ادبتحقیق و تنقید

کہانی: پاپولر لٹریچر کی

صالحہ صدیقی

اردو ادب کی ایک طویل تاریخ رہی ہے جو کہ کم و بیش پانچ سو سال پر منحصر ہے۔ اردو نے’’بولی ‘‘ سے ’’زبان ‘‘تک کا اور پھر ’’زبان ‘‘ سے’’ادب ‘‘تک کا سفر بہت تیزی سے طے کیا۔ اور تب تک اس میں ادبی تحقیقات کے بعض اسالیب نمودار ہو چکے تھے۔ اس طرح نظم و نثر کے متعدد نمونے ہمیں ابتدأ سے ہی ملنے شروع ہو گئے تھے۔ اور کچھ عرصہ کے بعد ادب میں جب جانچ پرکھ کا اور اس کے قدر و قیمت کا تعین کا رحجان فروغ پانے لگا تو گویا تخلیق کے بعد ’’تحقیق و تنقید ‘‘ کے مراحل بھی طے ہونے لگے۔ خواہ اس زبان کے فروغ میں سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، مذہبی، تعلیمی جو بھی محرکات رہے ہو مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ ’’اردوزبان و ادب ‘‘ کو ہی حاصل ہوا۔ اردو ادب میں تبدیلیوں کے ساتھ اس میں نئی اصناف بھی شامل ہوتی رہی ہیں۔ اور فکشن نے بھی داستان سے ناول اور پھر افسانہ تک کا سفر طے کیا۔ اور آج اردو ادب میں اس کا اہم مقام ہے۔ یوں تو اردو کے نثری اصناف میں داستان، ناول، ڈراما، افسانہ، مختصر افسانہ، خاکا، انشائیہ، مقالہ، صحافت، رپورتاژ، طنز و مزاح، خطوط سبھی شامل ہیں لیکن جن لٹریچر کو سب سے ذیادہ شہرت حاصل ہوئی ان میں داستان، ناول، افسانہ، ڈراما، شامل ہیں۔ داستان، ناول، اور افسانہ در اصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف روپ ہیں۔ ان تینوں صنفوں کو ہی ’’افسانوی ادب ‘‘ یا ’’فکشن ‘‘ کا نام دیا جاتا۔ ان تینوں کی بنیادی خصوصیت ایک ہے اور وہ ہے’’ قصہ پن ‘‘یعنی ہر قدم پر یہ تجسس کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ اور یہ تجسس کی کیفیت ہی فکشن کی جان ہیں۔

