کے ساتھ شمشہ کی نگاہیں اور گلا بی ہوگئیں اور پلکوں پر ستاروں کی طرح دو آنسو جھلملانے لگے۔

دن ڈھل رہا تھاشام قریب تھی کائنات کی ہر چیز تھکی ہوئی معلوم ہو رہی تھی یہاں تک کہ خود نیچر اس معصوم بچے کی طرح جو ہاتھوں میں پھولوں کاایک پثرمردہ گچھا لئے ہوئے کھیلتے کھیلتے تھک کر سو گیاہوایک خواب مضمحل بن کر رہ گئی تھی۔

 آج کے دن پھانسی ہونے والی تھی جیسے ہی یہ خبر پہنچی پورے گاؤں میںسکتہ چھا گیا۔ جلتے ہوئے چھولھے ٹھنڈے ہو گئے کھانا ادھ پکا رہ گیا سب کی زبان پر بس ایک جملہ تھا اب کیا ہوگا اب کیا ہوگا۔ بس ایک ہی ذات تھی جو ان کو بچا سکتی تھی اور وہ ذات اللہ کی تھی۔ مولوی حسین علی کے مکان پر دعا کا اہتمام ہوا کہ پروردگارِعالم کوئی سبیل پیدا کرے کہ ان سب کی جان بچ جائے۔ چراغ جل رہا تھااس کی لَو کو ہوا کے طمانچے بار بار لگ رہے تھے۔ مولوی حسین علی نے اس کو روشن کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ چراغ اذان صبح کے بعد تک جلتارہا تو ہمارے بزرگ اور نوجوان پھانسی سے بچ جائیں گے اور اگر چراغ اذان صبح سے پہلے بجھ گیا تو پھرپھانسی یقینی ہے۔

 مولوی حسین علی وطن کی کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ عالم با عمل انسان تھے جو کہتے وہ ضرور ہو جاتا۔ ان کا گھر ہندو مسلم تہذیب کا گہوارہ تھا ان کے زمانے میں ہمیشہ ماہ رمضان کے بعد سارے مسلمان کی ایک ہی دن عید ہوئی۔
چراغ کی لو کبھی مدہم ہوتی کبھی تیز ہو جاتی۔

 دعا میں مشغول کچھ لوگوںکی آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی گر کر تسبیح کے دانوں سے ٹکرا کر ٹوٹ رہے تھے وقت رک سا گیا تھا ہر لمحہ جیسے ایک دن کے مانند گذر رہا تھا۔

 آخر وقت گذرا اذان صبح شروع ہوئی بے چینی کا وہ عالم تھا جو سانس اندر جاتی بڑی مشکل سے باہر آتی۔ اذان اور دعاؤں کا سلسلہ ایک ساتھ جاری تھا اذان ختم ہونے کے ساتھ ہی ’چراغ کی لَو‘ بلند ہوگئی اور اس کی روشنی ابھرتے سورج کی طرح دم بدم بڑھتی گئی۔
سب نے اپنے سَر بارگاہِ خدا وندی میں جھکا دئے۔ نماز ختم ہوئی سب آپس میںگلے مل رہے تھے مبارک باد دے رہے تھے ایسا لگتا تھا کہ نماز عید ختم ہوئی ہویقینا چھپتا ہوا چاند ابھرتا ہوا سورج عید سے پہلے ہی عید کا پیغام لے کر آیاتھا۔

پھانسی کافرمان جاری کرنے کے لئے کئی قلم بدلے گئے مگر اس سے پہلے وہ دعا ؤں کے شکنجے میں گرفتار ہو جاتے جج نے قلم توڑ دیا اور ان سب کو با عزت رِہا کر دیا۔

 سورج نے اپنی آمد کے ساتھ ان کے آنے کی خبر دی ہاشم، حسنین، دادو خان،حاجی بدل،ملا جعفر، فیضی جیل سے رہا ہو کر روضۂ شہزادۂ قاسمؑ میں آچکے تھے۔

عورت، مرد،نوجوان، بچے، بوڑھے سب گرتے پڑتے روضۂ قاسم ؑمیں پہنچ رہے تھے سب ایک دوسرے پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔

 ادھر ہاشم کے آنے کی خبرشمشہ کو بھی معلوم ہو چکی تھی وہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی اپنے محبوب کی آمد کے لئے اپنا دل بچھائے اس کے خیالوں میں کھو گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کیا وہ مجھے بھول چکا ہو گا نہیں ہرگز نہیں ؟جیل کی چہاردیوار میری محبت میںحائل نہیں ہوسکتی۔ سلاخوں میں وہ طاقت ہی نہیں جو میری محبت کی کرن اس کے دل تک پہنچنے سے روک دے۔ اس نے لاکھ ظلم سہے ہوں گے مگر وہ کس قدر حسین اور شریف ہے وہ مجھے نہیں بھول سکتا میرے دل کا دھڑکنا بتا رہا ہے کہ وہ مجھے اب بھی اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا کہ پہلے کرتا تھا۔

 شمشہ ہاشم کی ایک جھلک پانے کو بے قرار تھی مگر یہ نا ممکن تھا۔ والدین نے بیٹی کی محبت دیکھی ہاشم کے والدین سے کچھ بات ہوئی نماز مغربین کے بعد مولوی حسین علی کے چبوترے پر لوگوں کا مجمع تھا مولوی حسین علی نے ہاشم اور شمشہ کا صیغۂ نکاح پڑھنا شروع کیا ٹھنڈی اور معطر فضا کے ساتھ دل کو مسرور کرنے والی آوازسنائی دے رہی تھی۔

قَبِلْتُ النِّکَاحَ وَالتَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلَ الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْم

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close