ادبغزل

کون کہتا ہے کہ دنیا میں فقط یاس ہے یار

میں نہیں مانتا یہ بات، یہ بکواس ہے یار

سفیر صدیقی

کون کہتا ہے کہ دنیا میں فقط یاس ہے یار

میں نہیں مانتا یہ بات، یہ بکواس ہے یار

ساتھ مل بیٹھیں اگر ہم تو غضب ہو جائے

عشق تم رکھتے ہو، اور درد مرے پاس ہے یار

ہجر تو آئے دنوں جھیلتا رہتا ہوں میں

مسئلہ ہجر نہیں، ہجر کا احساس ہے یار

پھوٹ پڑتا ہے مری آنکھوں سے قطرہ قطرہ

میری تقدیر میں جو چشمۂ افلاس ہے یار

آج کی رات بہت کام ہے آنکھوں کو مری

آج کچھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کا اجلاس ہے یار

کیا خموشی کو نہیں آتا ہے اظہار کا فن

کیا فقط لفظ ہی جذبات کا عکّاس ہے یار!

کیا ضرورت ہے کسی اور سہارے کی سفیر!

جب ترے پاس قلم و صفحۂ قرطاس ہے یار

مزید دکھائیں

سفیر صدیقی

سفیر صدیقی 1999 میں بہار کے ضلع سیوان میں پیدا ہوئے. اصل نام غلام محمد صدیقی ہے. آپ نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 2013 میں کیا تھا. تب سے وہ مسلسل لکھ رہے ہیں. 2017 میں ان کا پہلا مجموعہ”کوزہ فکر“ کے عنوان سے منظر عام پر آیا. ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بی اے آنرز کے طالب علم ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close