ادبدیگر نثری اصناف

کچھ اردو زبان کے بارے میں

آصف اقبال انصاری

اردو ہماری قومی اور تہذیبی زبان ہے۔ یہ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "لشکر” کے ہیں۔ ابتداءً اردو کو مختلف زمانوں میں مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اس کا سب سے قدیم نام "ہندوی” ہے۔

  برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے آنے کے بعد، مسلمانوں اور یہاں کے باشندوں کی زبانوں کے میل جول سے جو نئی زبان آہستہ آہستہ سامنے آئی، اس کو ” ہندوی ” کے نام سے پکارا گیا۔ چناں چہ اس دور کی اردو کے جو قدیم نسخے ملتے ہیں، وہ اس وقت کے بزرگوں کے ملفوظات میں ہی ملتے ہیں، جو لوگوں سے ان کی ہی زبانوں میں تکلم کیا کرتے تھے۔ پھر اس میں کچھ الفاظ عربی، ترکی اور فارسی کے شامل ہوئے۔ یہ اس کی ابتدائی شکل و صورت تھی۔ بعد ازاں اس کو ہندی کے نام سے پکارا گیا، لیکن اس سے مراد وہ ہندی نہیں جسے آج ہندی کہا جاتا ہے اور جو ہندوستان کی قومی اور سرکاری زبان ہے۔

      اس زبان کا ایک اور قدیم نام "ہندوستان یا ہندوستانی” بھی ہے۔ بعض حضرات اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ یہ نام انگریزوں نے الارٹ کیا، جب کہ حق اور سچ یہ ہے کہ دکھنی دور میں یہ نام کئی تحریر میں ملتا ہے۔ چناں چہ ملا وجہی اپنی تصنیف” سب راس” میں ایک قصے کے آغاز میں رقم طراز ہیں ؛ ” آغاز داستان، زبان ہندوستان” یہ سچ ہے کہ انیسویں صدی کے اکثر انگریز اور دوسرے یورپین مصنفین نے بھی اسے ہندوستان یا اندوستانی کے نام سے یاد کیا ہے۔ اردو کے لیے "زبان اردوئے معلٰی” کا نام بہت بعد میں اختیار کیا گیا۔ سب سے پہلے اس کا تذکرہ میر تقی میر کے تذکرہ ” نکات الشعراء” میں ملتا یے، جس میں "زبان اردوئے معلی” یعنی اردوئے معلی کی زبان کہا گیا ہے۔ انیسویں صدی سے یہ نام اس طرح رائج ہوا کہ قدیم سارے نام متروک ہوگئے، اور اب اسے اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

          اردو کا موجودہ رسم الخط وہی ہے جسے ” نستعلیق” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اردو ٹائپ میں نستعلیق کی جگہ نسخ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اصل ان دونوں کی وہ عربی رسم الخط ہے جو خود  "قنیقی ” رسم الخط سے ماخوذ ہے۔ اردوئے قدیم کے جو قلمی نسخے ملتے ہیں وہ نسخ ہی ہیں، معلوم ہوا کہ نستعلیق کا رواج بعد میں ہوا۔

       دنیا کی جدید ترقی یافتہ زبانوں کی طرح اردو میں ٹائپ اور طباعت کی جدید ترین سہولیات موجود ہیں۔ پہلے اردو کے لیے پتھر کا چھاپے کا رواج تھا جسے” لیتھو” کہتے ہیں۔ اردو کی قدیم کتابیں اکثر و بیشتر اسی سے چھاپی گئیں ہیں۔ لیکن اب اس کی جگہ آفسیٹ اور ٹائپ کا رواج زیادہ ہوتا جارہا ہے۔ اخباروں کے لیے جدید ترین ٹائپنگ مشین موجود ہے۔

       اردو زبان کی ابتداء کے بارے میں مختلف نظریات ہیں۔ بعضوں کا خیال ہے کہ اردو اکبر بادشاہ کے زمانے میں، دلی میں مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگوں کے جمع ہونے سے پیدا ہوئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اردو شاہ جہاں کے عہد میں پیدا ہوئی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اردو کی ابتداء سندھ سے ہوئی، کیوں کہ مسلمان برصغیر پاک و ہند میں سب سے پہلے سندھ میں داخل ہوئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پنجاب کو اس زبان کا گہوارہ قرار دینا چاہیے۔ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اردو کا پہلا گہوارہ دکن کو قرار دینا چاہیے۔ ان دعوؤں کی حقیقت کچھ بھی ہو، مگر اس سے اتنی بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ ہر علاقہ کسی نہ کسی دلیل کی بنیاد پر اردو کی ابتداء کو خود سے منسوب کرتا ہے، اور اس طرح ہر علاقے سے اس کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ کوئی علاقہ بھی ایسا نہیں جس کی یہ علاقائی زبان ہو، جب کہ ہر علاقے کی اپنی مستقل زبان ہے،۔ مثلا: سندھ میں سندھی، پنجاب میں پنجابی اور گجرات میں گجراتی وغیرہ۔ اردو نے ان میں سے کسی کی جگہ نہیں لی اور نہ ہی اردو ان میں سے کسی کی مخالف یا مدمقابل ہے اردو کی حیثیت ان علاقوں کے لیے محض ایک رابطے کی زبان ہے اور یہی وجہ ہے اردو کو قومی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔

              مسلمانوں کے سیاسی زوال اور انحطاط کے بعد جب اقتدار انگریزوں کے ہاتھوں میں آیا تو اقوام مغرب سے میل ملاپ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اردو میں پرتگالی، فرانسیسی اور انگریزی الفاظ کثرت سے شامل ہوئے، جہاں تک انگریزی الفاظ کی شمولیت کا تعلق ہے ان کی فہرست تو طویل ہے۔ یہ سلسلہ سولہویں صدی سے شروع ہو کر بیسویں صدی تک شدت سے اثر انداز ہوتا رہا۔ اگرچہ اردو کو انیسویں صدی کے نصف اول میں ہی دہلی کالج میں اعلیٰ تعلیم اور جدید علوم و فنون کی تدریس کے لیے استعمال کیا جاچکا تھا۔ لیکن انگریزوں نے اپنی حکمت عملی سے انگریزی کو اس ملک کی علمی اور تعلیمی زبان کی حیثیت سے فروغ دینے کی کوشش کی اور اس سے اردو کو ایک بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

          اردو زبان کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر شخص اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ عربی کے بعد اسلام میں مسائل و احکام افکار و نظریات کے جتنے ذخائر اردو میں موجود ہیں، وہ کسی اور زبان میں نہیں۔ قرآن کی تفاسیر ہوں یا احادیث کی تشریحات، روز مرہ کے مسائل ہوں یا مذہبی معاملات، فقہ کی کتابیں ہوں یا سیرت و سوانح، اردو میں ان تمام موضوعات پر بکثرت کتابیں موجود ہیں۔ اس کے علاؤہ برصغیر پاک وہند کی ذہنی اور تہذیبی تاریخ میں مسلمانوں کا جو حصہ ہے، اس کی تفصیل بھی اردو میں ملتی ہے۔ اور کوئی شخص جو اس ملک کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اردو سے قطع نظر نہیں کرسکتا۔ اردو اس اعتبار میں برصغیر پاک و ہند کی قدیم و جدید زبانوں میں سب سے ممتاز ہے۔

مزید دکھائیں

آصف اقبال انصاری

کراچی، پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close