اردو ادب میں  لٹریچر کی پاپولیرٹی کی بھی اپنی کہانی ہیں اگر ہم تاریخ کے پنو کی ورق گردانی کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ زمانی اقدار کے مطابق لٹریچر نے اپنی صورت بدلی ہیں۔ ایک وقت تھا جب طویل داستانوں کا دور تھا جب لوگوں کے پاس فرصت تھی اور یہی ان کے وقت گزاری کا سامان بھی تھا۔ وہ ایسے قصے سننا پسند کرتا تھا جس سے عقل حیران رہ جائے۔ جنھیں ہم ما فو ق الفطری عناصر بھی کہتے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس صنف پر خاص توجہ کی گئی خصوصا فورٹ ولیم کالج کے منصوبے کے تحت وجود میں آئی جن میں معروف داستانوں میں باغ و بہار(میر امن ) آرائش محفل، اور طوطا کی کہانی (حیدر بخش حیدری )، داستان امیر حمزہ (خلیل علی خان اشک )، نثر بے نظیر (بہار علی حسینی )، بیتال بچیسی (مظہر علی ولا، اوقر للّو لال ) اس کے علاوہ بھی بے شمار ناول جیسے نورتن (محمد بخش مہجور ) فسانہ ٔ عجائب (سرور)، گل صنوبر (نیم چند کھتری ) الف لیلہ، بوسان خیال، طلسم ہوش ربا (مرزا حیرت اور رتن ناتھ سرشار)، وغیرہ ایسی داستانیں ہیں جن کا جادو عوام کے سر چڑھ کر بولا۔ جس کا طلسم اس زمانے کے ہر قاری پر ہوا بعد میں اس پر ٹی وی سیریل اور فلمیں بھی بنیں۔ یہ وہ داستانیں ہیں جن کے بغیر اردو داستان کی تاریخ نامکمل ہیں۔ یہ وہ عرصہ جب داستانوں کا ہی بول بالا تھا جب سیکڑوں داستانیں رقم کی گئی۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیامصروفتیں بڑھی، انسانی زندگی کی ترقی اور سائنسی ایجادات واختراعات نے جب انسان کو گمراہی و غفلت سے باہر نکال کر زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرایا تو فطری طور پروہ خوابوں و خیالوں کی دنیا اور مافوق الفطری عناصر پر مبنی قصوں و کہانیوں سے دور ہونے لگا اور اس کی دلچسپی ان قصّوں میں ختم ہونے لگی۔ روز مرہ کی زندگی میں بڑھتی مصروفیات نے اسے طویل داستانوں سے دور کر دیا۔ کیونکہ اب ان کے پاس اتنا وقت نہیں رہا کہ وہ ان کا مطالعہ کر سکیں۔ لیکن جب ان کو وہ قصہ نظر آیا جو حقیقت پر مبنی تھا اور جو زندگی اور سماج کی حقیقتوں کا ترجمان بھی تھا اور جس کا مطالعہ داستان کے مقابلے کم وقت میں ممکن تھا، جس میں آس پاس کے ماحول کے علاوہ معاشرے کے نشیب و فراز اور تبدیلیوں کا خاکہ پیش کیا جاتا تھا، تو عوام نے اس صنف کو بخوشی قبول کر لیا اور دن بہ دن ترقی کے مراحل طے کر ہر خاص و عام میں مقبول ہوتی چلی گئی۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہے کہ ناول اپنے دور کی تہذیبی اقدار کی کشمکش کا رزمیہ ہوتا ہے۔ اور ان حقایق کی پیشکش کے لیے ناول نگار اپنے تخیل کے زریعہ’’ قصہ پن‘‘کا رنگ گھولتا ہے اور قارئین کے لیے دلچسپ بناتا ہے۔ ناول ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں ایک انسان اپنی زندگی سے متعلق تمام رنگ دیکھ سکتا تھا، اس قصے نے لوگو کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ناول کی غیر معمولی مقبولیت کا راز اس کی اسی جمہوریت پسندی میں مضمر ہے۔ مولوی نذیر احمد کے نزدیک :

’’جس روز سے آدمی پیدا ہوتا ہے اس وقت سے مرنے تک اس کو جو بھی باتیں پیش آتی ہیں۔ اور جس طرح اس کی حا لت بدلا کرتی ہے ان سب کا بیان ہی ناول ہے۔ ‘‘

ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے، اس کی شکل (Novella) ہے۔ جو اردو میں انگریزی کے توسط سے آئی۔ ناول اردو ادب کی اہم شاخ ہے جس میں ادب کی ممتاز شخصیات نے طبع آزمائی کی ہے۔ یہ ایک مشکل فن ہے جس میں کچھ فنی لوازم بھی موجود ہے جس کے بغیر بہترین ناول کی تخلیق ممکن نہیں۔ ناول کے اجزائے ترکیبی میں (۱) قصہ (۲) پلاٹ (۳) کردار نگاری (۴) مکالمہ نگاری (۵) منظر نگاری (۶) نقطہ ٔ  نظر کا ہونا لازمی ہے۔ جس کے بغیر ناول کا تصورممکن نہیں۔ نذیر احمد  سے اردو ادب میں ناول نگاری کی بنیاد پڑیں۔ جس طرح انگریزی میں رچرڈسن کی تخلیق ’’پامیلا‘‘سے ناول نگاری کا آغاز ہوا اسی طرح اردو میں نذیر احمد ؔ کی ’’ مرأۃ العروس1869 ‘‘، ’’توبتہ النصوح1877 ‘‘، ’’بنات النعش1873‘‘، ’’ ابن الوقت 1888‘‘، اور’’ ایامیٰ رویائے صادقہ ‘‘جیسے ناول اردو ناول کا نقطۂ آغاز کہے جا سکتے ہیں۔ نذیر احمد نے ان تمام ناولوں کو طبقۂ نسواں کے مسائل کو اور ان کی اصلاح کے لیے لکھے تھے۔ اس صنف کی مقبولیت اور ابتدأ ہی سے تخلیق کاروں کی اس صنف کی طرف رحجان کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہیں کہ ابتدأ ہی سے ہمیں ناول نگاروں کی ایک طویل فہرست دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین قلم کا ر بھی پیش پیش رہیں ان میں شامل ہیں (1)حسن شاہ کا ناول ’نشتر‘ (2)ڈپٹی نذیر احمد : بنات النعش، توبتہ النصوع، مرأ ۃالعروس، ابن الوقت، ایامیٰ، رویائے صادقہ، فسانہ ٔ آزاد (3)شادعظیم آبادی  صورت الخیال (4)پنڈت رتن ناتھ سرشار : سیر کہسار، جام سرشار، فسانہ ٔ آزاد (5)عبدالحلیم شرر :ملک العزیز ورجینا، حسن انجلینا، فلور افلورنڈا، ماہ ملک، مینا بازار، فردوس بریں (6) سید افضل الدین : فسانہ ٔ خورشید (7) سید افضل الدین : فسانہ ٔ خورشید (8) فرزند احمد صفیر :جوہر ملاقات (9)رشیدۃالنساء : اصلاح النساء(10)راشد الخیری : صالحات، منازل السائرہ، صبح زندگی، شام زندگی شب زندگی (11)مرزا ہادی رسوا :شریف زادہ، امراؤ جان ادا، ذات شریف، (12)آغا شاعر :ہیرے کی کنی، ارمان، (13)محمدی بیگم : صفیہ بیگم، سگھڑ بیٹی، آج کل (14)پریم چند : اسرار معابد، چوگان ہستی، نرملا، گوشہ ٔ عافیت، گئودان، میدان عمل (15)اکبری بیگم :گوڈر کا لال(16)مرزا عباس حسین ہوش : خواب ہستی، یاسمین (17)فیاض علی : انور، شمیم (18)صغریٰ ہمایوں مرزا : مشیر نسواں، سر گذشت ہاجرہ، موہنی، بی بی طوری کا خواب (19)بدرالزماں بدر کلکتوی : احسن (20)قاضی حبیب الحسن رسا : وصل حبیب (21)نذر سجاد حیدر : اختر النساء بیگم، جانبار، آہ مظلوماں، ثریا، نجمہ (22)علی عباس حسینی : سرسید احمد پاشا یا قاف کی پری (23)قاضی عبد الغفار : لیلیٰ کے خطوط، مجنوں کی ڈائری، (24)نیاز فتح پوری : ایک شاعر کا انجام، شہاب کی سرگذشت (25)گوبند پرشاد آفتاب : نور آفتاب (25)ظفر عمر: نیلی چھتری، بہرام کی گرفتاری، لال کٹھو (26)پنڈت کرشن پرشاد کول : شیاما (27)عرش گیاوی : ثمر نافرمانی (28)قاری سرفراز حسین عزمی : شاہد رعنا (29)مسز الف ظ حسن : روشن بیگم (30)سید علی سجاد عظیم آبادی : محل خانہ (31)امداد امام اثر : فسانہ ہمت (32)شمس گیاوی : نشترحیات (33)سجاد ظہیر : لندن کی ایک رات (34)حمیدہ سلطان : ثروت آرا بیگم، رنگ محل، بہار و خزاں (35)کوثر چاند پوری : ویرانہ، داستانیں، سب کی بیوی، اغوا، توڑ دو زنجیریں، پیاسی جوانی، راکھ اور کلیاں، فریدہ موہنی، محبت اور سلطنت، عشق نہ دیکھے، شام غزل (36)کرشن چندر : شکست، گدھے کی سر گذشت، گدھے کی واپسی، چاندنی کا گھاؤ، ایک عورت ہزار دیوانے وغیرہ۔ اردو ناول کی دنیا میں صنف ناول کو بام عروج تک پہنچانے والے یہ تمام ناول انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

