ادبدیگر نثری اصناف

ڈاکٹر فرقان کے افسانوں میں ہندوستانی عناصر !

عزہ معین

زندگی اور ادوار تغیر پذیر ہوتے ہیں۔یہاں تبدیلی ضروری ہے۔ سماج میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمارے ادب اور اذہان پر بھی خاطر خواہ اثرڈالتی ہیں۔  دیکھا جائے تو ادب میں تحریکوں اور رجحانوں کے ذریعے ادب کی شکل و ہیئت کو ہمیشہ سے ہی تغیر پذیر رکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں اگر اکیسویں صدی کی بات کریں تو ادب میں تبدیل ہونے والی جہات اور ہندوستانی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کا ادب میں پیش کش کا جائزہ لیتے ہوئے یہاں میں اپنے مضمون کی موضوعی مناسبت سے افسانہ نگاری میں ہندوستانی عناصر کے ضمن میں پیش کرنا چاہوں گی امید ہے کہ آپ میری حوصلہ افزائی کریں گے۔

   اکیسوی صدی میں اردوفکشن اور ہندوستانی ثقافت ایک دوسرے سے ملی جلی ہیئت کے طور پر رونما ہوا ہے۔ہمارے نمائندہ افسانہ نگار   طارق چھتاری ،سید محمد اشرف ،صغیر رحمانی ،عبد الصمد،سلام بن رزاق،خالد جاوید، مشرف عالم ذوقی ،شموئل احمد ،ریاض توحیدی ،احمد صغیر ،ڈاکٹر فرقان سنبھلی ، محمد یامین ،نفیس احمد ،اطہر مسعود،نصرت شمسی وغیرہ اپنی تخالیق میں اپنی سرزمین کاعکس پیش کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے افسانوں میں رچے ہوئے شعور کے ساتھ ہندوستان کے مسائل ،روایات ،واقعات ،حادثات و حالات کو بیان کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ہے۔ہندوستان کے مسائل میں بے روزگاری اور نوجوان طبقے میں رائج تعلیمی سر گرمیوں سے دوری بنائے رکھنے کا عمل عہد حاضر کے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں میں بحسن و خوبی پیش کیا ہے۔

 ڈاکٹر فرقان سنبھلی کے افسانوں میں ہندوستانی اور قومی عناصر کے بیان کرنے کا انداز نرالا ہے۔سماج میں رونما ہونے والے واقعات کو بیان کرتے ہوئے وہ ان سبھی پہلوؤں کو سمیٹ لیتے ہیں جن کے ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے مجموعہ طلسم میں شامل پہلا افسانہ’ انصاف ‘بابری مسجد کی زمین پر ہونے والی سرد جنگ اور فیصلے کے ذریعے کی گئی بے ہودہ کوشش جو فساد کو بھڑکانے کے لئے کافی تھاکا پردہ فاش کرنے والا افسانہ ہے۔ہندوستانی قانون کی بکھرتی دھجیاں ،اس قانون کے بندھے ہوئے ہاتھ افسانہ ’انصاف ‘ میں ظاہر کردیے گئے ہیں۔

 ’اور سرحد کھو گئی ‘ تقسیم ہند اور اس کے نتائج کے طور پر پیش آنے والی ہنگامی اور حیرت انگیز پریشانیاں اجاگر کرنے کے لئے یاد رکھا جانے والا افسانہ ہے۔ افراد کا تیقن اس واقعہ کے بعد بری طرح مجروح ہو گیا تھا اس افسانے میں فرقان سنبھلی نے ان تمام پہلوؤں کا احاطہ  کرنے کی کوشش کی ہے جن کا ممکن ہونا ممکن تھا۔

  ’’سرحدگم ہو جانے سے دونوں حکومتیں اس قدر حواس باختہ تھیں کہ انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے وہ کیا اقدامات کریں۔سر حد غائب ہونے سے دونوں حکومتوں کے سامنے سب سے بڑی مشکل یہ   پیش آرہی تھی کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین تفریق کس بنیاد پر کی جائے۔بات دراصل یہ تھی کہ دونوں ممالک کے عوام کی قد کاٹھی ،رنگ روپ سے لے کر رہن سہن بھی کافی حد تک ملتا جلتا تھا۔ دوسری مشکل علاقے کی پہچان کو لے کر ہو رہی تھی کیوں کہ دونوں ممالک کے علاقوں کی زمین ،ماحول آسمان ،پہاڑ ،ندیاں اور جنگل بھی ایک جیسے ہی تھے۔ وہ تو سرحدی لکیر ہی تھی جو علاقے کی پہچان قائم  رکھے ہوئے تھی۔‘‘

 افسانہ’ تقسیم کے داغی‘ ہندوستان کی تقسیم کے متعلق بہت اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے۔اس افسانے میں ان عوامل کی طرف بلیغ  اشارے کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے یہ ناگوار واقعہ عمل میں آیا۔قائدین قوم کی حیثیت اور انگریز حکام کی بے جا تلخیوں اور ضدوں کی وضاحت کرنے کے لئے بھی یہ افسانہ بہت اہم ہے۔

