ادبغزل

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیں

شاہد کمال

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیں
ہم اپنی اپنی سہولت سے لڑتے رہتے ہیں

کہاں کسی کو ہے فرصت کسی سے لڑنے کی
یہاں سب اپنی ضرورت سے لڑتے رہتے ہیں

مداخلت نہیں کرتی ہے اپنی عجلت بھی
ہم اِن دنوں بڑی فرصت سے لڑتے رہتے ہیں

جو دیکھتے ہیں ترے عکس حُسن کی تمثال
وہ آئینے بھی تو حیرت سے لڑتے رہتے ہیں

یہ پیرہن بھی ترے قرب کی تمنا میں
ترے بدن کی نزاکت سے لڑتے رہتے ہیں

جو تونے زخم دیئے ہیں وہ اتنے وحشی ہیں
مرے لہو کی حرارت سے لڑتے رہتے ہیں

ہماری آنکھ مسلسل فریب دیتی ہے
ہمارے خواب حقیقت سے لڑتے رہتے ہیں

ہمارے شعر کسی اور سے نہیں لڑتے
مگر یہ اپنی سماعت سے لڑتے رہتے ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close