اردو میں کئی طرح کے ناول لکھے گئے ادبی، اصلاحی، جاسوسی۔ ادبی اور اصلاحی ناول تولکھنے کا سلسلہ ابتداء سے آج تک بدستور جاری ہیں۔ لیکن جاسوسی ناول کی پاپولیرٹی کا ایک زمانہ تھا۔ 1948میں جب عباس حسینی نے ماہنامہ ’’نکہت‘‘ کا آغاز کیا، تو اس رسالے میں شعبۂ شاعری کی نگرانی کے لیے ابن صفی کو مقرر کیا گیا جبکہ شعبہ ٔ نثر کے نگراں ابن سعید (پروفیسر مجاور حسین رضوی) تھے۔ یہی سے ابن صفی نے اصل لکھنے کی شروعات کیں۔ ابن صفی نے اس رسالے کے لیے جاسوسی ناول لکھے۔ جاسوسی ناول کی دنیا سے آگہی اور اپنے انوکھے انداز بیاں سے ابن صفی نے ہر اردو داں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ ابن صفی کے ناول اس قدر مقبول ہوئے کہ جس کو پڑھ کر نہ جانے کتنے اہل قلم نے لکھنے کی ابتدأ کی، یہ بھی کہا جاتا ہیں کہ ابن صفی کی کتابوں نے کئی نسلوں کی تربیت کا کام بھی انجام دیا۔ انھوں نے ان کی پاپولیرٹی کا یہ بھی عالم تھا کہ ان کے ناول کے ایک ایک کردارعمران، کیپٹن حمید، کرنل فریدی جیسے ان گنت کردار لوگوں کی زبان پر تھے، ابن صفی کی شہرت و مقبولیت کو دیکھ بے شمار تخلیق کاروں نے اس صنف میں دست آزمائی کی۔ بقول مشرف عالم ذوقی ’’جاسوسی ناولوں سے محبت کرنے والے اس دور میں ابن صفی سے ملتے جلتے کئی ناموں کی بارش ہو چکی تھی، مگر ابن صفی کا انداز کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ ‘‘ عالم یہ ہیں کہ آج بھی ان کے چاہنے والوں کی طویل فہرست ہیں۔ اس کی اہم وجہ شاید یہ بھی ہو کہ پچاس برس قبل (۵۰) لکھے گئے ناول آج کے تناظر کا حال بیاں کرتی ہیں۔ اور بڑے فنکار کا کمال ہی یہی ہے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کی تحریروں کی تازگی بنی رہے، ابن صفی کے ناول ایسے ہی ہیں۔ جو آج کی ترقی یافتہ اور ٹکنالوجی سے بھرے بازار میں اپنے قاری کو چونکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ جو مقبولیت جو شہرت ابن صفی کے حصے آئی وہ شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو، ان کے بعد یا ان کے پہلے آج تک کوئی ابن صفی کا ثانی پیدا نہیں ہوا ان کا مقام اپنی جگہ آج بھی قائم ہیں۔

داستان تو بدلتے وقت کا ساتھ نہ دے پائی لیکن ناول کی مقبولیت اور اس کی ہر دل عزیزی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہیں کہ اردو ادب میں اپنی پیدائش سے لے کر دور حاضر تک یہ اسی طرح پڑھی اور لکھی جا رہی ہیں۔ اور ہر دور کے سماج کا آئینہ بن کے نئے نئے روپ دھارن کر رہی ہیں۔ جس طرح شاعری میں غزل کی مقبولیت کبھی کم نہیں ہوئی اسی طرح اردو نثر میں ناول کی مقبولیت اپنی جگہ قائم ہیں یہ الگ موضوع ِ گفتگو ہیں کہ لکھنے والوں کی تعداد آج اتنی نہیں جتنی پہلے ہوا کرتی تھی۔