  ’’ ماؤنٹ بیٹن نے جناح کو بیٹھے کا اشارہ کیا۔

 ’’میں ایک تجویز اور پیش کرتا ہوں۔‘‘

 ’’ میں کل جب تقسیم ہند کا منصوبہ میٹنگ میں پیش کروں تو آپ اس کی تائید ـــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

 ’’میں تائید نہیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘جناح نے بات بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے کہا۔

 ’’ اگر آپ اچانک جاگ اٹھے ضمیر کی بنیاد پر کھلے الفاظ میں تقسیم کی حمایت نہ کر سکیں تو آپ کسی بھی انداز میں اپنے سر کو تھوڑی جنبش دے دیں۔اس کے کیا معنی ہوئے اس کی ذمہ داری میں بخوبی نبھاؤں  گا۔‘‘

  ڈاکٹر فرقان نے افسانوں کو معاشرے سے جوڑے رکھا ہے ان کی تمام کہانیاں ہندوستان اوراس کی روزانہ کی زندگی سے اخذ کئے گئے معاملات سے ہی ماخوذ ہوتی ہیں۔یہاں کے نوجوان طبقے کی بے روزگاری ان کا اہم موضوع ہے۔یہاں پر رونما ہونے والے وہ واقعات جو نوجوان طبقے کو نو کری نہ ملنے کے باعث پیش آتے ہیں ، جن کے لئے نوجوان خودکشی جیسے اقدامات بھی اٹھا لیتے ہیں ان کی تحریروں سے منظر عام پر آتے ہیں۔افسانہ ’خوشی تیرا انتظار رہا ‘ میں آصف کی بے روزگاری اور اس سے بچنے کے لئے اٹھا یا گیا قدم خود کو معذور ظاہر کرنا اور سرٹفکیٹ بنوا کر نوکری حاصل کرنا پھر نوکری چھوٹ جانے کا المیہ اس کہانی کو بیان کرنے کا انداز بڑا پر اثر ہے۔

’’آصف نے کچھ دیر سوچا اسے یاد آیا کہ اس کی کمر میں ایک مرتبہ چوٹ لگی تھی تب سے کبھی کبھی اس کی ٹانگ  میں کھنچاؤ سا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کچھ وقت لنگڑا کر چلنے کو مجبور ہو جاتا ہے تو کیا اسے بھی معذور سر ٹفیکیٹ مل سکتا ہے۔اچانک اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔آصف سیدھا مؑذور محکمے کے آفس پہنچا جہاں سے فارم لے کر اس نے سی ایم او آفس میں چک اپ کرایا نتیجہ معلوم کیا تو وہ سناٹے میں  آگیا۔اسے بتایا گیا کہ وہ معذوروں کے زمرے میں نہیں آتا۔

  ’’لیکن سر۔۔۔۔۔۔۔میری ٹانگ ؟

مسٹر آصف۔۔۔۔۔۔آپ کی معذوری اس قسم کی نہیں ہے جس میں سرٹفکیٹ جاری کیا جاسکے

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوری‘‘ کہ کر ڈاکٹر بھی آگے بڑھ گیا۔آصف کو اپنا مستقبل پھر تاریک نظر آنے لگا۔وہ آہستہ  آہستہ سی ایم او آٖفس سے باہر نکل آیا۔‘‘

  ہمیں ڈاکٹر فرقان کے افسانوں میں معاشرے کی بے راہ روی کے خلاف آواز سنائی دیتی ہے۔ ہندوستانی سماج کے اندر پائی جانے والی وہ بیماریاں جو ہمارے سماجی ڈھانچے کو دھیرے دھیرے کمزورکر دیتی ہیں جس کا ہمیں احساس نہیں ہوتا۔ ان بیماریوں کی طرف فرقان سنبھلی اپنے افسانوں میں قاری کی توجہ بڑی ہوشیاری سے مبذول کراتے ہیں۔ مغربی طرز رہائش اور ہندوستانی طرز دو مخالف طرز ہیں۔ان کے افسانوی مجموعوں میں اپنی روایات کی پاسداری بھی مکمل انداز میں پائی جاتی ہے ’ طلسم‘ ،’دائمی جہیز‘ ،’اور سرحد کھو گئی‘ ،’تقسیم کے داغی ‘ وغیرہ اسی ذیل کے افسانے ہیں۔

 ہندوستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ تقسیم ہوا تو یہاں کے رہنماؤں نے اپنے مفاد کے قطع نظر کسی بھی طرف دھیان نہیں دیا۔ افسانے لکھنے کے لئے مصنفین نے اس موضوع کو بنیاد بنایا لیکن جو درد اور کرب ،فرقان سنبھلی کی ملک سے محبت ان کے دل میں ہے ا س کا اثر ان کے افسانے ’اورسرحد کھو گئی ‘ پر بخوبی نظر آتا ہے۔ یہ افسانوی مجموعے ’طلسم ‘میں شامل ہے۔ افسانہ ’ اور سرحد کھو گئی ‘ تخیل کی کارفرمائی کا بہترین نمونہ ہے اس افسانے کے لئے اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ تقسیم ملک کے بعد کیا حالات رونما ہوئے ہونگے،کتنے ہی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ کر بے بسی سے تڑپے ہونگے۔ کتنے والدین اپنے نور نظر کو کھو کر روئے ہونگے ،کتنے عاشق ماہی بے آؓ ب بنے ہونگے ،کتنے غریب، سیدھے سادھے کسان اپنی زمینوں اپنے مویشیوں کے لئے پریشان ہوئے ہونگے۔ ہمارا مجموعی مسلہ پانی کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے  ’آب حیات‘‘ افسانے میں پانی کومحفوظ کرنے کے لئے منفرد انداز میں پیغام دیا ہے۔ ہے۔ یہ افسانہ بلندیء خیال کابے نظیر مرقع ہے۔ عصری حسیت ان کے افسانو ں میں انفرادیت کے ساتھ کہانیوں کے متھنے کے عمل کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

  ’آب حیات‘ مجموعے میں شامل افسانہ ’زلزلہ ‘ سرمایہ داروں کے لالچ کی نئی شکل کو منظر عام پر لاتا ہے اور آخر میں خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے والی بات کو صحیح ثابت کرتے ہوئے اعتقادی فضا کی طرف مڑ جاتا ہے۔افسانہ ’انصاف ‘ مسلمانوں کے حق تلفی کا نقش اجاگر کرتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ سنت نبوی سے واقفیت کرانے کا جواز بنتا ہے۔یہ عدالت کی تعصبانہ کارروائی پر بہترین افسانہ ہے کون نہیں جانتا کہ بابری مسجد کے فیصلے سے مسلم فرقے نے کس قدر انتشاری کیفیت محسوس کی ہے۔’طلسم ‘،’شہادت کے بعد ‘،’راجہ کا محل ‘ وغیرہ بہترین تاریخی افسانے ہیں۔ ’مجھے معاف کروگے ‘ افسانچے کے ذریعہ بہت اختصار اور جامع انداز بیان میں عورتوں کو کردار کی حٖٖفاظت کی تلقین اور مردوں کی ناخدا ذات ، لاشریک فطرت کو پیش کیا گیا ہے۔ افسانہ ’سند ر لال بنیا‘ میں کیدار ناتھ کی قدرتی آفت کا نقشہ اور لالچ کے ہاتھوں مجبور کرداروں کا المیہ دکھایا ہے۔’

  ہندوستان کا المیہ جہیز کی لعنت سے نبرد آزمائی ہے۔ دائمی جہیز‘ معاشرے میں کینسر کی طرح پھیلتے غلط رسم و رواج اور لالچ کی ناؤ پر منحصر اذہان کے رویوں کو واضح کرنے کی شرائط پر لکھا گیا بہترین افسانہ ہے۔ ’ تقسیم کے داغی ‘ افسانے کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ فن کے ساتھ بہت بڑی بے انصافی ہوگی۔اس افسانے کا پس منظر ۱۹۴۷ ء کے ایک عظیم سانحے جس نے اپنوں کے درد سے ،قائدوں کے کرداروں پر متزلزل یقین سے،تاقیامت باقی رہنے والے افسوس وانتشار سے دوچار کیا تقسیم ہند پر مبنی ہے۔حقیقت کو پردوں سے نکال کر منظر عام پرواضح کرنے کا فخریہ کارنامہ انجام دینے والا یہ افسانہ ماؤنٹ بیٹن کی دور اندیشی اور اس کے خرافاتی ذہن کو قاری کے سپرد کرکے اسے تلخ حقیقت کے پیش رو کرتا ہے۔افسانے میں جناح اور آزاد ؔ کے کردار کو ان کی اصل شکل اورذہنیت کے ساتھ صفحہ قرطاس پر اتارا گیا ہے۔ایک اور قابل ذکر افسانہ ’خوشی تیرا انتظار رہا‘ایک حساس اور جذبات پر اثر انداز ہونے والا افسانہ ہے۔یہ ہندوستانی تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی بے بسی اور حکام کی بے اعتدالیوں کے ساتھ عہد یداروں کی بدعنوانی پر لکھا گیاہے۔ یہ کامیاب اور دور حاضر کا مکمل عکاس افسانہ ہے۔ اسی طرح مصنف نے اپنی تمام کہانیوں میں کسی نہ کسی اہم مقصد کو پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر فرقان اپنے اسلوب ’ موضوع مواد ‘ کردار اور پلاٹ کے اعتبار سے اپنے افسانوں کا بنیادی پہلو معاشرے کی ہی جہات سے لیتے ہیں۔وہ عصری تقاضوں اور مسائل کو جو صرف ہندوستان میں ہی درد سر بنے ہوئے ہیں اپنی تحریر میں ضبط قلم کرتے ہیں۔ان کے افسانوں کے مطالعے سے یقینی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر فرقان اپنے عہد کی بھر پور نمائندگی کر رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. Aapne jo apne mazmoon ko maqala likha hai…aapko maloom hona chahiye ke ye maqala nhi mazmoon hai…or aapne imla bhi durust nhi kiya hai….or

متعلقہ

Back to top button
Close