دوحاضر میں جن تخلیق کاروں نے اس صنف کی باگ ڈور اپنے کاندھو پر سنبھال رکھی ہیں ان میں  (1)اقبال مجید :ناول : نمک، اس دن، (2)شفق :ناول : بادل، کابوس، کانچ کا بازی گر (3)صلاح الدین پرویز : نمرتا، سارے دن کا تھکاہوا پرش، ایک دن بیت گیا، آئینڈ یٹیٹی کارڈ ’’ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ‘‘ دی وار جرنلس، ایک ہزار دو راتیں (4) شمس الرحمن فاروقی : کئی چاند تھے سر آسماں (5)عبد الصمد :ناول :دو گز زمین ’’ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتہ ‘‘، بکھرے اوراق، شکست کی آواز، مہاتما، خوابوں کا سویرا، مہا ساگر، دھمک (6) ساجدہ زیدی : موج ہوا پیچا، مٹی کے حرمارے جہاں کا (7)ترنم ریاض : مورتی، برف آشنا پرندے (8) زاہدہ زیدی : انقلاب کا ایک دن (9)پیغام آفاقی : مکان، پلیتہ (10) کوثر مظہری : آنکھ جو سوچتی ہے ثروت خاں : اندھیرا پگ (11) صادقہ نواب سحر : کہانی کوئی سناؤ متاشا، جس دن، (12)، شموئل احمد : ناول :مہاماری، ندی (13)، غضنفر :ناول : پانی، مم، کینچلی، دویہ بانی، فسوں، وش منتھن، شوراب، مانجھی، (14)پیغام آفاقی :ناول، مکان (15)مشرف عالم ذوقی :لے سانس بھی آہستہ، نالہ ٔ شب گیر (16)حسین الحق(17)، شائستہ فاخری (18)، نورالحسنین، (19)سید محمد اشرف(20)، خالد جاوید، (21)احمد صغیر، رحمٰن عباس، وغیرہ کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

ناول کے بعد جس صنف کو ہر دل عزیز صنف کا درجہ حاصل ہے وہ ہیں افسانہ۔ افسانہ نگاری کی بنیاد گزار پریم چند کو مانا جاتا ہیں۔ 1936سے 1947 کا زمانہ مختصر افسانوں کے عروج کا دور کہا جا سکتا ہیں۔ اس دور کے ممتاز افسانہ نگاروں میں پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، سلطان حیدرجوش، سجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتحپوری کی رکھی ہوئی بنیاد پر آنے والے بیس، پچیس برسوں میں علی عباس حسینی، مجنوں گورکھپوری، احمد نسیم قاسمی، حسن عسکری، اور ممتاز مفتی، نیاحمد اکبر آبادی، کوثر چاندپوری وغیرہ جیسے اہم افسانہ نگاروں نے افسانوی فن کی ایک ایسی عمارت تعمیر کہ جس میں زندگی کی حقیقتیں اور فن کی رعنائیاں دست بدست ایک دوجے کو سہارا دیتی دکھائی دیتی ہیں، پھر قر ت العین حیدر، انتظار حسین ہاجرہ مسرور، اور خدیجہ مستور، کا زمانہ آیا۔ اس زمانے میں افسانہ نگاروں کی تعدا د میں اضافے کت ساتھ ساتھ نئے موضوعات بھی شامل ہوئے۔ بہر حال افسانہ اپنی ابتداء سے آج تک ہر دل عزیز بنی ہوئی ہیں اور اس میں دست آزمائی کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہیں۔ اردو نثر کا شاید ہی کوئی ایسا تخلیق کار ہو جس نے افسانہ نہ لکھا ہو۔ افسانے میں زندگی کے کسی ایک پہلو کو موضوع سخن بنا یا جاتا ہیں۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ لٹریچر کی پاپولیرٹی یا اس کی مقبولیت ہر زمانے میں اس کے اقدار کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔ ادب سماج و معاشرے کا آئینہ ہوتا ہیں۔ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا، مصروفتیں بڑھی، لٹریچر کی صورت بھی بدلتی رہی۔ آج کا زمانہ موبائل، لیپ ٹاب، انٹر نیٹ کا زمانہ ہیں جہاں ایک کلک پر ہمیں دنیا بھر کی معلومات فراہم ہو جا تی ہیں۔ فیس بک، وہاٹ سپ، گوگل کے زمانے میں لکھنے کا چلن بھی کم ہو رہا ہیں۔ آج کا زمانہ تو وہ ہیں کہ لفظوں کی گنتی کے مطابق لٹریچر لکھا جا رہا ہیں 20لفظوں کی کہانی 100لفظوں کی کہانی اس کا ادب پر آنے والے وقت میں کیا اثر ہوگا ؟ یہ غور فکر کا مسئلہ ہیں۔ بہر حال لٹریچر کوئی بھی ہو فائدہ ہمیشہ ادب کو ہی ہوا ہیں اور ہر زمانے میں اس کی اپنی اہمیت رہی ہیں جس سے انکار ممکن نہیں۔

مزید دکھائیں

صالحہ صدیقی

ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

متعلقہ

Back to top button
Close